سوات: تباہ شدہ عمارتیں اور منہدم پل

وادی سوات میں سیلاب سے پلوں کی شدید نقصان پہنچا ہے
،تصویر کا کیپشنوادی سوات میں سیلاب سے پلوں کی شدید نقصان پہنچا ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات

وادی سوات میں آج تباہ شدہ عمارتیں اور منہدم پل جگہ جگہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ برس پہلے تک یہ تعمیرات مقامی طالبان کا ہدف تھیں لیکن اب قدرت نے انہیں نشانہ بنایا ہے۔

سوات میں حکام کے مطابق پچیس اہم پل سیلاب کی نظر ہوئے جس سے زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

مٹہ، بحرین اور کالام جیسے علاقوں سے زمینی رابطے منقطع ہوگیا۔ البتہ سول و فوجی حکام سڑکوں کے رابطے کو بحال کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

چکدرہ کے مقام پر تعمیر کیا گیا ایک پل سوات اور ملک کو دیر اور چترال کے علاقوں سے ملاتا ہے۔ یہ پل بھی سیلابی ریلے کا زور نہ سہہ سکا۔ تاہم اس کے برابر میں انگریزوں کا تعمیر کردہ ایک پل کام آگیا ہے۔ اس پل پر عارضی تختوں سے ایک حصہ تعمیر کرکے اسے پیدل چلنے والوں کے بعد اب ٹریفک کے لیے بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

اس سے تھوڑا آگے آئیں تو شاموزئی کے پل کا بھی چکدرہ والے پل جیسا حال ہوا ہے۔ تاہم یہاں چونکہ انگریزوں نے کچھ نہیں بنایا تھا اور حکام کو ایک نجی کیبل آپریٹر کی ضرورت پڑی۔ یوسف خان آمد و رفت کے لیے یہ ٹرالی نصب کرنے میں مصروف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پل کی تعمیر سے قبل لوگ یہی ٹرالی استعمال کرتے تھے۔ لہذا اب انہیں اس کی دوبارہ ضرورت پڑگئی ہے۔

اس زمینی رابطوں کی بحالی سول و فوجی حکام دونوں کے لیے اہم ہے۔ سول کے لیے کیونکہ لوگوں کی مشکلات کم کرنی ہیں اور فوجی حکام کے لیے شاید اس لیے بھی کہ کہیں آمد و رفت میں خلل کا فائدہ اٹھا کر طالبان دوبارہ نمودار نہ ہو جائیں۔

یہ زمینی رابطے ایسے علاقوں کے منقطع ہوئے ہیں جو کبھی طالبان کے اہم مراکز سمجھے جاتے تھے۔ ان میں مٹہ، کبل، کوزہ بانڈہ اور برا بانڈا شامل ہیں۔

علاقے میں بجلی کی مکمل بحالی میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں: عمران صدیق
،تصویر کا کیپشنعلاقے میں بجلی کی مکمل بحالی میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں: عمران صدیق

مینگورہ کے اسسٹنٹ رابطہ افسر عمران صدیق کا کہنا ہے کہ پچیس اہم پلوں کے علاوہ بجلی و گیس کا نظام بھی متاثر ہوا۔ انتیس جولائی سے بجلی بند ہے اور اب تک بحال نہیں ہوسکی ہے۔ گیس تاہم تین چار روز میں بحال کر دی گئی۔

عمران صدیق کا کہنا ہے کہ بجلی کی تمام علاقے میں مکمل بحالی میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سوات میں سیلاب اس شدت سے آیا کہ اسے ماپنے کا ان کے پاس نظام ہی نہیں تھا۔ ’ہم ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک ناپ سکتے ہیں لیکن گزشتہ دنوں آنے والا سیلابی ریلا چار لاکھ کیوسک تک کا تھا۔‘

مینگورہ کے ایک رہائشی رحیم داد نے بتایا کہ سیلاب سے نقصانات کے علاوہ اشیاء کی قیمتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔’ٹماٹر سو اور آلو پچاس روپے میں فروخت ہو رہے ہیں، بجلی نہیں ہے اور ہسپتالوں میں یا تو ڈاکٹر نہیں اور یا پھر ادوایات۔‘

مینگورہ میں متاثرین کی امداد کے لیے ریلیف کیمپ بھی قائم ہیں لیکن ان میں کوئی زیادہ گہما گہمی نہیں۔ اس کی وجہ اہلکار متاثرین کی ان کیمپوں میں نہ رہنے کی خواہش بتاتے ہیں۔ ’متاثرین سامان کے لیے تو آتے ہیں لیکن ٹھہرنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس ہی رہیں گے۔‘

حکام تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ بحران سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعد متاثرین کی بحالی کا منصوبہ روکنا پڑا ہے۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ اب ان کی توجہ ایک مرتبہ پھر اس نئے بحران سے متاثرہ لوگ ہوگئے ہیں۔ جب ان کی امداد کا فیز ختم ہوگا تو اس کے بعد ہی وہ شدت پسندی والے منصوبوں پر توجہ دے سکیں گے۔’