’سابق ضلعی پولیس افسر کا جوڈیشل ریمانڈ‘

گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بھرے مجمعے میں پولیس کی موجودگی میں دو سگے بھائیوں کے وحشیانہ قتل کے الزام میں سابق ضلعی پولیس افسر سیالکوٹ اور پانچ پولیس اہلکاروں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
سابق ضلعی پولیس افیسر یعنی ڈی پی او وقار احمد چوہان اور دیگر پانچ پولیس کانسٹیبلوں کو بدھ کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا اور سرکاری وکیل نے ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی۔
پراسیکیوٹر رانا بختیار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں سات دنوں کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور ہدایت کی کہ ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد ملزموں کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ سابق ڈی پی او وقار احمد چوہان کی طرف سے ایک درخواست کے ذریعے جیل میں انہیں بہتر کلاس فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے تاہم پراسیکیوٹر کے بقول انہوں نے درخواست پر اعتراض کیا کہ جیل کسی ملزموں کو بہتر کلاس فراہم کرنے کا فیصلہ جیل حکام نے کرنا ہوتا ہے اس لیے یہ درخواست قابل پذیرائی نہیں ہے۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سابق ڈی پی او وقار احمد چوہان کو منگل کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا اس سے پہلے وہ اس واقعہ کے باعث نظر بند تھے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت پہلے ہی اس مقدمے میں ملوث سترہ افراد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے چکی ہے اور یہ ریمانڈ ختم ہونے کے بعد ملزموں کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ دو سگے بھائیوں کے سیالکوٹ میں دو بھائیوں کی وحشیانہ تشدد کے بعد ہلاکت کے واقعہ کا مقدمہ بیس اگست کو درج کیا گیا جبکہ اکیس اگست کو اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گیں جس کے بعد بائیس اگست کو ان کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔



