’معاملات کو بہتر جانتے ہیں‘

فائل فوٹو، سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشنملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے چالان دو ہفتوں میں پیش کریں: چیف جسٹس
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات دو ہفتوں میں مکمل کرکے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

یہ ہدایات بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی کے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

ایف آئی اے کے حکام نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی کے متعلق ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ سٹیل ملز کے سابق چیئرمین معین آفتاب کے دور میں آسٹریلیا سے کوئلہ خریدا گیا جب کہ اُس سے اٹھارہ فیصد کم ریٹ پر کوئلہ مارکیٹ میں دستیاب تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح صرف ایک ڈیل میں پاکستان سٹیل ملز کو ساڑھے تین ارب روپے کا نقصان ہوا۔ایف آئی اے کے حکام کے مطابق سٹیل ملز کے سابق چیئرمین اور دیگر اہلکاروں نے اربوں روپے کی بدعنوانی کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئلے کی خریدو فروخت میں فرنٹ مین کا کردار ادا کرنے والے شخص ریاض لال جی بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کے اہلکار بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے تکنیکی معاملات میں اُلجھے رہے جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ایف آئی اے کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ وہ ملزم ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری کریں گے اور انٹرپول کی مدد سے اُنہیں گرفتار کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ ملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے چالان دو ہفتوں میں پیش کریں۔

پاکستان سٹیل ملز کی طرف سے بھی ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ سابق چیئرمین معین آفتاب کے دور میں جو چھبیس مئی سنہ دو ہزار آٹھ سے آگست دو ہزار نو تک کا ہے، اُس میں بائیس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔سٹیل ملز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آسٹریلیا سے کوئلہ خریدنے کا معاہدہ پہلے ہی ہو چکا تھا جس کے بعد پوری دنیا کساد بازاری کا شکار ہوگئی جس کی وجہ سے سٹیل ملز کو اس معاہدے میں نقصان اُٹھانا پڑا۔

عدالت نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سٹیل ملز کے اہلکار بتاتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ۔

چیف جسٹس نے سٹیل ملز کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل مجیب پیرزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سٹیل ملز پہلے منافع بخش ادارہ تھا اب یہ خسارے میں کیسے چلا گیا۔انہوں نے کہا کہ عدالت پاکستان سٹیل ملز کے معاملات کو بہتر انداز میں جانتی ہے اس لیے اس ادارے کی جب نج کاری کی جا رہی تھی تو سپریم کورٹ نے مداخلت کرکے اس کی نج کاری کو رکوایا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کو روکنے کے بعد سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے کہنے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا تھا۔