سوات: افضل خان لالا کا پیغام

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وادی سوات میں شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت کی آواز افضل خان لالا آج کل جہاں بھی جا رہے ہیں لوگوں کی تعریف اور داد اکٹھی کر رہے ہیں۔ وہ تقریباً ایک برس تک سوات کے طالبان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے شورش زدہ وادی میں اپنے آبائی مکان میں محصور رہے لیکن اسے چھوڑا نہیں۔
بات صرف قلعہ بند ہونے کی نہیں تھی بلکہ اس دوران انہیں کئی مرتبہ ہلاک کرنے کی کوشش کے علاوہ اپنے دو نواسوں، ڈرائیور اور ملازم کے قتل جیسے خونی وار برداشت کرنا پڑے۔ تاہم ان کا عزم آج بھی پختہ ہے۔ اسلام آباد میں حقوق انسانی کمیشن کی ایک تقریب میں ان کا کہنا تھا ’میں کیسے اپنی قوم قبیلے کو چھوڑ کر آسکتا تھا؟‘
سوات میں اپنے آبائی گاؤں تحصیل مٹہ میں جو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے شدت پسندوں کے پے درپے حملوں، جماعت کے کارکنوں اور قائدین اور بااثر شخصیات کے علاقہ چھوڑ دینے کے باوجود ان کے ایسا کرنے سے انکار نے انہیں اپنی زندگی کے اس آخری حصے میں اپنی مقبولیت اور سیاسی قد بڑھانے میں مدد دی ہے۔
سوات سے نکلنے کے بعد اب وہ جگہ جگہ اپنے خطاب میں قائد اعظم کے پاکستان کو بچانے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ تاہم وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ یہ ملک بعض غیرملکی اندازوں کے مطابق چھ سات ماہ میں ٹوٹ جائےگا۔
ان کا کہنا ہے ’اس قوم میں بڑی جان ہے، اس کے پاس تمام وسائل بھی ہیں۔ میں ہمیشہ اس کی جرات کا معترف رہا ہوں۔ یہ کوئی شیشے کا برتن نہیں کہ گرے گا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجائےگا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اگر فوج یکسوئی سے چاہے تو شدت پسندی کے مسئلے کو حل کرسکتی ہے۔ وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے کہ دنیا کے ساتویں بڑی فوج چند سو شدت پسندوں پر قابو نہیں پاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ’میری جنرل کیانی سے صرف ایک ملاقات ہوئی ہے تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کسی قسم کی مہم جوئی نہیں چاہتے‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ ان کے پاس مسئلے کا حل کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ پارلیمان کی مشترکہ قرار داد ہی اس تنازعے کا بہترین حل ہے یعنی مذاکرات، ترقی اور طاقت کا استعمال۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ ماضی میں انہیں قتل کرنے کی کوششوں میں حکومت کا کوئی ادارہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔
البتہ انہیں سوات میں دو امن معاہدے کرنے والی جماعت سے شکایت ہے کہ اس سلسلے میں ان سے بلکہ کسی بھی اصل سواتی سے اس بارے میں مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پشتون قیادت کی ناکامی نہیں کہ اس نے شدت پسندی کے طوفان کے لیے پہلے سے بند نہیں باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ’پشتون قیادت خودمختار کب ہوئی ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو کی تصدیق تو طالبان ترجمان مسلم خان نے بھی کی تھی کہ یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اب حقوق انسانی کی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ نہ صرف سرحد کے وزیر اطلاعات میاں محمد افتخارحسین بلکہ حقوق انسانی کمیشن کے سابق چیئرمین افراسیاب خٹک کو بھی اس خاتون ثمر من اللہ سے معافی مانگنی چاہیے جن کے خلاف یہ ویڈیو سامنے لانے پر انہوں نے شدید تنقید کی تھی اور اسے امن معاہدے کو ثابوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔
غیرسرکاری تنظیم چلانے والی خاتون ثمر من اللہ کو صوبائی وزیر کے اس بیان کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ روپوش ہیں۔ تاہم ان کی بیاسی سالہ زندگی کا نچوڑ اس پیغام میں ہے کہ اس ملک کو بچانے کی خاطر اسے بدعنوانی یا کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔ اس بات کا بظاہر سوات کی موجودہ صورتحال سے تعلق نظر نہیں آتا لیکن شاید اسی میں اس قضیے کی بنیادی جڑ ہو۔ ان کا اشارہ شاید معاشی بدعنوانی سے زیادہ اخلاقی بدعنوانی کی طرف ہو۔







