’لائن آف کنٹرول کے پار ٹرک کم بھیجیں‘

- مصنف, ذوالفقار علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان تجارتی سامان لے جانے والے ایک سو چالیس ٹرک لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف گزشتہ تین روز سے پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے اس کی ذمہ داری بھارتی حکام پر ڈالی اور الزام لگایا کہ ’بھارتی حکام متنازعہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان باہمی تجارت میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ ہندوستان اور پاکستان نے ساٹھ برسوں میں پہلی بار اکیس اکتوبر سنہ دو ہزار آٹھ میں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کے لئے لائن آف کنٹرول کھولی تھی اور سرینگر اور مظفرآباد کے علاوہ راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت شروع کی گئی تھی۔
مظفرآباد میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز چوہتر ٹرک چکوٹھی کے راستے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر روانہ کیے تھے لیکن تاحال ٹرک اور ان کے ڈرائیور وہیں پر ہیں۔
مظفر آباد کے کمشنر شوکت مجید نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ انہوں نے جمعرات کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں باہمی تجارت کے لیے سہولت فراہم کرنے کی خاطر مقرر کئے گئے افسر کے ساتھ ہاٹ لائن پر رابطہ کرکے اس کی وجہ دریافت کی۔
کمشنر کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے افسر کا کہنا تھا کہ مال بردار ٹرکوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث سولہ ٹرکوں سے مال نہیں اتارا جاسکا ہے جس کی وجہ سے ٹرک واپس روانہ نہیں کئے گئے۔
شوکت مجید کے مطابق بھارتی افسر کا یہ مؤقف تھا کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت منگل اور بدھ کو ہی ہوتی ہے اس لئے آئندہ ہفتے منگل کو ان ٹرکوں سے مال اتارا جائے گا اور اس کے بعد تمام ٹرک واپس روانہ کردیے جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھارتی افسر نے مظفرآباد میں اپنے ہم منصب کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک دن میں صرف پچیس مال بردار ٹرک ہی بھیجےجائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن کمشنر کے مطابق ان کے اس خط کو اس لئے نظر انداز کیا گیا کیوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت سے متعلق طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مال بردار گاڑیوں کی تعداد پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
دوسری طرف ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسسٹنٹ کمشنر کسٹمز یشپال شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرک بہت زیادہ تعداد میں لائے گئے تھے جو کہ غیر قانونی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجارت کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا ہے اتنی زیادہ تعداد اس کی خلاف ورزی ہے۔
لیکن مظفرآباد میں ایک اور افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ بھارتی افسر نے یہ خط غالباً انتطامی مشکلات کے پیش نظر لکھا ہے کہ ان کے لئےدو روز میں ٹرکوں کی اتنی بڑی تعداد سے مال اتارنا اور اس کی سکیورٹی چیکنگ کرنا مشکل ہے۔
منگل کو لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سے آنے والی چھیاسٹھ مال سے لدے ٹرک اور ان کے ڈرائیور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
حکام کے بقول لائن آف کنڑول کے دوسری جانب آنے والے ٹرکوں سے بروقت مال اتارا گیا تھا لیکن وہ اس لئے واپس روانہ نہیں ہوئے کیونکہ طریقہ کار کے مطابق دونوں طرف سے ٹرک ایک ساتھ لائن آف کنٹرول کو عبور کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے ٹرک واپس نہیں بھیجےجاتے اس وقت تک دوسری جانب سے آنے والے ٹرک اور ان کے ڈرائیور بھی یہیں رہیں گے۔
یاد رہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی افسر نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حکام پر اس طرح کا الزام لگایا ۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال متازعہ کشمیر کے دونوں حصوں کے کشمیری افسروں کے درمیان باہمی رابطوں میں فقدان کو بھی ظاہر کرتی ہے اور دونوں طرف موجود سہولیات پر بھی سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر سنہ دو ہزار آٹھ میں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان ساٹھ برسوں میں پہلی بار تجارت کا آغاز ہوا لیکن تاجروں کو یہ شکایت ہے کہ باہمی تجارت میں اب بھی بہت ساری روکاوٹیں اور مشکلات ہیں۔







