بری ہونے کے بعد ملزمان ’لاپتہ‘

لاہور ہائی کورٹ نے فوجی اہلکاروں پر تین خودکش حملوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے گیارہ افراد کی جیل سےرہائی کے بعد لاپتہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ جیل سپرنٹینڈنٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

پولیس اہلکار(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنلاپتہ ہونے والے افراد کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ان کے ورثاء اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن اُن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والے تمام افراد پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو خودکش حملوں کا نشانہ بنانے کے مقدمات میں ملوث تھے جنہیں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عدم ثبوت کی بناء پر بری کردیا تھا۔

ان افراد میں عبدالصبور، عبدالباسط، عبدالماجد، شفیق الرحمن، ڈاکٹر نیاز، مظہر اقبال اور محمد عامر شامل ہیں۔ یہ افراد فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر پر لگے ہوئے ناکے اور انٹر سروسز انیلیجنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں کی رہائش گاہوں حمزہ کیمپ کے باہر ہونے والے خودکش حملوں کے مقدمات میں ملوث تھے جبکہ گُل روز ، تحسین اللہ، سعیدارب اور محمد شریف کو کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ حمزہ کیمپ اور جی ایچ کیو کے باہر ناکے میں ہونے والے خودکش حملوں کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر نیاز اور مظہر اقبال کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے طیارے پر اینٹی ائرکرافٹ گن سے حملہ کرنے کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا تھا جس میں عدالت نے اُنہیں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا تھا۔

جسٹس طارق محمود پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے بنچ نے مذکورہ افراد کے لاپتہ ہونے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ جیل کی انتظامیہ نے مذکورہ افراد کی عدالتی حکم پر رہائی کے بعد اُنہیں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ان لاپتہ ہونے والے افراد کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ان کے ورثاء اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن اُن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔

جسٹس طارق نے کہا کہ جیل کے حکام جیل میں موجود افراد کو دوبارہ گرفتار کروانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے افراد کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے لیکن ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ عدالت نے جیل سپرنٹینڈنٹ کے خلاف مقدمہ درج کرکے اُنہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

اُدھر اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ سعید گوندل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان گیارہ افراد کی عدالت کی طرف سے رہائی کے بعد پنجاب حکومت کی طرف سے ان کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے تھے جسے عدالت عالیہ نے کالعدم قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کو اٹھائیس اپریل کو شام کے وقت رہا کر دیا گیا تھا اور رہائی کے بعد وہ کہاں گئے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل کے قواعد میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ رہا ہونے والے افراد کو جیل کی انتظامیہ اُن کے گھروں تک چھوڑ کر آئے۔