مولانا صوفی محمد گرفتار

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو ان کے بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پشاور کے علاقے سٹی ٹاؤن میں واقع مولانا صوفی محمد کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں ان کے دو بیٹوں ضیاء اللہ اور رضوان اللہ سمیت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے صوفی محمد کے گھر کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔
دریں اثناء پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے مولانا صوفی محمد کی گرفتاری کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا صوفی محمد نے حکومت سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا جس سے مالاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردوں کو تقویت ملی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا صوفی محمد گزشتہ روز منظر عام پر آئے اور انہوں نے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کی شوریٰ کا اجلاس بلانے اور مالاکنڈ ڈویژن جانے کا اعلان کیا جس کے باعث قیام امن کی کوششوں کو خطرات لاحق ہوئے۔
صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ صوفی محمد کو امن کی خاطر گرفتار کیا گیا اور ماضی میں قیام امن کے سلسلے میں ان کا جو کردار رہا ہے اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی اور اسکی روشنی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا صوفی محمد نے مالاکنڈ میں نظام عدم کے بعد اسلحہ اٹھانے والوں کو باغی قرار دینے کی بات کی تھی لیکن مینگورہ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران انہوں نے اسی کوئی بات کرنے کی بجائے یہ بات کہہ ڈالی کہ جمہوریت کفر ہے اور پاکستان میں موجودہ عدالتی نظام کفر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو تحقیقات کے بعد مولانا صوفی محمد کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات شرعی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ مولانا صوفی محمد سوات میں حالیہ آپریشن شروع ہونے کے بعد روپووش ہوگئے تھے اور چند دن قبل ہی وہ پشاور میں منظر عام پر آئے تھے جہاں وہ سٹی ٹاؤن کے علاقے میں ایک گھر میں اہل خانہ سمیت رہائش پذیر تھے۔
گزشتہ ماہ تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے نائب امیر مولانا محمد عالم اور تنظیم کے ترجمان کو سکیورٹی فورسز نے ان کے مرکز آمان درہ سے گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں فوج کے ترجمان کے مطابق انہیں دیر سے پشاور ایک فوجی قافلے میں منتقل کیا جا رہا تھا کہ دونوں سخاکوٹ کے علاقے میں ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔
حکومت نے اس ہلاکت کا الزام طالبان پر عائد کیا تھا جب کہ سوات میں طالبان ترجمان حاجی مسلم خان نے اس واقعہ کی تردید کی تھی۔ مولانا صوفی محمد اس واقعہ سے چند روز قبل اپنے بیٹوں سمیت پراسرار طورپر لاپتہ ہوگئے تھے۔







