لائن آف کنٹرول: ’بھارت کی جانب سے فائرنگ‘

پاکستان کے زیر انتظٌام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی سہ پہر لائن آف کنٹرول پر پھارتی فوج نے فائرنگ کی ہے جس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
راولاکوٹ کے علاقے ہاجرہ کے اسسٹنٹ کمشنر راجہ ارشد محمود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بٹل کے علاقے میں بھارتی فوج نے فائرنگ سہ پہر ساڑھے تین بجے شروع کی۔
بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ اس فائرنگ کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق بھارتی فوج مارٹر، آرٹلری اور ہلکے ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں ابھت تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
راجہ ارشد محمود خان کہ بھارتی فوج پاکستان کے اگلے مورچوں کو ہدف بنا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں پر بھی فائرنگ کر رہی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر کا مذید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی جا رہی ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
تاہم بھارتی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ فائرنگ بھارتی فوج کی جانب سے شروع کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر ستیش دؤا نے دعویٰ کیا کہ سرحد پار سے تین چوکیوں پر فائرنگ کی گئی اور یہ ’بلااشتعیال فائرنگ جنگ بندی کی خِلاف ورزی ہے‘۔
ان کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں پیش آیا۔
’فائرنگ دوپہر ساڑھے تین بجے شروع ہوئی جس میں مارٹر، مشین گن اور راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔‘
جموں سے نامہ نگار بینوں جوشی کے مطابق آخری اطلاعات ملنے تک فائرنگ جاری تھی لیکن اس کی شدت کم ہوگئی تھی۔
برگیڈیر دؤا کے مطابق ہندوستانی فوج نے ’پاکستانی بندوقوں کو خاموش کرنے کے لیے ضبط سےکام لیتے ہوئے جوابی فائرنگ کی‘۔







