’فرانسیسی سیاح کو طالبان نے اغوا کیا‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنفرانسیسی سیاح دو ہفتے قبل کوئٹہ سے ایران جاتے ہوئے بلوچستان کے علاقے دالبندین کے قریب اغواءہوئے تھے۔
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے علاقے دالبندین سے دو ہفتے قبل اغواءہونے والے فرانسیسی سیاح کے اغواءکی ذمہ داری ایران کے بلوچ طالبان نے قبول کی ہے۔

فرانسیسی سیاح انتینیو دو ہفتے قبل کوئٹہ سے براستہ سڑک ایران جاتے ہوئے بلوچستان کے علاقے دالبندین کے قریب اغواءہوئے تھے۔

دالبندین میں حکومتی ذرائع کے مطابق اغواءکاروں نے فرانسیسی سیاح کی بازیابی کے لئے پچاس کروڑ روپے تاوان طلب کیا ہے۔ دو ہفتے قبل دالبندین کے قریب نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغواءہونے والے فرانسیسی سیاح کی بازیابی کےلئے حکومت بلوچستان نے ضلع چاغی کے مختلف مقامات پر تلاشی جاری رکھی ہے لیکن ابھی تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔تاہم گزشتہ روز اپنے آپ کو ایرانی طالبان کہنے والے ایک گروپ نے دالبندین کے ایک قبائلی معتبر اور سابق صوبائی وزیرعلی محمدنوتیزی کو ٹیلی فون کرکے فرانسیسی سیاح کے اغواءکی ذمہ داری قبول کرلی اور مغوی کی بازیابی کے بدلے پچاس کروڑ روپے تاوان طلب کیا ہے ۔

دالبندین میں سرکاری ذرائع نے تاوان کے مطالبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وہ گروپ خود سامنے نہیں آئے گا اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ادھر اسلام آباد میں فرانسیسی سفارتخانے کی درخواست پر صوبائی حکومت نے فرانسیسی سیاح انتینیو کے ہمراہ ایران جانے والے پانچ دوسرے ساتھیوں کو دالبندین سے کوئٹہ لانے کے بعد ایک خفیہ مقام پر منتقل کردیا ہے ۔

یاد رہے کہ اغواءکاروں نے انتینیو کو اغواءکرتے ہوئے ان کے دوسرے ساتھی جن میں دو خواتین ، ایک مرد اور ایک بچہ شامل تھا، کوچھوڑ دیا تھا۔ فرانسیسی سفارتخانے اپنے شہری کی بازیابی کے لیے بلوچستان کے بعض ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی سے بھی رابطے شروع کیے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے شہر زاہدان میں ایک ہفتہ قبل ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سرحد گزشتہ چار دنوں سے احتجاجاً بند ہے جس کی وجہ سے تفتان بارڈر پر کام کرنے والے تین ہزار سے زیادہ پاکستانی مزدوروں کو بے روزگاری کا سامنا ہے ۔

یاد رہے کہ زاہدان مسجد بم دھماکے کے بعد ایرانی حکومت نے تہران میں پاکستانی سفیر کو وزارت داخلہ طلب کرتے ہوئے نہ صرف سخت احتجاج کیا تھا بلکہ سنی تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی کی گرفتاری اور ایران کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ جنداللہ کے لوگ امریکہ کی ایماء پر پاکستان سے داخل ہوکر ایران میں شعیوں کے خلاف دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ جنداللہ کے ایک ترجمان نے ایران بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھماکہ ایران حکومت کی جانب سے بے گناہ سنی لوگوں کو سر عام پھانسی دینے کے خلاف رد عمل کے طور پر کیا گیا ۔ دھماکے میں پچیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔