’قادری کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں‘

ممتاز قادری
،تصویر کا کیپشنممتاز قادری نے اکتیس دسمبر کو اس مولوی سے ملاقات کی تھی

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے حقائق جاننے کےلیے قائم کی جانے والی کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش سے یہی سامنے آیا ہے کہ ممتاز قادری کا تعلق کسی شدت پسند یا کالعدم تنظیم سے نہیں ہے۔

تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق پولیس کو اس مولوی کی تلاش ہے جس نے مبینہ طور پر ممتاز قادری کو اشتعال دلایا تھا اور اس کام کے لیے اکسایا تھا۔

سلمان تاثیر کو چار جنوری کو اسلام آباد میں ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والے ان کے حفاظتی دستے کے ایک رکن ممتاز قادری نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ممتاز قادری نے کہا تھا کہ یہ اس کا ذاتی فعل ہے اور اس نے یہ قدم سلمان تاثیر کی جانب سے ناموسِ رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے پر اٹھایا۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چار دن سے جاری تفتیش کے دوران کوئی ایسا ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ ممتاز قادری کا تعلق کسی شدت پسند یا کالعدم تنظیم سے ہے۔

رکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف ممتاز قادری ہی نہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے ماضی کو بھی کھنگالا گیا ہے اور ان کا تعلق کسی بھی شدت پسند یا کالعدم تنظیم سے نہیں نکلا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ممتاز قادری نے قتل کے بعد دورانِ تفتیش پہلے دن جو بیان دیا تھا تاحال تمام شواہد اسی کی تصدیق کر رہے ہیں۔

پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کے ایڈیشنل آئی جی ناصر خان درانی کی سربراہی میں بنائی گئی اس کمیٹی نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب راولپنڈی کے آر پی او اور ڈی آئی جی حامد مختار گوندل کا بیان بھی ریکارڈ کیا ہے۔ اس سے قبل یہ کمیٹی راولپنڈی پولیس کے چیف سکیورٹی افسر خالد ستی اور اعجاز یوسف سے تفتیش کر چکی ہے۔

کمیٹی نے اتوار کو پنجاب کے وزیراعلٰی شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور انہیں اب تک اس معاملے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

دوسری جانب پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ممتاز قادری نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک مولوی نے یہ قتل کرنے کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ممتاز قاردی نے اکتیس دسمبر کو راولپنڈی کے علاقے صادق آباد میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی جہاں اس مولوی نے توہینِ رسالت کے موضوع پر خطاب کیا تھا۔

اس خطاب سے متاثر ہو کر ممتاز قادری نے اس مولوی سے ملاقات کی جس میں توہینِ رسالت کے مرتکب افراد کو قتل کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ اسی ملاقات میں مولوی نے ممتاز کی اس قتل کے لیے حوصلہ افزائی کی۔

میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس حکام کے مطابق اس مولوی کے بارے میں معلومات حاصل کر لی گئی ہیں اور اس کا نام مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل کر دیا گیا ہے