افغانستان میں پوست کم، پاکستان میں زیادہ

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں منشیات کے کاروبار میں گزشتہ سالوں کی نسبت کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم پاکستان میں گزشتہ برس کے دوران پوست کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کی روک تھام کے ادارے یو این او ڈی سی کی بدھ کو جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس ایک ہزار نو سو ہیکٹر رقبے پر پوست کاشت کی گئی جو دو ہزار سات کی نسبت دو سو ہیکٹر زیادہ ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ پوست کاشت کرنے والے ملک افغانستان میں اس کی کاشت میں انیس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سنہ 2008 میں افغانستان میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ ستاون ہزار ہیکٹرز رقبے پر پوست کاشت کی گئی جو سنہ2007 کے مقابلے میں انیس فیصد کم ہے۔
یہ کاشت چونتیس صوبوں میں سے صرف سات صوبوں ہلمند، قندہار، ارزگان، دیکنڈی، زابل، فرح، اور نمروز میں کی گئی ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والی افیون کا ترانوے فیصد تیار ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سنہ 2008 میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں تین لاکھ اڑسٹھ خاندان شامل تھے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد پانچ لاکھ تھی اور فی خاندان چھ افراد کی اوسطاً بنیاد پر یہ افغانستان کی آبادی کا نو فیصد بنتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زمین پر خشک پوست کی قیمت خرید سنہ 2008 میں پچانوے ڈالر تھی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بائیس فیصد کم ہے اور اس کی وجہ مارکیٹ کی عدم دستیابی، ترسیل کے اخراجات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔ سنہ 2008 میں پوست کی کاشت سے کاشتکاروں کو اندازے کے مطابق سات سو تیس ملین ڈالر آمدنی ہوئی جبکہ سنہ 2007 میں یہ آمدنی ایک بلین ڈالر تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان اورایران منشیات کی اسمگلنگ سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور سنہ 2008 میں پوست کی کاشت کی روک تھام کی کوششیں شدت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئیں۔
یو این او ڈی سی کے اہلکار انتونیو ماریہ کوسٹا کا کہنا ہے کہ ادارے نے پاکستان، ایران اور افغانستان سے مل کر منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے سہ رخی اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کے ہمسائے ممالک میں جتنی زیادہ افیم پکڑی جائے گی یورپ کی سڑکوں پر اتنی ہی کم تعداد میں ہیروئین دستیاب ہوگی اور ساتھ میں مغرب میں افیم کے استعمال میں بھی کمی ہوگی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں اور گذر گاہوں میں تبدیلی بھی ہوئی۔ مثال کے طور پر مغربی افریقہ میں منشیات پکڑنے کی تعداد میں کمی ہوئی ہے جس کی وجہ کوکین کی سمگلنگ کی گزرگاہوں میں تبدیلی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







