امریکہ میں پاکستانی قبائلیوں کے چرچے

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے اس پر پاکستان کے اندر تو بحث جاری ہے لیکن ہزاروں میل دور امریکہ بھی اس حساس موضوع پر سوچ بچار میں مصروف ہے۔ اوباما پالیسی کے آنے کے بعدامریکیوں کی اس خطے کے بارے میں جاننے کی پیاس کافی بڑھی ہے۔
پاکستان نے شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے اب تک کوئی ’کاونٹر انسرجنسی‘ پالیسی تیار نہیں کی ہے اس کا احساس سب کو ہے اور اسی لیے امریکی خود اب پاکستان کے لیے ایسی کسی پالیسی کی تیاری یا اس میں مدد دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
لہذا یہ وقت پاکستان کے لیےانتہائی اہم ہے۔اگر پاکستان نےاس موقع پر اپنی رائے سے امریکیوں کو آگاہ نہ کیا تو خدشہ ہے کہ امریکی وہ فیصلے کر لیں گے جن کی بھاری قیمت پاکستان کو بعد میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
پاکستان میں سرکاری و غیرسرکاری سطح پر ایک غیرمنظم طریقے سے شدی پسندی پر قابو پانے پر بات ضرور ہو رہی ہے۔ چند سیمناروں یا پارلیمان کے اندر بند کمرے کے اجلاس لیکن عوامی سطح پر کسی وسیع البنیاد رائے پر مبنی کوئی پالیسی بنتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
امریکہ میں ایک دوست نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ہم درست وقت پر اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے تو پھر مجبوراً ہم پر فیصلے مسلط کیے جائیں گے۔ قبائلی علاقوں میں جاری ڈرون حملوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں گزشتہ دنوں قبائلی علاقوں سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ کانفرنس کا موضوع اتنا اہم تھا کہ اس کی بکنگ کئی ہفتے پہلے ہی مکمل ہوگئی۔ منتظمین یعنی غیرسرکاری تنظیم جیمز ٹاؤن فاونڈیشن کے مطابق انہیں کانفرنس سے ایک روز قبل تک مختلف سرکاری و غیرسرکاری اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے انہیں نشست دینے کی درخواستیں ملتی رہیں۔
'قبائلی علاقوں اور سرحد کے مستقبل کے عنوان سے اس سمینار میں پاکستان سے احمد رشید، شجاع نواز، امتیاز علی اور مختیار خان جیسے سینئر صحافیوں نے شرکت کی اور شدت پسندی کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ بروکینگز انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر سٹیفن پی کوہن، نیو امریکن فاونڈیشن کے پیٹر برگن اور سمتھ رچرڈسن فاونڈیشن کے ڈاکٹر مارٹن جیسے امریکی مفکرین نے بھی اپنی رائے بیان کی۔
ڈاکٹر سٹیفن پی کوہن کا جو آج کل بھارتی فوج پر کتاب لکھ رہے ہیں پاکستان کے بارے میں واضح الفاظ میں کہنا تھا کہ اس نے ابھی تک کوئی جامع’ کاونٹر انسرجنسی‘ پالیسی ترتیب ہی نہیں دی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ کسی ایسی پالیسی کی عدم موجودگی میں شدت پسندی پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم گزشتہ دنوں پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ پارلیمان کی مشترکہ قرار داد کی روشنی میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے جو شفارشات تیار کی ہیں اس سے صدر آصف علی زرداری مئی کے ابتداء میں امریکی دورے میں وہاں حکام کو آگاہ کریں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت فل الحال ان سفارشات کا جائزہ لے رہی ہے لیکن ابھی تک ان سفارشات کو عوام کے سامنے رکھنے کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں کہا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ ’کوونٹر انسرجنسی‘ پالیسی ہے یا محض سیاسی خواہشات کی ایک فہرست۔
تاہم تقریباً تمام مقررین کی مستقبل کے بارے میں پیش بینی کوئی زیادہ پرامید نہیں تھی۔ ہر کسی نے مختلف واقعات و مشاہدات کو بنیاد بنا کر حالات کی مزید خرابی کی ہی پیشگوئی کی۔
لیکن سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے خصوصی مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ کلکولن کی تقریر سے احساس ہوا کہ شاید امریکیوں کو پاکستان میں اپنی اب تک کی پالیسی پر قدرے ندامت بھی ہے اور وہ اسے اب درست بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک خیال یہ بھی آیا کہ شاید یہ صاحب بھی اسی مسئلے کا شکار ہیں کہ حکومت میں ہوتے ہوئے کچھ اور باتیں اور باہر کچھ اور۔
'فاٹا میں حادثاتی گوریلا سینڈروم‘ کے عنوان سے اپنے خطاب میں ڈاکٹر ڈیوڈ کلکولن کا کہنا تھا کہ اگر ڈرون حملے پاکستان حکومت کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں تو انہیں جاری نہیں رکھنا چاہیے۔ ’ہم نہیں چاہیں گے کہ شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ہم حکومت کو ہی اتنا کمزور کر دیں کہ شدت پسندوں کا مقصد پورا ہو جائے۔‘
کینیڈا میں قائم ایک سکیورٹی فرم کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو میک گریگر نے نیٹو فورسز کے سامان رسد پر پاکستان میں حملوں سے پیدا صورتحال میں دیگر راستوں پر ایک بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر کے راستے سامان رسد کی ترسیل کا بہترین، کم خرچ اور جلد پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ تاہم طالبان حملوں کے بعد وہ دیگر راستوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کے بعد دوسرا بہترین راستہ ایران کی نئی بندرگاہ چاہ بہار ہے جہاں سے پاکستان سے بھی زیادہ جلد اور کم خرچے میں سامان افغانستان منتقل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ ایران کے ساتھ تجارت نہ کرنے کے امریکی فیصلے کا ہے۔ ’اگر امریکہ یہ ضد ترک کرتا ہے تو پھر پاکستان کی ضرورت اسے نہیں رہے گی۔‘
کتاب ’کراس سورڈز‘ کے پاکستانی مصنف شجاع نواز نے امریکی صدر اوباما کی نئی پالیسی کے بارے میں کہا کہ ’دل تو درست جگہ معلوم ہوتا ہے لیکن دماغ نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا رچرڈ ہالبروک کے گزشتہ دورے سے واضح ہوگیا تھا کہ وہ کس قسم کا رویہ پاکستان کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر امریکہ دوست اس طرح سے بناتا ہے تو میرے خیال میں اسے دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔‘
امریکہ اور پاکستانی اپنی اپنی جگہ مشاورت میں مصروف ہیں جن کے نتائج کا براہ راست اثر پاکستانی عوام پر ہوگا۔ جنوبی ایشا کے ماہر ڈاکٹر سٹیفن پی کوہن نے امریکہ اور پاکستان کی جانب سے روس کے خلاف شدت پسندوں کی مدد کے بارے میں کہا کہ ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ آیا وہ ایک اچھا اقدام تھا یا نہیں۔ ’دی جیوری از آوٹ بٹ ناٹ دی ورڈکٹ۔‘
پاکستانیوں نے تو اس کا اندازہ لگا لیا ہے اور اس کی کافی بھاری قیمت بھی ادا کر رہے ہیں لیکن امریکہ کو شاید اس غلطی کا اندازہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ امید ہے کہ اسے بھی جلد اندازہ ہو جائے پاکستان کے لیے بہت دیر ہونے سے قبل۔







