تاثیر کا قتل: نوجوانوں میں شدت پسندی کا بڑھتا رجحان

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے جہاں وی آئی پی سکیورٹی، قتل کے سیاسی ہونے یا نہ ہونے کی بحث چھیڑ دی ہے، وہیں مبصرین کے مطابق نوجوان نسل میں پائے جانے والے انتہا پسند رجحانات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
رابطے اور نیٹ ورکنگ کے فیس بک اور ٹویٹر پر جو ردِ عمل دیکھا جا رہا ہے وہ تجزیہ نگاروں کے بقول حکومت اور معتدل خیالات رکھنے والوں کے لیے کافی حیران اور پریشان کن ہے۔
قتل میں ملوث ممتاز قادری کی غازی اور ہیرو کے طور پر تعریف کی جا رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ان پر تنقید والے صفحات بھی بنے ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
<link type="page"><caption> نوجوانوں میں شدت پسندی کا بڑھتا رجحان: آڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110107_facebook_taseer_murder_disco_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکہ میں نیویارک میں ناکام حملے کی کوشش میں گرفتار پاکستانی نوجوان فیصل شہزاد کی حد تک اکا دکا واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں لیکن پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی قتل کی حمایت میں بڑی تعداد میں نوجوان کھل کر اس طرح سامنے آئے ہیں۔
فیس بک نامی مقبول سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ نے جو اب تک دوستی، میل ملاپ اور رابطے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو سامنے رکھ دیا ہے۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ فیس بک پاکستان کے کسی غریب پسماندہ علاقے میں قائم کسی مدرسے کا طالب علم کم ہی استعمال کرتا ہے۔ اس کے صارفین کی بڑی تعداد کھاتے پیتے، پڑھے لکھے اور بظاہر معتدل گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں اکثریت بیچلر اور ماسٹر ڈگری کے طالب علم ہیں جبکہ باقی اچھی نوکریوں اور دفاتر میں ملازم ہیں۔
انگریزی روزنامے دی ڈیلی ٹائمز کے مدیر راشد رحمان اس بات سے متفق ہیں کہ اس رحجان میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ ’نوجوان نسل کو کیوں الزام دیں۔ ہمارے ہاں جو تعلیمی نظام ہے اور سیاسی افق پر دائیں بازو کا نظریہ حاوی ہے۔ اس دائیں بازو میں سینٹر سے لے کر انتہا پسندی تک کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہی نوجوان نسل کو ورثے میں مل رہا ہے اور یہیں وہ پڑھ رہے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق استاد اور باچہ خان فاونڈیشن کے ساتھ منسلک خادم حسین کہتے ہیں کہ مخصوص مقاصد کے لیے ملک میں سرکاری سرپرستی میں جمہوری عمل کو طویل عرصے تک روکنے سے نوجوان نسل تضادات کی شکار ہوگئی۔ ’ایک طرف وہ اسامہ یا ممتاز قادری کو تو دوسری جانب مائیکل جیکسن کو ہیرو بنائیں گے۔ دونوں کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل زمین کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہے‘۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں انسان کی موت پر خوشی نہیں منائی جاتی۔ کسی کا قصور کتنا بھی سنگین ہو، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اور بغیر کسی ٹرائل کے کسی کو مار دینا بھی ایسے کسی معاشرے کو جائز قرار نہیں دیتا۔
لیکن فیس بک پر سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی جانب سے ممتاز قادری کی تعریف اور اسے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے اس معاشرے کی سمت اور رحجانات پر تشویش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
بعض لوگوں کے خیال میں پاکستانی معاشرہ پہلے سے ہی انتہا پسندی کی لپیٹ میں تھا۔ اگر یہ واقعہ دو چار سال پہلے ہوتا تو شاید انٹرنیٹ اور خصوصا فیس بک جیسی ویب سائٹس کی عدم موجودگی میں یہ ردِ عمل سامنے نہ آتا۔ ہمیں معلوم نہ ہوتا کہ انتہا پسندی کس حد تک معاشرے میں رچ بس گئی ہے۔
لیکن بعض ماہرین کے خیال میں افغان جنگ کے بعد اس خطے میں آنے والے شدت پسندی کے سیلاب نے نوجوان نسل کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کے مطابق شدت پسندی میں ان حالات سے اضافہ ہوا ہے۔
ایسا نہیں کہ ممتاز قادری کے عمل کے خلاف فیس بک پر صفحات نہیں بنے۔ بنے ضرور ہیں لیکن ان کی تعداد، ممتاز قادری کی حمایت میں بننے والے صفحات سے کافی کم ہے۔
جن لوگوں نے ممتاز قادری کی تعریف کی ہے ان کے پروفائل (تفصیلات) دیکھیں تو ہر کوئی بظاہر پڑھا لکھا، کے ایل ایم جیسی مغربی فضائی کمپنی میں ماضی میں کام کرچکے ہیں۔ ایک شخص گیند سے کھیلتی ایک بچی کو اٹھائے ہوئے ہیں، ایک حامی نے کراچی اور برطانیہ میں اپنی رہائش ظاہر کی ہے۔ لاہور کے ایک فیس بک صارف جہاں ممتاز قادری کے مداح ہیں وہیں شکیرا بھی ان کی پسند ہے۔ کئی مشکوک صارفین نے اپنی جگہ اپنی پروفائل تصویر بھی ممتاز قادری کی ڈال دی ہے۔

ان سب افراد نے ایسا نادانی میں کیا یا جان بوجھ کر لیکن ان میں اکثر کے یہ خیالات یقینًا اس معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں کہ کیسے کسی انسان کے قتل کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کے خیال میں فیس بک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
بات فیس بک اور ٹویٹر تک محدود نہیں بلکہ ای میل گروپس کے بھی بعض منتظمین اپنی سوچ نہیں چھپا سکے۔ پشاور کے ایک ایسے ہی صحافی کی جاری ای میل میں بھی انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
ہم کس سمت میں جا رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تاثر کہ افغان جنگ کے دوران پلی بڑھی نسل ہی شدت پسندی سے متاثر ہے لیکن نئی نسل کے ان بعض اراکین کی یہ حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ انتہا پسندی کا دیمک ہر کسی کو متاثر کر رہا ہے۔ یا پھر ہر کوئی ریڈ لائن کے اردگرد بیھٹا ہے۔ جب جی چاہتا ہے اس ریڈ لائن کو پار کرکے ممتاز قادری کے حامی بن جاتے ہیں اور جب چاہیں شکیرا کے دالداہ۔







