سیالکوٹ قتل، ضمانت پرعدالتی نوٹس

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشندونوں بھائیوں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا

لاہور ہائی کورٹ نے سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی میں دو سگے بھائیوں کی وحشیانہ تشدد کے بعد ہلاکت کے مقدمہ میں نامزد سابق ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کی ضمانت پر رہائی کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے یہ نوٹس حکومت پنجاب کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظو کرتے ہوئے دیا ہے۔

اپیل میں ماتحت عدالت کی طرف سے سابق ڈسٹرکٹ پولیس افیسر وقار احمد چوہان کی ضمانت منظور کرنے کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

حکومت پنجاب کی اپیل پر ابتدائی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ہے۔

نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر جنرل سید احتشام قادر شاہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس افیسر وقار چوہان اس وقت موقع پر موجود نہیں تھے جب دونوں بھائیوں کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔

لیکن اس واقعہ کے بعد لاشوں کی بے حرمتی ان کی موجودگی میں ہوئی تھی جو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک جرم ہے۔

سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ پولیس افیسر وقار چوہان نے تشدد سے ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کی لاشوں کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے ان لوگوں کے حوالے کردیں جو اس واقعہ میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے اور اس طرح انہوں نے اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی بلکہ جرم کرنے والوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔

سید احتشام قادر ایڈووکیٹ نے یہ استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وقار احمد چوہان کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی رہائی کے اقدامات کو کالعدم قرار دے۔

پندرہ اگست کو سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں بہت سے لوگوں نے دو سگے بھائیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ان کی ہلاکت ہوگئی اور بعد میں ان بھائیوں کی لاش کو شہر میں گھمایا گیا تھا۔

اس واقعہ کی بنائی جانے والی فوٹیج کو پاکستان میں مقامی ٹی وی چینلوں نے نشر کیا جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس کے اعلیٰ افسروں پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی تھی۔

پولیس کے مطابق اس واقعہ کا مقدمہ بیس اگست کو درج کیا گیا جبکہ اکیس اگست کو اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں جس کے بعد بائیس اگست کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔

گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اس وقت اس مقدمہ پر کارروائی کر رہی ہے اور یہ امکان ہے کہ ملزموں پر بائیس اکتوبر کو فردجرم عائد کی جائے۔