پرنسپل کے قتل پر تین روزہ ہڑتال

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی صبح نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک ہائی سکول کے پرنسپل کو ہلاک کر دیا ہے جس پر اساتذہ نے احتجاجاً تین دن تک شہر کے تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کی صبح سریاب روڈ پر ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے سریاب مل ہائی سکول کے پرنسپل حاجی محمد محسن کو اس وقت ہلاک کردیا جب وہ اپنے گھر سے سکول جا رہے تھے۔
جب حاجی محمد محسن کی لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے سول ہسپتال لایا گیا تو سکول کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے سول ہسپتال پہنچ کر صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کئی گھنٹے تک جناح روڈ اور سریاب روڈ کو ٹریفک کے لیے بند رکھا۔
دوسری جانب ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اس واقعے کے خلاف بطورِ احتجاج تین دن تک تعلیمی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پرنسپل کے قاتلوں کی گرفتاری تک سریاب کے تمام سکولوں میں تعلیمی عمل معطل رکھا جائے گا۔
مقامی پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
خـیال رہے کہ گزشتہ ماہ کوئٹہ، مستونگ، قلات اور خضدار میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد صوبائی حکومت نے کوئٹہ میں امن و امان کی ذمہ داری فرنٹیئر کور کے حوالے کر دی تھی۔



