نیب کے آٹھ کھرب کی ریکوری کے دعوے مگر ریکارڈ صرف 15 ارب کا، حقائق کیا ہیں؟

نیب

،تصویر کا ذریعہNAB

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے قومی ادارہ برائے احتساب (نیب) نے جو ریکارڈ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا ہے اس کے مطابق نیب نے اپنے قیام سے اب تک تقریباً آٹھ کھرب 86 ارب روپے کی ریکوریاں کی ہیں لیکن وزارت خزانہ کے مطابق اب تک صرف 15 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے ہیں۔

پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے وزارت خزانہ کے اس بیان کے بعد یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اگر قومی خزانے میں نیب نے دو دہائیوں سے زائد عرصے میں صرف 15 ارب جمع کروائے ہیں تو پھر اخراجات، تنخواؤں اور دیگر بجٹ کا کیسے دفاع کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو گذشتہ ہفتے نیب کو گذشتہ تین برس میں ملنے والے بجٹ کی تفصیلات بتائی گئیں، جن کے مطابق سال 2019-20 میں نیب کو نو ارب روپے سے زیادہ بجٹ ملا، سال 2020-21 میں یہ بجٹ 5.1 ارب جبکہ سال 2021-22 کے لیے نیب کو 4.8 ارب روپے ملے۔

نیب نے تحریک انصاف کے دور اقتدار میں تحقیقات پر 18 ارب روپے خرچ کیے۔ سنہ 2018-19 سے لے کر 2020-21 تک یہ رقم مقدمات دائر کرنے اور پھر ان کی تحقیقات پر خرچ کی گئی۔

نیب کے مطابق ریکوری کی مالیت اور جمع کروائی گئی رقم میں فرق اس لیے ہے کیونکہ یہ ریکوریاں صرف رقم کی صورت میں نہیں بلکہ جائیداد اور دیگر اثاثوں کی صورت میں بھی ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے نیب سے ریکوریوں کی تمام تفصیلات طلب کیں اور کہا کہ وہ ان ریکوریوں کا آزادانہ آڈٹ بھی کریں گے۔

نور عالم خان نے کہا کہ جو رقم نیب کے پاس آئے گی اس کا آڈٹ ضرور کیا جائے گا، نیب جو بھی وصولیاں کرتا ہے وہ قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے، جو ادارہ حکومت کا ایک پیسہ بھی لے گا اس کا آڈٹ ضرور ہو گا۔

بی بی سی نے نیب کے متعدد سابق سربراہان سے رابطہ قائم کر کے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی مگر انھوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

تاہم نیب نے وضاحت کی کہ نیب ایک روپیہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتا، نیب کا ایک ہی اکاؤنٹ ہے جس میں تمام وصولیوں کی رقم رکھی جاتی ہے۔

بی بی سی نے نیب کے آغاز سے لے کر آج تک کی ریکوریوں کا جائزہ لیا ہے تاہم اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور سینیٹ تک محدود رہا جائے تو پھر نیب کی ریکوری اور کامیابی کے دعؤوں کا جائزہ لینے سے قبل جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے دور کے نیب کا سب سے پہلے جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

اس دور کو جاوید اقبال کا دور کہا جائے یا تحریک انصاف کا مگر اس وقت عمران خان موجودہ حکومت کے خلاف اس وجہ سے سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں کیونکہ نیب کے قانون میں ترامیم متعارف کروائی جا چکی ہیں۔

عمران خان اسے احتساب کے عمل کو ختم کرنے اور ’این آر او‘ دینے کا عمل قرار دے رہے ہیں تاہم حکومت کے خیال میں ان ترامیم سے نیب کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال اور غیر ضروری مداخلت کے عمل کو ختم کیا گیا ہے۔

جاوید اقبال

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسابق چیئرمین نیب جاوید اقبال

جاوید اقبال کے دور میں نیب کو کس حد تک کامیابی ملی؟

نیب ریکارڈ کے مطابق سنہ 2018 میں نیب کی احتساب عدالتوں سے 78 مقدمات یعنی ریفرنسز میں ملزمان کو سزا ہوئی جبکہ 56 میں ملزم بری ہو گئے۔ نیب کے مطابق کامیابی کی شرح 58 فیصد بنتی ہے۔

نیب ریکارڈ کے مطابق سنہ 2019 میں نیب کی احتساب عدالتوں سے 53 مقدمات میں ملزمان بری ہوئے جبکہ 43 مقدمات میں ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ نیب کے مطابق احتساب عدالتوں سے کامیابی کی شرح 44 فیصد رہی۔

ہائیکورٹ سے 136 اپیلوں میں نیب کے خلاف فیصلے آئے جبکہ 74 میں نیب کے حق میں فیصلہ آیا۔ نیب کے مطابق کامیابی کی شرح 35 فیصد رہی۔

نیب کے ریکارڈ کے مطابق سنہ 2020 میں نیب کے قائم کردہ 66 ریفرنسز میں ملزمان بری ہو گئے جبکہ 31 مقدمات میں ملزمان کو احتساب عدالتوں سے سزا ہو سکی۔ یوں تحریک انصاف کے احتساب کے نعرے کے تحت نیب نے اس برس صرف 31 فیصد کامیابی حاصل کی۔

نیب کے مطابق سنہ 2020 میں ہائیکورٹ میں 71 اپیلیں نیب کے حق میں جبکہ 54 میں اس کے خلاف فیصلہ آیا۔ نیب کے مطابق کامیابی کی یہ شرح 56 فیصد تک بنتی ہے۔

نیب ریکارڈ کے مطابق سپریم کورٹ نے سنہ 2020 میں 35 مقدمات میں نیب کے حق میں فیصلے سنائے جبکہ 13 مقدمات میں نیب کے خلاف فیصلے صادر ہوئے۔ نیب کے مطابق پراسیکیوشن کی کامیابی کے سبب سپریم کورٹ میں نتیجہ 72 فیصد تک رہا۔

نیب کے مطابق ابھی سال 2021 اور 2022 کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔

میڈیا کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق قومی احتساب بیورو نے سنہ 2019 میں بالواسطہ اور بلاواسطہ 137 ارب روپے ریکور کیے جبکہ سنہ 2018 سے لے کر 31 دسمبر 2020 تک 321 ارب ریکور ہوئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب نے حقیقت میں یہ ریکوری کی ہے یا پھر اچھے مستقبل کی امید میں یہ اعداد و شمار پریس ریلیز کی شکل میں جاری کر دیے ہیں؟

اکتوبر 2019 کے آغاز میں نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ریکور کی جانے والی رقم 71 ارب روپے ہے تاہم دو، تین ماہ کی قلیل مدت میں ریکوری کا دعویٰ 71 ارب سے بڑھ کر 153 ارب تک پہنچا دیا گیا تھا مگر نیب کے اپنے مرتب کردہ ریکارڈ سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

نیب کا دعویٰ ہے کہ اپنے قیام سے اب تک اس نے آٹھ کھرب 86 ارب روپے کی ریکوریاں کی ہیں جبکہ وزارت خزانہ کے مطابق اب تک صرف 15 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے ہیں۔

نیب حکام کے مطابق بہت ساری ریکوریاں ایسی ہیں جو پیسوں میں نہیں بلکہ جائیداد اور دیگر طریقے سے بھی ہوئیں۔

نیب کے مطابق اس نے سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر 110 ارب روپے ریکور کیے۔

نیب ریکوریاں

،تصویر کا ذریعہNAB

نیب کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق بینک براہ راست نیب کو ریکوری کے لیے نہیں کہتے بلکہ وہ سٹیٹ بینک سے رجوع کرتے ہیں اور پھر سٹیٹ بینک نیب کی خدمات حاصل کرتا ہے۔

نیب کے مطابق اس نے گذشتہ دو دہائیوں میں 91 ارب روپے خود ریکور کیے یعنی پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی یا والنٹری ریٹرن سے یہ پیسہ حاصل ہوا۔

نیب کے ریکوریوں کے دعوے کی تفصیلات میں جانے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ نیب براہ راست ملزمان سے ریکوری کرتا ہے وہ پلی بارگین (سزا سے پہلے ملزم سے ڈیل) اور والنٹری ریٹرن (مبینہ غبن سے کچھ حصہ رضاکارانہ واپسی پر آمادگی) کے طریقوں سے کرتا ہے۔

نیب کے مطابق اس نے اپنے قیام سے آج تک 2341 پلی بارگین کی ہیں۔ اس عمل میں نیب احتساب عدالت میں ڈیل کی تمام تفصیلات بتا دیتا ہے اور چیئرمین نیب کی منظوری اور عدالت کی اجازت سے ریکوری کر کے مقدمہ ختم کر دیا جاتا ہے۔

نیب نے 20 برس سے زائد کے عرصے میں 3194 والنٹری ریٹرن کو یقینی بنایا ہے۔ اس عمل میں ملزم طویل عدالتی جنگ سے بچنے کی خاطر نیب کی طرف سے عائد کیے جانے والے الزامات میں سے کچھ رقم واپس کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

نیب کے مطابق اس نے 546 ارب روپے بالواسطہ ریکور کیے ہیں جبکہ قرضوں کی ری شیڈولنگ اور ری سٹرکچرنگ آف لون کی مد میں 59 ارب ریکور کیے گئے جبکہ مختلف عدالتوں سے جرمانوں کی صورت میں 50 ارب روپے ریکور کیے گئے۔

نیب کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق نیب نے پنجاب کوآپریٹو بورڈ فار لیکیوڈیشن (پی سی بی ایل) مقدمے میں 16 ارب ریکور کیے گئے۔

اعداد و شمار کی حقیقت پر سوالات

نیب کے حال ہی میں مستعفی ہونے والے ایک عہدیدار نے ان اعداد و شمار کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے اعداد و شمار جمع کرنے کے عمل میں شفافیت نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نیب متعدد مقدمات میں خود ہی اپنی ٹیم کو کمزور مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

عہدیدار کے مطابق نیب میں نہ ملازمت کا کوئی شفاف طریقہ کار موجود ہے اور نہ مراعات کی تقسیم میرٹ پر کی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق پسندیدہ عہدیداروں کو اضافی تنخواہ بھی دی جاتی ہے مگر عام ملازمین کا کوئی پرسان حال نہیں۔

نیب کے ترجمان محمد ندیم خان نے اس تاثر کی تردید کی ہے اور ان کے مطابق نیب کا ایک اپنا طریقہ کار ہے اور چیئرمین نیب سمیت تمام اعلیٰ عہدیداران ریکوری کے سارے عمل کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔

تاہم نیب ترجمان سے جب زمینوں کی مالیت مقرر کرنے کے طریقہ کار سے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے پوچھ کر تفصیلات شیئر کریں گے۔ اس رپورٹ کے فائل ہونے تک ان کی طرف سے تفصیلی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

روپے، نیب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیب کے ایک تفتیشی افسر کے مطابق نیب کا ریکارڈ متعدد جگہوں پر دستیاب ہوتا ہے اس میں ردوبدل یا جعل سازی اتنی آسان نہیں تاہم ان کے مطابق پی اے سی کو نیب کے آڈٹ کا اختیار حاصل نہیں کیونکہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔ نیب افسر کے مطابق ریکوری کے لیے ہر مہینے ایک پروفارمہ پُر کرنا ہوتا ہے۔

ان کی رائے میں نیب کے پانچ ہزار سے زائد ملازمین ہیں اور نیب کے تمام ریجن اور ونگ بڑی محنت سے کام کرتے ہیں اور اس طرح انھیں ملنے والی مراعات پر اعتراضات بلاجواز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قانونی طور پر نیب کے دعوؤں کی چھان بین کیسے ممکن؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فارنزک آڈٹ سے ہی یہ حقیقت سامنے لائی جا سکتی ہے کہ دراصل نیب نے کتنی ریکوری کی ہے اور اس عرصے میں نیب پر سرکار کا کتنا پیسا خرچ ہوا۔

نیب کی درجہ بندی کے مطابق ریکوری آٹھ مد میں ہوتی ہے:

  • والنٹری ریٹرن
  • پلی بارگین
  • بینکوں کے قرضوں کا معاملہ جو نیب دیکھ رہا ہے
  • وہ قرضے جو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ کیے
  • قرضوں کی ری سٹرکچرنگ یا ری شیڈولنگ
  • پنجاب کوآپریٹو بورڈ لمیٹڈ (پی سی بی ایل) کے مقدمے میں ریکوری
  • عدالت کی طرف سے عائد جرمانے
  • ’ان ڈائریکٹ‘ طریقے سے ریکوری

نیب کی درجہ بندی کے مطابق زیادہ تر ریکوری سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے بینک قرض ڈیفالٹرز کی صورت اور بالواسطہ طریقوں سے ہوئی ہے یعنی جس میں نیب کا براہ راست کوئی کردار نہیں ہوتا۔

’اِن ڈائریکٹ‘ یعنی بالواسطہ ریکوری وہ ہوتی ہے جیسے عدالت کسی مقدمے میں کسی ملزم کو کہتی ہے کہ وہ اتنے پیسے قومی خزانے میں جمع کروا دے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو 460 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروانے حکم دیا۔

ملک ریاض جیسے جیسے رقم سپریم کورٹ میں جمع کروا رہے ہیں نیب بھی اس جمع شدہ رقم کو اپنی دستاویزات میں اِن ڈائریکٹ ریکوری کی مد میں ظاہر کرتا جا رہا ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر نیب کا ہی ریفرنس تھا جس کی بنیاد پر پیسے قومی خزانے میں جمع کروائے جا رہے ہیں۔

تاہم نیب ترجمان نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ جو پیسہ قومی خزانے میں چلا جاتا ہے تو ریکوری کی تمام اقسام میں نیب کا کردار ضرور شامل ہوتا ہے۔

عرفان قادر

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشنعرفان قادر کہتے ہیں کہ قانون کا سب پر یکساں اطلاق یقینی بنایا جائے گا

والنٹری ریٹرن یا پلی بارگین کا عمل کیسے طے پاتا ہے؟

میگا کرپشن کیسز (بد عنوانی کے بڑے مقدمات) میں نیب کو ملزمان کے ساتھ بارگین یعنی ڈیل کرنے جیسے اختیارات بھی حاصل ہیں، جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی ہے۔

والنٹری ریٹرن یعنی ملزمان کا عدالتی کارروائی سے قبل مبینہ طور پر لوٹی گئی دولت کا کچھ حصہ اپنی مرضی سے واپس دینے پر رضامند ہو جانا۔

قانونی ماہرین کے خیال میں اس عمل میں پراسکیوشن کا کوئی کمال نہیں ہوتا بلکہ نیب قوانین کے تحت عدالتی جنگ سے پہلے ہی وقت اور وسائل بچانے کے غرض سے ایسی ڈیل کی جاتی ہے جس کے تحت ملزم مبینہ طور پر لوٹی گئی دولت کے کچھ فیصدی حصے کو واپس کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے۔

اس عمل میں عدالتی توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔

البتہ پلی بارگین انوسٹیگیشن اور ٹرائل کے دوران بھی کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں صرف ٹرائل کورٹ سے توثیق حاصل کی جاتی ہے۔

’نیب کو پالیسی دیں گے، کوئی مقدس گائے نہیں‘

وزیراعظم شہباز شریف کے نئے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ امور عرفان قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون کا اطلاق سب پر ایک جیسا ہو کیونکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں۔

خیال رہے کہ عرفان قادر خود بھی نیب کے پراسکیوٹر جنرل رہ چکے ہیں۔

عرفان قادر کے مطابق ان کا مینڈیٹ یہ ہے کہ انھوں نے احتساب کے سب اداروں کی نگرانی کرنی ہے اور انھیں پالیسی بھی دینی ہے۔ عرفان قادر کے مطابق احتساب سب کا ہوگا اور نیب ان کے ماتحت ادارہ ہے جس کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔