انور منصور خان ملک کے نئے اٹارنی جنرل

سندھ ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشنانور منصور خان سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینئر وکیل انور منصور خان کی بطور اٹارنی جنرل پاکستان تقرری کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔

یہ عہدہ سابق اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کی بطور وزیراعظم کی قانونی مشیر تعیناتی کے بعد سے خالی تھا۔

نئے اٹارنی جنرل انور منصور خان ماضی میں سندھ ہائی کورٹ کے جج اور سابق ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر کی ابتدا بطور فوجی کیپٹن کی اور وہ انیس سو اکہتر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ انیس سو تہتر میں انور منصور خآن فوج سے مستعفی ہوگئے تاہم انہیں اکتوبر سنہ چوہتر میں ہی فوج سے ریلیز کیا گیا۔

ان کے ساتھی وکیل اور ہائیکورٹ بار کے سابق صدر ابرار حسن کے مطابق سقوط ڈھاکہ کے وقت انور منصور خان بنگال میں تھے جہاں سے انہیں جنگی قیدی بناکر بھارت لے جایا گیا تھا۔

انور منصور خان کے والد منصور خان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انور منصور نے بھی اسی پیشے کو اپنایا اور انیس سو اکیاسی میں وکالت کی ابتدا کی۔ انیس سو تراسی میں انہیں ہائی کورٹ کے لیے انرول کیا گیا جبکہ سنہ دو ہزار میں انہیں سندھ ہائی کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا مگر اگلے ہی سال وہ مستعفی ہوگئے۔

بعد میں دو ہزار دو میں انہیں سندھ کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا مگر اس عہدے سے بھی انہوں نے دو ہزار سات میں وہ استعفٰی دے دیا۔ اپنے اس استعفے کی بنیاد انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے قانونی رائے نہ لینا بتایا تھا، جبکہ بعد میں ایسی خبریں بھی آئیں کہ ان کے سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے اختلاف پیدا ہوگئے تھے۔

استعفے کے بعد انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم ( پی سی او ) کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اسے سپریم کورٹ کی جانب سے تین نومبر کو جاری کردہ حکم نامے کے متصادم قرار دیا تھا۔

انور منصور خان پاکستان بار، سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار کے رکن تو رہے تاہم انہوں نے زیادہ تر خود کو بار کی سیاست سے دور رکھا۔ تاہم رواں سال وہ سندھ ہائی کورٹ بار کی صدرات کے لیے رشید رضوی کے مدمقابل تھے تاہم انہیں اس الیکشن میں شکست ہوئی۔

پاکستان میں کمپنیز آرڈیننس کی تیاری، پاکستان میں اور اسلامی بینکنگ رائج کرانے میں بھی انور منصور خان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے انور منصور خان کے ریفرنس پر سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل سومرو کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف دائر کارروائی کی سفارش کی تھی۔

ہائی کورٹ بار کے سابق صدر ابرار حسن کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ انور منصور ایک بہترین اٹارنی جنرل ثابت ہوں گے اور عدالت کی حقیقی معاونت کریں گے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ بار اور بینچ میں پل کا کردار ادا کریں گے۔