زیر تفتیش سرکاری افسران
- مصنف, ذوالفقار علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں جن آٹھ اعلیٰ سرکاری افسران پرغفلت برتنے کا الزام ہے ان میں ایک سیکریڑی اور پانچ پولیس افسران شامل ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے ان آٹھ سرکاری اعلیٰ افسران کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرکے افسر بکار خاص یعنی ’او ایس ڈی‘ بنا دیا ہے یا ان کی ملازمت کے کنڑیکٹ کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
ان افسروں میں راولپنڈی کے<link type="page"><caption> اس وقت کے سٹی پولیس افسر سعود عزیز</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100416_un_report_aziz_as.shtml" platform="highweb"/></link>، ضلعی رابط افسر محمود عرفان الہیٰ کے علاوہ کرائم انیسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپکڑ جنرل چوہدری عبدالمجید اور اس وقت کے ایس پی یاسین فاروق اور ایس پی خرم شہزاد اور اے ایس پی اشفاق انورشامل ہیں۔
ان افسروں کو ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو کو بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی کی ذمہ داری سوپنی گئی تھی۔
بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کی طرف سے بے نظیر بھٹو کو فراہم کی گئی سیکورٹی غیر موثر اور ناکافی تھی اور یہ کہ وہ بچ سکتی تھیں اگر مناسب سکیورٹی فراہم کی جاتی۔
<link type="page"><caption> بے نظیر بھٹو قتل: اقوام متحدہ کی مکمل رپورٹ</caption><url href="http://www.un.org/News/dh/infocus/Pakistan/UN_Bhutto_Report_15April2010.pdf" platform="highweb"/></link>
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے اے ایس پی اشفاق انور کی نگرانی میں پولیس کی ایلیٹ فورس یونٹ بے نظیر بھٹو کے قافلے کو حفاظت فراہم کرنے میں ناکام رہی۔۔
اشفاق انور اس وقت سول لائن راولپنڈی میں تعنات تھے اور اتوار کو اپنے عہدے سے ہٹائے جانے سے پہلے وہ راولپنڈی پولیس ہیڈ کواٹر میں ایس پی تھے۔
اس وقت کے ایس پی پوٹھوار ٹاون یاسین فاروق کو سیکورٹی کی مجوعی نگرانی کی ذمہ داری تھی جبکہ خرم شہزاد کو لیاقت باغ کی سیکورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاسین فاروق افسر بے کار خاص بنائے جانے سے پہلے ایس پی آپریشننز راولپنڈی تھے جبکہ خرم شہزاد گجرانوالہ میں ایس پی کے عہدے پر فائز تھے۔
لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سٹی پولیس افسر سعود عزیز کا کردار کافی متنازعہ ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس پی خرم شہزاد نے سٹی پولس افسر سعود عزیز کے حکم پر دھلوایا۔ رپورٹ کے مطابق کچھ افراد نے یہ دعوی بھی کیا کہ سعود عزیز نے اس وقت کے ملڑی انٹیلجنس کے سربراہ میجر جنرل ندیم اعجاز احمد کے حکم پر جائے حادثہ کو ایک گھنٹہ چالیس منٹ میں دھلو ادیا تھا۔
<link type="page"><caption> یو این رپورٹ: ایجنسیوں کا رول ’مشکوک‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100416_un_report_bb_isi.shtml" platform="highweb"/></link>
رپورٹ کے مطابق سعود عزیز نے راولپنڈی جنرل ہسپتال میں بے نظیر بھٹو کے پوسٹ مارٹم میں بھی رکاوٹ ڈالی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف سرجن ڈاکڑ مصدق حسین خان نے بھٹو کے پوسٹ مارٹم کے لیے تین مرتبہ سٹی پولیس افسر سے اجازت مانگی لیکن انہوں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔
سعود عزیز کے خلاف حکومت کی طرف سے کارروائی کے وقت وہ سٹی پولیس افسر ملتان تھے۔
راولپنڈی کے اس وقت کے ضلعی رابط افسر یا ڈی سی او محمد عرفان الہیٰ نے بھی سٹی پولیس افسر کی حمایت کی تھی۔
اس وقت کے ڈی سی او محمد عرفان نے اٹھائیس دسمبر دو ہزار سات کو راولپنڈی جنرل ہسپتال کے ڈاکڑوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی دی جانے والی ابتدائی طبعی امداد کی رپوٹ کی اصل کاپی ان کو فراہم کریں اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی کہ وہ اس رپورٹ کی نقل اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ہیں
محمد عرفان الہٰی او ایس ڈی بنائے جانے سے پہلے محمکہ خوراک پنچاب کے سیکریڑی تھے۔
رپورٹ میں کرائم انوسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ پنچاب کے ایڈیشنل انسپکڑ جنرل چوہدری عبدلمجید کی سربراہی میں اسوقت قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات پر بھی عدم اطیمنان کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ جب ان کو اس ٹیم کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئ تھی تو اسوقت وہ ملک سے باہر تھے۔
عہدے سے ہٹائے جانے سے پہلے وہ ایڈیشنل آئی جی پولیس فیصل آباد تھے۔
حکومت پاکستان نے سیول ڈینفنس کے ڈائریکڑ جنرل برگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کا کنڑیکٹ بھی منسوخ کردیا ہے۔
برگیڈئیر چیمہ نے’ جو اس وقت وزرات داخلہ کے کرائیسز منیجمنٹ کے سربراہ تھے‘ بے نظیر بھٹو کے قتل کے اگلے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے نظیر بھٹو پر حملے کا الزام بیت اللہ محسود پر لگایا تھا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اٹھائیس دسمبر کو کیپمپ ہاوس میں ایک میٹنگ کے دوران اس پریس کانفرنس کا فیصلہ کیا تھا۔
اس میٹنگ میں رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے ڈائریکڑ جنرلز نے بھی شرکت کی تھی۔
اس میٹنگ کے بعد رپورٹ کے مطابق برگیڈئیر ریٹائرڈ چیمہ کو آئی ایس آئی کے ہیڈ کواٹر طلب کرکے پریس کانفرنس منقعد کرنے کا کہا گیا تھا۔







