سٹیل ملز: متعدد افراد پر چار مقدمات درج

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں متعدد افراد کے خلاف چار مقدمات درج کیے ہیں۔
جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی کے از خود نوٹس کی سماعت کی۔
اس بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے افسر ڈی آئی جی زبیر میر نے عدالت کو بتایا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں اُن میں عباس گروپ کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ واضح رہے یہ کمپنی ریاض لال جی کی ہے جو بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔
پاکستان سٹیل ملز میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے افسر نے عدالت کو بتایا کہ چار مقدمات درج ہو چکے ہیں جب کہ دو مزید مقدمات ایک دو روز میں درج کر لیے جائیں گے۔
عباس گروپ کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کسی بھی مقدمے کی ایف آئی ار درج کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موکلوں سے کہیں کہ وہ ان مقدمات کی تفتیش کرنے والے افسران کے سامنے پیش ہوں اور اپنا موقف پیش کریں۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ عباس گروپ کے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ملک بشیر اور خالد خان بھی شامل ہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے زبیر میر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مقدمات میں پاکستان سٹیل ملز کے اہلکاروں کے بھی نام ہیں تاہم انہوں نے ان مقدمات کی تفتیش کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی اہلکار کا نام نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے نام مناسب وقت پر سامنے لائے جائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، جنہیں عدالت نے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کو تبدیل کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا، عدالت میں پیش ہوئے۔ وزیر داخلہ توہین عدالت کے نوٹس کا زبانی جواب دینا چاہتے تھے جس کی عدالت نے اجازت نہیں دی اور کہا کہ جواب تحریری دیا جائے اور آئندہ سماعت پر دوبارہ عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت پچیس جنوری تک ملتوی کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے طارق کھوسہ کی تبدیلی کے بعد عدالت نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی میر زبیر کو سونپ دی تھی اور اُنہیں کہا گیا تھا کہ وہ اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو براہ راست آگاہ کریں۔







