لطیف کھوسہ پنجاب کے نئے گورنر

عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شروع ہونے والی وکلاء کی تحریک میں لطیف کھوسہ پیش پیش تھے تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اس تحریک سے علیحدہ ہوگئے
،تصویر کا کیپشنعدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شروع ہونے والی وکلاء کی تحریک میں لطیف کھوسہ پیش پیش تھے تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اس تحریک سے علیحدہ ہوگئے
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے سابق مشیر اور قانون دان سردار لطیف خان کھوسہ کو پنجاب کا نیا گورنر مقرر کردیا ہے۔ چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ جسٹس اعجاز احمد چودھری نئے گورنر پنجاب سے حلف لیں۔

سردار لطیف کھوسہ کو سلمان تاثیر کی جگہ گورنر پنجاب بنایا گیا ہے جنہیں چار جنوری کو اسلام آباد میں ان کے محافظ نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

صدر آصف زرداری نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر لطیف کھوسہ کو صوبے کا گورنر مقرر کیا ہے۔

سردار لطیف کھوسہ پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے دورِ اقتدار میں تیسری مرتبہ کسی عہدے پر فائز کیا ہے۔

لطیف کھوسہ اس سے پہلے اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر اعظم کے مشیر کے عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔

سردار لطیف احمد خان کھوسہ پچیس جولائی انیس سو چھالیس کو جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے اور طالب علمی کے دوران ہی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے صدر بنے۔ انہوں نے وکالت کے ساتھ ساتھ وکلا سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔

سردار لطیف کھوسہ تین مرتبہ ہائی کورٹ بار ملتان بنچ کے صدر منتخب ہوئے اور ملک میں وکلا: کی سب بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بارکونسل کے تین مرتبہ رکن چنے گئے۔

سنہ دو ہزار میں لطیف خان کھوسہ نے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کے پروفیشنل گروپ سے علیحدگی کرتے ہوئے الگ گروپ تشکیل دیا جسے بار کی سیاست میں کھوسہ گروپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ بار کا انتخاب بھی لڑا لیکن وہ وکیل رہنما حامد خان سے شکست کھاگئے۔

سردار لطیف کھوسہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات میں ان کی پیروی کی اور دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد وہ پیپلز پارٹی کیطرف سے سینیٹر منتخب ہوئے۔

پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنی جلاوطنی کے بعد جب لاہور میں آئیں تو انہوں نے سردار لطیف کھوسہ کے گھر میں قیام کیا اور اس جگہ انہیں نظر بند کردیا گیا تھا۔یہ بینظیر بھٹو کا لاہور کا آخری دورہ تھا اور یہ نظر بندی بھی ان کی زندگی کی آخری نظربندی تھی۔

معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شروع ہونے والی وکلاء کی تحریک میں لطیف کھوسہ پیش پیش تھے تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اس تحریک سے علیحدہ ہوگئے جس پر اُنہیں وکلاء کی طرف سے نہ صرف شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بعض ڈسٹرکٹ بار میں اُن کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

سردار لطیف کھوسہ پیپلز پارٹی کی وکلا تنظیم پیپلز لائیرز فورم پاکستان کے صدر بھی ہیں اور گورنر کے عہدے پر تقرری کے اب یہ عہدہ بھی خالی ہوگیا ہے۔

سردار لطیف کھوسہ کوانیس اگست دو ہزار آٹھ کو جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا لیکن ایک سال کے بعد ہی انہیں اس وقت اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جب مغفور شاہ نامی شخص نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ان پر ایک مقدمے میں مدعی کو بری کروانے کے لیے ججوں کے نام پر اُن سے تیس لاکھ روپے لینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اُن کے خلاف بدعنوانی کی درخواست چیف جسٹس آف پاکستان افتحار محمد چوہدری کی ایماء پر دی گئی ہے اور ان کی برطرفی میں چیف جسٹس پاکستان کا ہاتھ ہے۔

اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹنے کے بعد انہیں دس فروری دو ہزار دس کو وزیر اعظم نے اپنا مشیر بنا لیا لیکن کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیْ دے دیا تھا جسے منظور نہیں کیا گیا۔

بطور مشیر لطیف کھوسہ نے اپنی ہی وزارت کے بارے میں وائٹ پیر بھی شائع کیا ۔

گزشتہ برس لطیف کھوسہ نے وزیر اعظم کے مشیر کے عہدے سے استعفیْ دے کر این آر او کیس میں بطور وکیل اپنا وکالت نامہ جمع کرایا اور اس مقدمہ میں حکومت کی طرف سے پیروی کی۔

لطیف کھوسہ کے گورنر بنے کے بعد اب وفاقی حکوت این آر او کیس میں پیروی کے لیے نیا وکیل کو تلاش کرنا ہوگا۔