لکی مروت دھماکے کے تانے بانے

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لکی مروت
صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں حکام کے مطابق عید سے پہلے ہوئے دھماکے کے تانے بانے اس سال جنوری میں شاہ حسن خیل میں ہوئے دھماکے سے مل رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے مشتبہ طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں جس کے بعد انھیں دھمکیاں ملنا شروع ہوئی تھیں۔
اس دھماکے میں فرنٹیئر ریزرو پولیس کے سات اہلکاروں سمیت سولہ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
دھماکہ پانچ ستمبر کوصبح سات بجے کے بعد شہر کے وسط میں قائم پولیس تھانے کی دیوار کے پاس بارود سے بھری ایک ڈبل کیبن سفید رنگ کی گاڑی سے کیا گیا تھا۔
ڈی ایس پی لکی مروت کے مطابق اس دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں لیکن اب تک کوئی اہم گرفتاری نہیں ہوئی ۔
انھوں نے کہا کہ اس بارے میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے جس سے جلد ہی آگاہ کر دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس دھماکے سے کوئی ایک ماہ پہلے دو مشتبہ طالبان کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا جب کہ کوئی ایک ہفتہ پہلے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک اہم طالبان رہنما ہلاک ہوا تھا جس کے بعد انھیں موصول ہونے والی دھمکیوں کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا۔
ڈی ایس پی لکی مروت نے کہا کہ ہلاک ہونے والے مشتبہ طالبان کا تعلق شاہ حسن خیل سے تھا جہاں اس سال جنوری میں والی بال میچ کے دوران بارود سے بھری گاڑی سے دھماکہ کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دھماکے میں ایک سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ شاہ حسن خیل میں ہوئے دھماکے کے بعد سے کشیدگی برقرار ہے۔
لکی مروت کے مقامی لوگوں کے پاس حالیہ حملے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خود کش حملہ نہیں تھا بلکہ حملہ آور نے گاڑی تھانے کی دیوار کے پاس کھڑی کی اور خود موقع سے فرار ہوگیا تھا۔
جس کے بعد ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا جب کہ بعض اطلاعات کے مطابق یہ خود کش حملہ ہی تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گاڑی میں دو حملہ آور سوار تھے ایک فرار ہوگیا تھا جبکہ دوسرے نے خود کش حملہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق ان کے پاس ایک ہی عینی شاہد ہے جو اس واقعہ میں زحمی ہوا ہے اور اس عینی شاہد کے مطابق یہ حملہ خود کش ہی تھا۔
اس حملے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
مقامی لوگ اب ہر گاڑی کو اب شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب کہ ایسے مقامات جہاں حملہ ہوسکتا ہے وہاں جانے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں۔
اس حملے میں زخمی ہونے والے چار معصوم بچوں کا کہنا ہے کہ گاڑی ان کے قریب سے گزری اور پھر تھوڑی دیر کے بعد دھماکہ ہو گیا تھا جس سے وہ نالی میں گر گئے۔ انھوں نے پھر بھاگنے کی کوشش کی لیکن ان میں ہمت نہیں تھی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
اس دھماکے کے بعد ضلع کچہری کا علاقہ ویران پڑا ہے۔
کچہری اور دیگر دفاتر تو پہلے ہی یہاں سے منتقل کر دیے گئے تھے لیکن پھر بھی یہاں لوگوں کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
تھانے کی عمارت کے علاوہ جانوروں کے ہسپتال کی عمارت، مسجد اور ڈی ایس پی آفس مکمل تباہ ہوگئے ہیں جب کہ سول ہسپتال اور قریبی آبادی میں قائم بیشتر مکان اب رہائش کے قابل نہیں ہیں۔







