انڈیاکی فائرنگ، پاکستان کا الزام

لائن آف کنٹرول
،تصویر کا کیپشنساڑھے چار سال تک لائن آف کنٹرول پر عام طور پر صورت حال بہتر رہی
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفر آباد

پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی فوج نے جمعہ کی رات کو لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔

اس سال لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی بھارتی خلاف ورزی کا پاکستان کی فوج جانب سے یہ پہلا الزام ہے۔

پاکستان کی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے بھارتی فوج نے سرحدی قصبہ چکوٹھی کے قریب پانڈو سیکڑ میں بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ کی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق بلا اشتعال فائرنگ پر بھارتی حکام کے سے احتجاج کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی فوج نے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور وہ یہ کہ فائرنگ وقفے وقفے سے دو گھنٹے تک جاری رہی تاہم کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج نے بھی جواب میں فائرنگ کی۔ گزشتہ سال کے دوران لائن آف کنٹرول پر ہندوستا اور پاکستان کی فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔

لیکن اب تک فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ملکوں کی فوجوں کی چوکیوں تک ہی محدود رہا اور کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہنے والے عام شہری متاثر نہیں ہوئے۔

گزشتہ سال ستمبر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہوئی تھی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزارتین میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔

اس دوران تقریباً ساڑھے چار سال تک لائن آف کنٹرول پر عام طور پر صورت حال بہتر رہی اور فائرنگ کے تبادلے کے محض اکا دکا واقعات پیش آئے۔

ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ مسلح کرنے اور لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھیجنے کا الزام لگاتا رہا لیکن پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔