’ کالا باغ متنازع، منصوبہ شروع نہیں کریں گے‘

پاکستان کے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم منصوبے پر صوبوں میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے اور حکومت کوئی بھی متنازع منصوبہ شروع نہیں کرے گی۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے بتایا کہ کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ پر اب تک سوا ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن ملک میں اس منصوبے پراتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔
پارلیمان کے فورم پر اُن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب اسمبلی نے چند روز قبل اتفاقِ رائے سے وفاقی حکومت کو سفارش کی تھی کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی جائے۔ پنجاب اسمبلی کی اِس قرارداد کی حمایت حکمران پیپلز پارٹی نے بھی کی تھی۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حق میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد اپنی جگہ پر لیکن پاکستان کے چار میں سے تین صوبوں کی اسمبلیاں پہلے ہی متفقہ طور پر کالاباغ ڈیم کو مسترد کرچکی ہیں اور ایسے میں حکومت صوبوں میں اختلافات پیدا نہیں کرنا چاہتی۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان میں نہری پانی کے ذخیرے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم پر اتفاقِ رائے موجود ہے اور عالمی اداروں نے اس منصوبے کے لیے رقم دینے پر رضا مندی بھی ظاہر کی ہے اس لیے حکومت اس منصوبے پر عمل کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ کالا باغ ڈیم گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان میں انتہائی متنازع منصوبہ رہا ہے۔ صوبہ پنجاب کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کے حق میں ہے اور پنجاب میں ہزاروں ایکڑ زمین قابلِ کاشت ہوجائے گی۔ لیکن صوبہ خیبر پختونخوا کا موقف ہے کہ اُن کا شہر نوشہرہ اور دیگر علاقے کالا باغ ڈیم بننے کی وجہ سے ڈوب جائیں گے۔ جبکہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کہتے ہیں کہ دریائے سندھ میں پہلے ہی پانی کم ہے اور اس ڈیم کے بننے سے ان کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی۔
واضح رہے کہ سابق فوجی صدور ضیاءالحق اور پرویز مشرف کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کئی بار کالا باغ ڈیم بنانے کی کوشش کی لیکن تینوں صوبوں کی سیاسی مزاحمت کے بعد وہ اس منصوے سے پیچھے ہٹ گئے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ بھارت نے دریائے سندھ اور جہلم پر دو منصوبوں کے بارے میں پاکستان کے اعتراضات دور کردیے ہیں۔ جس میں جہلم پر دو سو چالیس میگا واٹ کے اُڑی II اور دریائے سندھ کی ایک شاخ سوری پر چوالیس میگا واٹ کے بجلی گھروں کی تعمیر شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ُان کے بقول دریائے سندھ پر پینتالیس میگا واٹ کے بھارت کے نِمو بازغو پلانٹ کے متعلق بھارت نے پاکستان کے بعض اعتراضات تسلیم کیے ہیں اور پاکستان نے نیلم دریا پر تین سو تیس میگا واٹ کے کشن گنگا منصوبے کے خلاف عالمی ثالث سے رجوع کیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو بتایا ’میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے‘ منصوبے کے تحت سنہ انیس سو ترانوے چورانوے میں جاپان کے تعاون سے تریسٹھ ہزار دیہاتوں کو بجلی فراہم کی گئی تھی۔







