اڈیالہ جیل کیس: ’بازیابی نہیں تو جیل‘

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد بازیاب نہ ہوئے تو پنجاب کے ہوم سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی او) سمیت اعلیٰ افسران کو جیل جانا پڑے گا۔

عدالت نے پنجاب کے چیف سیکرٹری کو اس ضمن میں منگل کے روز عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے رہائی کے حکم کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے پنجاب کے چیف سیکریٹری کا خط عدالت میں پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ان افراد کی بازیابی کے سلسلے میں بےبس ہیں۔

چیف سیکرٹری پنجاب کا کہنا تھا کہ ان افراد کے حوالے سے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی)، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) اور ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) سے رابطہ کیا گیا ہے اور متعلقہ افراد نے لاپتہ افراد سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ان افراد کی بازیابی کے سلسلے میں بےبسی کا اظہار کر رہی ہے تو پھر عدالت کیا کرے گی۔

واضح رہے کہ سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کے طیارے پر حملے، راولپنڈی میں حمزہ کیمپ پر خودکش حملہ اور کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر ہونے والے خودکش حملے سمیت چار مقدمات میں گرفتار ہونے والے گیارہ افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس سال اپریل میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔

رہائی کے بعد ان افراد کو نامعلوم مسلح افراد زبردستی گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے تھے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کے وکلاء اور رشتے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے۔

ہائی کورٹ کے حکم پر اس واقعہ سے متعلق درخواستوں میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور سپریم کورٹ کے حکم پر ان اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

سماعت کے دوران آئی جی جیل خانہ جات ندیم کوکب نے عدالت میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ سعید گوندل کی چھٹیوں کا ریکارڈ پیش کیا۔ ریکارڈ کے مطابق جس روز یہ واقعہ پیش آیا اس روز وہ چھٹی پر تھے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے آئی جی جیل خانہ جات کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی کو چھٹی دی جاتی ہے اس پر تاریخ اور وقت کا اندراج بھی ہوتا ہے لیکن یہاں پر ایسا کچھ نہیں ہے۔

آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل اور ملتان جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو طالبان اور کالعدم تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے ان جیلوں کے اعلیٰ حکام ایسے ہی چھٹی لیتے ہیں۔ عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات کا موقف مسترد کر دیا۔