’چاقو کے وار موت کا سبب‘

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاورق کی موت چاقو کے زخموں اور سر پر لگنے والی چوٹ کے سبب واقع ہوئی۔
پچاس سالہ عمران فاروق کو جمعرات کی شام لندن کے علاقے ’ ایجوئر‘ میں ان کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔
<link type="page"><caption> ایک نظریے کی موت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/09/100917_imran_farooq_profile.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کا پوسٹ مارٹم جمعہ کے روز شمالی لندن میں فنچلے کے مردہ خانے میں کیا گیا۔
لندن پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق پر حملہ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے کیا گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے ان پر چاقو سے حملہ کیا اور انہیں سر، سینے اور گردن پر زخم آئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

اس حملے کے بعد پولیس نے ان کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا انسدادِ دہشتگردی یونٹ اس قتل کی تحقیقات کر رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
ڈاکٹر عمران فاروق کے ساتھیوں کو خدشہ ہے کہ انہیں ایم کیو ایم کے سیاسی مخالفین نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درایں اثنا پولیس نے عینی شاہدین سے مدد حاصل کرنے کے لیے ہنگامی طور پر ایک اپیل جاری کی ہے۔ دوسری طرف پولیس گھر گھر جا کر لوگوں سے اس قتل کے بارے میں معلومات بھی حاصل کر رہی ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق پولیس ہر اس شخص سے بات کرنا چاہتی ہے جس نے حملے کو دیکھا یا وہ حملے کے وقت علاقے میں موجود تھا۔
ایم کیو ایم اور عمران فاروق
ڈاکٹر عمران فاروق ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے قریبی ساتھیوں اور پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے تھے۔ وہ کئی برس تک پارٹی کے کنوینر رہے۔
ایم کیو ایم اسی کے عشرے میں کراچی کے سیاسی منظر نامے میں داخل ہوئی۔ اُس وقت ملک جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کے سائے میں سیاہ ترین دور سے گزر رہا تھا۔ پارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ عام طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ تاہم اس کے مخالفین اس پر اغوا، مخالفین کو اذیتیں دینے، اورسیاسی مخالفین کو قتل کردینے جیسے الزامات عائد کرتے ہیں۔
1992 میں حکومت وقت کی جانب سے پارٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی تھی۔
ڈاکٹر عمران فاروق اسی آپریشن کے دوران الزامات سے بچنے کے لیے کئی برس تک روپوش رہنے کے بعد سنہ انیس سو ننانوے میں لندن پہنچ گئے تھے۔
لندن آنے کے بعد عمران فاروق نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے بر طانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے کیونکہ پاکستان میں اُن کے خلاف مجرمانہ الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں۔ عمران فاروق جنھوں نے طالب علمی کے زمانے میں پارٹی میں شمولیت اختیارکی، دو مرتبہ اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوچکے تھے۔
بی بی سی کے شعیب حسن نے بتایا ہے کہ کراچی میں ان کے ہلاکت کی خبر پر انتہائی غم و رنج کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے بڑے تجارتی شہر کراچی میں ایک اہم سیاسی جماعت ہے۔







