’سٹیل ملز کی لوٹی رقم واپس لی جائے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راولپنڈی
سپریم کورٹ نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس بدعنوانی میں ملوث افراد سے لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے، چاہے اس سلسلے میں اُن کی جائیدادیں ہی کیوں نہ فروخت کرنی پڑیں۔
پیر کے روز جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی بائیس ارب روپے کی بدعنوانی کے از خود نوٹس کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس سائر علی اور جسٹس طارق پرویز شامل ہیں۔
ایف آئی اے کے حکام نے سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی کے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی تو اس بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقات میں تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کیا گیا۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی کرپشن ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے جس میں سرکاری خزانے سے بائیس ارب روپے لوٹے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھی اس میں ملوث ہیں اُن کی ضمانتیں منسوخ کروانے کے علاوہ اُن سے لوٹی ہوئی رقم ہر حال میں برآمد کی جائے۔
ایف آئی اے کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے حوالے سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سٹیل ملز میں ہونے والی بائیس ارب روپے کی بدعنوانی میں صرف سٹیل ملز کے سابق چیئرمین ملوث نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے اہلکار بھی ملوث ہیں۔
جسٹس جاوید اقبال نے وزیر داخلہ رحمن ملک کو، جو اُس وقت کمرہ عدالت میں موجود تھے، مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں کہ ایف آئی اے جو اُن کے ماتحت ادارہ ہے وہاں پر بدعنوان اور سزا یافتہ افراد کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کو تبدیل کرنے پر رحمان ملک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔
سابق ڈی جی ایف آئی اے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ سٹیل ملز کے مقدمے کی تفتیش صیح نہیں ہو رہی اس لیے انہوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کام نیک نیتی سے کیا ہے تاہم وہ خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت جس طرح چاہے اپنے اختیارات کو استعمال کرے لیکن نوبت اس نہج پر نہیں پہنچنی چاہیے کہ عدالت کو ازخود نوٹس لینا پڑے۔
بینچ میں شامل جسٹس سائر علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تحقیقات کے حوالے سے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور اب تک اس مقدمے کی سماعت کے دوران وقت کی ضائع کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ہر کام آئینی طریقے سے کیا جانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ملک میں میرٹ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس طارق پرویز بے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کے پاس تفتیش کے مختلف طریقے ہیں کہیں پر چھترول کی جاتی ہیں اور کہیں پر ملزمان کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ انہوں نے گُزشتہ پیشی پر وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے وقت مانگا تھا جس پر رحمان ملک نے عدالت کو بتایا کہ وہ خود اس کا جواب دیں گے۔ عدالت نے وزیر داخلہ کی طرف سے اُنہیں حاضری سے مستثنی قرار دینے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اُنہیں دوبارہ جواب داخل کروانے کا حکم دیا۔ عدالت نے سٹیل ملز کرپشن کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔







