ایم کیو ایم کا ہڑتال کی حمایت کا اعلان

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ نے بھی بارہ مئی کو کراچی میں ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا ہے اور اے این پی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
دو سال قبل اس روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقعے پر شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس میں چونتیس سے افراد ہلاک اور نوے سے زخمی ہوگئے تھے۔
ان دنوں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی اپوزیشن اور متحدہ قومی موومنٹ حکومت میں شامل تھی۔ موجودہ وقت تینوں جماعتیں صوبائی حکومت کا حصہ ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری نے بی بی سی کو بتایا کہ حق پرست امن جرگے کے اراکین نے نائن زیرو میں ملاقات کی تھی ان کا مؤقف تھا کہ بارہ مئی کو ایم کیو ایم کے چودہ کارکنان ہلاک ہوئے، اکتیس سے زائد دفاتر جلائے گئے اور اس کے ساتھ یہ شہر اور شہریوں کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی۔ جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔
’موجودہ صورتحال کے پیش نظر حق پرست امن جرگہ چاہتا ہے کہ شہر میں پر امن سوگ منایا جائے اور پرامن ہڑتال ہو۔ اس درخواست پر متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمٹی نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔‘
بارہ مئی واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے بارے میں فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی تحقیقات سے نہیں گھبرائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات تو اب ریکارڈ پر ہے کہ وکلاء رہنماوں کی جانب سے ہی کنٹینر لگانے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو سب سے بڑا افسانہ بنا اور تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز کے پاس فوٹج موجود ہے جس میں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو بندوق برداروں کے ہمراہ دکھایا گیا اس میں ایم کیو ایم کے کسی رہنما کو نہیں دکھایا گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید نے ایم کیو ایم کی جانب سے ہڑتال کی حمایت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید نے بارہ مئی کو پیش آنے والے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ یہ کسی سیاسی ایشو پر لوگ نہیں مارے گئے بلکہ یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے گئے تھے چونکہ اب عدلیہ آزاد ہوگئی ہے لہٰذا چیف جسٹس اس کا از خود نوٹس لیں یا جوڈیشل انکوائری مقرر کریں۔ جو بھی قصور وار ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج کل شہر میں جلسے جلوسوں پر پابندی ہے۔ اے این پی کا کہنا ہے کہ وہ بارہ مئی کو صرف پرامن ہڑتال کریں گے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ اس روز جلسے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔







