ایل او سی پر فائرنگ، چھ سالہ بچی ہلاک

نومبر سنہ دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا
،تصویر کا کیپشننومبر سنہ دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی شام لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک چھ سالہ بچی ہلاک ہوگئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کے بعد اب تک ان سات سالوں کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں کوئی عام شہری آیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر چوہدری رقیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہندوستان کی فوج نے منگل کو مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دھرمسال گاؤں پر بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ شروع کر دی‘۔

یہ گاؤں لائن کنٹرول پر واقع ہے اور یہاں سے ہندوستان کی فوج کی چوکیاں چند سو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ‘یہ فائرنگ پندرہ منٹ تک جاری رہی اور ہندوستان کی فوج نے اس فائرنگ میں ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا‘۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے دوران ایک گولی ایک چھ سالہ بچی کے سر میں اس وقت لگی جب وہ اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی۔ چوہدری رقیب کے مطابق بچی کو فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔

ڈپٹی کمشنر نے یہ نہیں بتایا کہ آیا پاکستان کی فوج نے بھی جوابی فائرنگ کی یا نہیں۔ خیال رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں البتہ ان سات سالوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق ہندوستان کی فوج کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک بچی سمیت دو عام شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوچکے ہیں۔

فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔ اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں عام شہری ہلاک و زخمی یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوئے اور لوگوں کی جائیدادوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔