کالعدم تنظیموں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یکم جولائی کو لاہور میں داتا دربار کی حدود میں ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد پنجاب کے محکمۂ داخلہ نے صوبے میں کالعدم قرار دی جانے والی سترہ تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس ضمن میں پولیس اہلکاروں پر مشتمل ضلعی سطح پر ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔
اس ٹاسک فورس میں سی آئی ڈی، سپیشل برانچ اور انسداد دہشت گردی سکواڈ کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔
اس ٹاسک فورس میں شامل اہلکارروں کو سترہ کالعدم تنظیموں سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لیے ضلعوں میں موجود انٹیلیجنس افسران سے قریبی رابطے کرنے سے متعلق بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
صوبہ پنجاب کے محکمۂ داخلہ کے ایک ذمہ دار اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس ٹاسک فورس کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کالعدم قرار دی گئیں تنظیموں کے خفیہ ٹھکانوں پر کریک ڈاؤن کی جائے اور ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو فوری طور پر حراست میں لیا جائے۔
اس کے علاوہ ان تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد کی آمدنی کے ذرائع کا سراغ لگا کر اُن کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس ٹاسک فورس کی نگرانی ضلعی پولیس افسر کرے گا جو اپنی رپورٹ پنجاب کے محکمۂ داخلہ کو بھیجے گا۔
پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی طرف سے جن سترہ تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اُن میں لشکر جھنگوی، سپاہ محمد پاکستان، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان، تحریک نفاذ شریعت محمدی، ملت اسلامیہ پاکستان، خُدام الاسلام، اسلامی تحریک پاکستان، حزب التحریر، جمعیت الانصار، جمعیت الفرقان، خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور جماعت الدعوۃ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ سُنی تحریک کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ کالعدم قرار دی گئی سترہ تنظیموں میں سے نو تنظیمیں دیو بند فرقے، تین شیعہ فرقے جبکہ تین اہلحدیث فرقے سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ بی ایل اے ایک قوم پرست اور آئی ایس ایم ایک طلبہ تنظیم ہے ۔
پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کی گئی فہرست میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا نام شامل نہیں ہے جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ ملک کے دیگر علاقوں اور بالخصوص پنجاب میں لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے ساتھ مل کر شدت پسندی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شدت پسند تنظیموں کی کارروائیوں اور ممکنہ شدت پسندی کے واقعات سے متعلق وفاقی وِزارت داخلہ کے ماتحت اداروں کی جانب سے اطلاعات کی عدم فراہمی سے متعلق صوبائی حکومت اور وزیر داخلہ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے اس ضمن میں ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
صوبائی محکمہ داخلہ کے اہلکار کے مطابق وِزارت داخلہ کے ماتحت اداروں سے شدت پسندی کے ممکنہ واقعات کے بارے میں کوئی مخصوص اطلاع نہیں دی جاتی بلکہ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ صوبے کے فلاں شہر میں شدت پسندی کا خطرہ ہے جبکہ مخصوص کسی جگہ کے بارے میں ممکنہ شدت پسندی کی بہت کم اطلاع دی جاتی ہے۔
داتا دربار میں ہونے والے خودکش حملوں سے متعلق صوبائی محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں وفاقی وِزارت داخلہ کی طرف سےاس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ملی تھی جبکہ وفاقی وِزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعہ سے دو روز قبل ایک وارننگ لیٹر جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شدت پسند صوبے میں امام بارگاہوں اور مزاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت محکمۂ داخلہ پنجاب کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں ایسے چار ہزار افراد ہیں جنہیں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے شیڈول چار کے تحت شدت پسند تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے اور یہ افراد اپنی نقل وحرکت کے بارے میں متعلقہ تھانوں کو مطلع کرنے کے پابند ہیں۔







