سپریم کورٹ:جسٹس سردار رضا خان ریٹائر

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس سردار رضا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد پندرہ رہ گئی ہے۔
ان مستقل ججوں میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی شامل ہیں جبکہ جسٹس غلام ربانی بطور ایڈ ہاک جج سپریم کورٹ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
آئین کے مطابق سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد سترہ ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک اور سنئیر جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے بھی گُزشتہ ماہ ریٹائر ہوگئے تھے اور اس طرح اب تک سپریم کورٹ میں دو مستقل ججوں کی آسامیاں خالی ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ کے سینیئر جج ثاقب نثار کو سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات کرنے کے سمری صدر کو بھجوائی تھی جس پر وزارت قانون کی طرف سے اعتراضات لگا کر واپس کردیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ کے سینیئر جج کو ہی سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے مثالیں موجود ہیں کہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کے علاوہ سینیئر ججوں کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کی فائل واپس بھیجنے کے باوجود بھی چیف جسٹس کی سفارشات کو ہی حتمی سمجھا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی چاروں ہائی کورٹس میں پچاس سے زائد ججوں کی آسامیاں خالی ہیں۔
اُدھر سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی کاز لسٹ رواں ہفتے کے لیے تشکیل دیے جانے والے بینچوں میں سردار رضا خان کی سربراہی میں بھی ایک تین رکنی بینچ تشکیل دی گئی تھی۔ منگل کے روز انہوں نے سپریم کورٹ میں اخری مرتبہ اپنی ذمہ داریاں ادا کیں ۔
جسٹس سردار رضا خان سپریم کورٹ کے اُن ججوں میں شامل تھے جنہیں سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے اُنہیں معزول کرکے گھروں میں نظر بند کر دیا تھاتاہم اُن کی نقل وحرکت پر اُس طرح کی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی جس طرح اُس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر عائد کی گئی تھیں۔
جسٹس سردرا رضا خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سپریم کورٹ کے دیگر تین ججوں سمیت اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اُٹھایا تھا جبکہ تین نومبر کے اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں غیر آئینی قرار دیے جانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ان سے حلف لیا تھا۔ دیگر ججوں میں جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس ناصر الملک اور جسٹس میاں شاکر اللہ جان شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ججوں کو دوبارہ حلف اُٹھانے پر راضی کرنے میں اُس وقت کے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
جسٹس سردار رضا خان اُن ججوں میں شامل تھے جنہوں نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پہلے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔ جسٹس سردار رضا خان کو اٹھائیس اپریل سنہ دو ہزار میں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا بعدازاں اُنہیں دس فروری سنہ دوہزار دو میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا تھا۔
جسٹس سردار رضا خان سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں بھی شامل رہے ہیں جنہوں نے اہم فیصلے کیے اور ان فیصلوں نے ملک کی موجودہ تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
ان اہم فیصلوں میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات، پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے اور قومی مصالحتی ارڈیننس یعنی این آر او کے خلاف متفقہ فیصلہ بھی شامل ہے۔
این آر کے بارے میں جسٹس سردار رضا خان نے ایک اضافی نوٹ بھی لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس ارڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف تمام مقدمات دوبارہ کھل گئے ہیں لیکن اس میں اُس شخص کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے جس نے این آر او متعارف کروایا تھا۔
جسٹس سردار رضا خان نے سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا جس نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو وردی میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی کیونکہ اس سے پہلے اُنہوں نے صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق درخواست کی سماعت پر اختلافی نوٹ لکھا تھا کہ ایک شخص آرمی چیف اور صدر کا عہدہ ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔







