سیالکوٹ: پولیس اہلکاروں کا جسمانی ریمانڈ

سیالکوٹ کی ایک مقامی عدالت نے بھرے مجمعے میں دو سگے بھائیوں کے قتل کے وقت مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے کےالزام میں گرفتار چار ملزموں کو چودہ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ایک سب انسپکٹر، ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور دو پولیس کانسٹبلوں کو پولیس کے کڑے پہرے میں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر انسپکٹر حمید اللہ نے عدالت کو بتایا کہ دوران تفتیش یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ چاروں پولیس اہلکار دونوں بھائیوں کی ہلاکت کے وقت موقعے پر موجود تھے اور انہوں نے ان دونوں بھائیوں کے قتل کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
تفتیشی افسر کے مطابق ان کا یہ فعل بذات خود جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے درخواست کی کہ دہرے قتل کی تفتیش کے لیے ان گرفتار پولیس اہلکاروں کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ قیصر امین نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کر لی اور ملزم پولیس اہلکاروں کا چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
سیالکوٹ کے نئے ضلعی پولیس افسر بلال صدیق کمیانہ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیالکوٹ کے سابق ضلعی پولیس افسر وقار چوہان کو بھی باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے جنہیں ایک دو روز میں عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پولیس نے بھرے مجمعے میں دو بھائیوں کے قتل کے الزام میں پانچ الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس مقدمے میں قتل سمیت انسداد دہشت گردی کی سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں اس میں ایک بھی پولیس اہلکار نامزد نہیں ہوا حالانکہ عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ دونوں قتل پولیس اہلکاروں کی ایما پر ہوئے تھے۔
ضلعی پولیس افسر بلال صدیق کمیانہ کےمطابق پولیس اہلکاروں کے خلاف مجرمانہ غفلت، ناقص تفتیش کرنے اور ایس ایچ کو بھگانے میں مدد دینے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
قتل کے مقدمے میں ایک روز پہلے ہی سترہ ملزموں کو سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جاچکا ہے۔







