کالاباغ ڈیم اور نانی جی کا گھر

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نوشہرہ
وکلا میں سیاست بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اور ہر مسئلے پر بحثیت ایک ماہر بولنے کی عادت بھی۔ گزشتہ دنوں سیلاب سے بری طرح متاثرہ نوشہرہ ضلع گیا تو وہاں کی کچہری میں بھی باتوں کے دوران کالا باغ ڈیم کا تذکرہ سننے کو ملا۔ یہاں کالا باغ ڈیم کے متنازع منصوبے کا نام لیں اور تلواریں نکل آتی ہیں۔
نوشہرہ ان اضلاع میں شامل ہے جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے یہ تباہ ہو جائے گا۔ کوئی پانچ سال پہلے جب اس منصوبے پر ملک میں ایک مرتبہ پھر گرما گرم بحث جاری تھی تو میں یہاں ان وکیلوں سے ان کی رائے جاننے آیا تھا۔ جب ریکارڈنگ لندن بھیجی تو سوال آیا یہ تو یک طرفہ بحث ہے یہ کیسے چل سکتی ہے۔ سب شرکا تو ڈیم کے مخالف ہیں۔ جواب دیا کہ یہ نوشہرہ ہے یہاں ڈیم حامی شخص کا رہنا مشکل ہے۔ آج یہاں دوبارہ آنے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ان وکلا کی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں لیکن ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا۔
شاہد ریاض برکی نوشہرہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب نے ان کی سوچ کو مزید پختہ کر دیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر اب اتنا پانی آ سکتا ہے تو کالا باغ ڈیم کی جھیل نوشہرہ کو ڈبو سکتی ہے۔ ‘اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ لوگ اس ڈیم کے حق میں ہوں’۔
ان کا موقف ہے کہ ڈیم بنتے ہیں پانی ذخیرہ کرنے اور اس کے بہاو کو روکنے کے لیے۔ ‘ورسک ڈیم دباؤ برداشت نہیں کر سکا اور اس کے سپل وے کھول دیے گئے جس سے نوشہرہ کی سینتالیس میں سے سینتیس یونین کونسلیں متاثر ہوئی ہیں’۔
پیپلز پارٹی کے رکن نہ سہی لیکن اس کی سوچ کے حامی ریحان سعید ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ڈیم کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہے۔ ‘کالا باغ ڈیم بننے سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی جس سے ناصرف نوشہرہ بلکہ پشاور کو بھی نقصان پہنچے گا۔ پھر پانی کو اگر کالا باغ کے مقام پر روکا جائے گا تو اس کا بیک لیش ہوگا’۔
نوشہرہ میں جس سے بات کریں کالا باغ ڈیم کی حد تک ہر کوئی اعدا و شمار کا ماہر محسوس ہوتا ہے۔ ہر جملے میں دو چار اعداد ملانا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ محمد زرشاد خان ایڈووکیٹ سے بھی میں نے بات کی اور انہوں نے مجھے مختلف دریاوں میں بہنے والے پانی کی رفتار میں فرق سمجھانے کی کوشش کی۔ تاہم یہ مانا کہ یہ اعدا و شمار انہوں نے میڈیا سے لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو مفروضوں پر بات ہوتی تھی لیکن حالیہ سیلاب نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ کالا باغ ڈیم مفید نہیں ہوگا۔ ’دریائے کابل کا پانی گدلا لہذا بھاری ہے جب کہ سندھ کا پانی صاف اور ہلکا لہذا وہ جلد نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تربیلا سے چھوڑا گیا پانی بھی ادھر آجاتا ہے’۔

نوشہرہ میں ایک انگریزوں کے وقت کا ریلوے پل ہے۔ وہاں انیس سو اٹھائیس انتیس میں آئے ایک سیلاب کا نشان نو سو پانچ فٹ پر لگا ہے۔ اس مرتبہ کا سیلاب نو سو ٹریسٹھ تک کی ریکارڈ توڑ حد کو چھو گیا۔ محمد زرشاد کا سوال تھا کہ اگر اٹک سے آگے پانی ڈیم کی وجہ سے رک جائے گا تو پانی کی سطح ہمیشہ خطرناک حد تک بڑھی رہے گی’۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کالا باغ ڈیم کی اس سیلاب میں موجودگی سے پنجاب اور سندھ صوبوں کو تو فائدہ ہوسکتا تھا لیکن خیبر پختونخوا کو نہیں۔ وہ اس اضافی پانی کو ان کے لیے تو جمع کر لیتا اور سیلاب کی شدت میں بھی کمی لا سکتا تھا۔
نوشہرہ کچہری سے وکلا کی باتیں سن کر نکلتے وقت احساس ہوا کہ کالا باغ ڈیم کے حامیوں کے لیے یہ مقدمہ یہاں جیتنا کوئی نانی جی کا گھر نہیں۔ ہاں اگر عمومی اتفاق ہے تو منڈا ڈیم پر ہے جس کے ماہرین کے مطابق سوات میں بنے سے اس طرح کے غیرمعمولی سیلاب کے نوشہرہ جیسے علاقوں پر اچھا اثر ہو سکتا تھا۔ گزشتہ دنوں ایک اخبار میں منڈا ڈیم کے انجینئرنگ ساخت اور ٹینڈر دستاویزات کی تیاری کے لیے پینسٹھ کروڑ بیس لاکھ روپے کی کنسلٹینسی کا اشتہار دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس جانب محض سوچا نہیں کچھ کیا بھی جا رہا ہے۔







