’لشکرِ جھنگوی‘ کے ارکان گرفتار

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے اتوار کو کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے چار ارکان کوگرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ پولیس کا دعوٰی ہے کہ ان کا سرغنہ القاعدہ کے لیے بھی کام کرتا ہے۔
سی آئی ڈی یعنی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایس پی اسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر ماڈل کالونی کے علاقے میں اتوار کی صبح چھاپہ مارا جہاں مبینہ پولیس مقابلے کے بعد چار ملزمان کوگرفتار کیا گیا جبکہ ان کے دیگر چار ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
انہوں نے گرفتار ہونے والوں کے نام محمد انور عرف قاسم ، ریحان عرف محمود، عظیم عرف یوسف اورغلام حیدر عرف کاکا بتائے۔ انہوں نے کہا کہ ان چاروں ملزمان کوگرفتار کرنے کے بعد ان کے قبضے سے دو کلاشنکوف اور دو ٹی ٹی پستول برآمد کیے گئے جبکہ ان کے دیگر چار ساتھی علٰی الصبح اندھیرے اور تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے پچاس کلو سی فور دھماکہ خیز مواد، اور بم بنانے میں استعمال ہونے والی دیگر اشیاء بھی برآمد ہوئیں ہیں۔ اسلم خان کا کہنا ہے کہ ملزمان کا تعلق پہلے کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے تھا جبکہ ملزم محمد انور، قاری ظفر کا بھائی ہے اور قاری ظفر مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں جبکہ وہ لشکرِ جھنگوی اور القائدہ دونوں کے لیے کام کرتے ہیں۔
کیا ان ملزمان کی گرفتاری سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ کراچی شہر میں القاغدہ کے ارکان موجود ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس پی اسلم خان نے کہا کہ دراصل گرفتار ہونے والے ملزمان قاری ظفر گروپ کے ہیں، ان میں ملزم ریحان عرف محمود کا تعلق براہِ راست القاعدہ سے کبھی رہا ہے۔
ان کے بقول گرفتار شدہ ملزمان قاری ظفر سے رابطے میں تھے اور انہی کو اپنے اہداف کے بارے میں تمام معلومات فراہم کرتے تھے جبکہ قاری ظفر ان ملزمان کو یہاں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھجوایا کرتے تھے۔
اسلم خان نے بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر چند سیاسی اور کاروباری شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا ہو جبکہ یہ بھتوں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں جس سے وصول ہونے والی رقم یہ قاری ظفر کو بھجوایا کرتے تھے۔



