سانحہ سیالکوٹ:’ مقتول بھائی ڈاکو نہیں تھے‘

سانحہ سیالکوٹ کی تفتیش کرنے والے محکمہ انسداد رشوت ستانی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تشدد سے ہلاک ہونے والے دونوں بھائی منیب اور مغیث ڈاکو نہیں تھے اور پولیس ان بھائیوں کے قتل میں براہ راست ملوث ہے۔
اس واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ سانحہ سیالکوٹ سپریم کورٹ کی طرف سے از خودنوٹس کی سماعت کے دوران پیش کی گئی۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے اس از خود نوٹس سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کے کچھ حصے پڑھے۔
<link type="page"><caption> ’سابق ضلعی افسر کا جوڈیشل ریمانڈ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/09/100901_sialkot_dpo_charge.shtml" platform="highweb"/></link>
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہلاک ہونے والے دونون بھائی فرشتہ صفت انسان تھے لیکن جس وقت اُنہیں تشدد سے ہلاک کیا گیا تو اُس وقت اُن کے خلاف کسی تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر خاموش تماشائی بنی رہی اور پولیس اہلکاروں نے ملزمان کو دونوں بھائیوں کو قتل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
چیف جسٹس نے رپورٹ کا وہ حصہ بھی پڑھا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں بھائیوں کو ڈاکو قراد دینے کا ڈرامہ مقتولین کے خلاف درج کیے گئے قتل کے مقدمے کے مدعی شوکت علی اور پولیس نے رچایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ میں ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں کاظم علی ملک نے عدالت سے سفارش کی ہے کہ مقتولین کی دوبارہ قبر کُشائی کی جائے اور ڈاکٹروں پر متشمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اُن کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ نے یہ رپورٹ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث کو دی اور اُنہیں ہدایت کی کہ وہ صوبے کے ہوم سیکرٹری کے ساتھ ملکر اس رپورٹ کے قابل اشاعت حصوں کو اخبارات میں دیا جائے۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ اس واقعہ کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کی جائے اس کے علاوہ مقامی صحافی حافظ عمران جنہوں نے اس واقعہ کی ویڈیو فلم بنائی تھی، اُسے اور اُس کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
واضح رہے کہ پندرہ اگست کو متعدد افراد نے پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں دو بھائیوں منیب اور مغیث کو ڈاکو قرار دیکر ڈنڈے مار کر ہلاک کر دیا تھا اور بعدازاں اُن کی لاشوں کو چوک میں لٹکا دیا تھا۔
اس سے پہلے اس از خودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیالکوٹ پولیس کے سربراہ کو ہدایت کی کہ پولیس کی حراست سے فرار ہونے والے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او رانا الیاس کو چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے پہلے ہلاک ہونے والے بلال کے قتل کا مقدمہ کن افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے جس پر ڈی پی او کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے خلاف درج ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس حقائق کو جانے بغیر ایف آئی آر درج کردیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف سب کے لیے ہے اور پولیس بلال کے قاتلوں کا بھی سُراغ لگائے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہجوم میں انصاف کا نظام پولیس نے متعارف کروایا ہے اور اس سے قبل بھی گوجرانوالہ میں متعدد ایسے واقعات ہوچکے ہیں۔
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر تشدد کو نہ روک کر بڑا ظُلم کیا ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ پولیس آرڈر آٹھ سال پہلے بنایا گیا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے یہ آرڈر صرف نمائشی تھا کیونکہ ابھی تک اس آرڈر کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن نہیں بنایا گیا۔
دریں اثنا بدھ کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بھرے مجمعے میں پولیس کی موجودگی میں دو سگے بھائیوں کے وحشیانہ قتل کے الزام میں سابق ضلعی پولیس افسر سیالکوٹ وقار احمد چوہان اور پانچ پولیس اہلکاروں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔







