پاکستان میں سیلاب: کیا جنوبی پنجاب ایک ماہ میں تیسری بار ڈوب سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو
لگ بھگ دو ہفتے پہلے کی بات ہے۔ ہم راجن پور کی تحصیل فاضل پور سے ہوتے ہوئے کوہِ سلیمان کے پہاڑوں کی طرف سفر کر رہے تھے۔ زیادہ تر راستوں پر پختہ سڑکیں اور پل موجود تھے۔ سرحدی علاقے کی طرف پہنچنے پر کہیں کہیں کچا راستہ تھا جہاں گاڑی کے پھنسنے کا خطرہ ہوتا تھا۔
کوہِ سلیمان کے پہاڑ اس سیلاب کو جنم دیتے ہیں جو صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں تباہی مچاتا ہے اور ان پہاڑوں سے نکلنے والے نالوں کا پانی میلوں پر پھیلے علاقے میں لوگوں کے مکان گراتا، فصلیں تباہ کرتا اور مویشی بہا کر لے جاتا ہوا نیچے دریائے سندھ میں جا کر گرتا ہے۔
ہمارے پہنچنے سے محض چند روز قبل ہی ایسا ہوا تھا۔ فاضل پور ہی کا ایک بہت بڑا علاقہ پانی میں ڈوب گیا۔ کئی دیہاتوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مکان گر گئے اور کچھ تو کئی دنوں کے لیے باقی علاقے سے کٹ کر رہ گئے تھے۔
لیکن زیادہ تر پختہ سڑکیں اور پل سلامت تھے۔ راجن پور شہر کے پاس سے گزرتی انڈس ہائی وے بھی صحیح سلامت تھی۔ راجن پور سے فاضل پور کی طرف سفر کرتے جب آپ اس شہر سے ذرا باہر نکلتے ہیں تو سڑک کے دونوں اطراف جہاں تک نظر دوڑائیں وہاں پانی تھا۔
سڑک کنارے ریسکیو 1122 نے اپنا ایک کیمپ لگا رکھا تھا جہاں دو تین موٹر والی کشتیاں اور ایک ایمبولینس کھڑی تھی۔ انھی کشتیوں کی مدد سے چند روز قبل ریسکیو اہلکاروں نے قریبی دیہاتوں میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالا تھا۔
اب یہاں سے انھیں امدادی سامان اور راشن وغیرہ دیا جا رہا تھا۔ بارشیں تھم گئی تھیں تو لوگ اب اس فکر میں تھے کہ سیلاب کا پانی کب تک سوکھے گا۔ لوگ اپنے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے تھے۔ جن کے گھر مکمل تباہ ہو گئے تھے وہ حکومت کی طرف دیکھ رہے تھے۔
یہیں میری ملاقات چک پکتیات کے رہائشی محمد اختر سے ہوئی تھی۔ 19 سالہ اختر اور ان کے والد نے سات سے آٹھ سال تک محنت کر کے اتنے پیسے جمع کیے تھے کہ اپنے گاؤں میں دو کمروں کا ایک چھوٹا سا مکان بنا پاتے۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ سو رہے تھے جب ’رات ایک بجے کے قریب پانی آیا اور ہمیں اس وقت پتہ چلا جب ہماری دیوار گر گئی۔ پھر ہم دوڑے اور سامان وغیرہ باہر نکالا اور خواتین اور بچوں کو باہر نکالا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
Overview of Gudpur, Dera Ghazi Khan, Punjab
اگلے ہی روز ان کا گھر مکمل گر گیا۔ اب چند دیواریں کھڑی تھیں۔ خواتین گھر کے ملبے کے درمیان ایک خیمے میں رہ رہیں تھیں جبکہ مرد باہر صحن میں چارپائیاں ڈال کر سو رہے تھے۔ محمد اختر پریشان تھے کہ 'اب نئے سرے سے پھر پیسے جوڑنے پڑیں گے۔' اور یہ مشکل کام تھا کیونکہ وہ دونوں باپ بیٹا دوسرے شہر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔
فاضل پور سے لگ بھگ 20 کلو میٹر آگے جام پور کی تحصیل میں ایک چھوٹا سا شہر حاجی پور آتا ہے۔ یہاں ایک دربار واقع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ صوفی بزرگ خواجہ نور محمد کا دربار ہے۔ ان دنوں دربار پر میلہ سجا ہوا تھا اور لوگوں کی بھیڑ تھی۔
مٹھائیوں کی دکانیں سجی تھیں اور بچے اپنے والدین کے ساتھ باہر لگے سٹالوں سے کھلونے خریدتے دکھائی دے رہے تھے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ارد گرد ہزاروں لوگ سیلاب کی آفت میں مبتلا ہیں۔
سیلاب کے پہلے دور کی کہانی
ہم کوہَ سلیمان میں درہ کاہ سلطان کی طرف سفر کر رہے تھے۔ یہ علاقہ صوبہ بلوچستان کے ساتھ لگتا ہے۔ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ درے میں سے نکلنے والا پانی اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کیوں مچاتا ہے۔ یہ پانی کہاں سے آتا ہے اور پھر اپنی حدود سے باہر کیوں نکلتا ہے۔
یہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ سنہ 2010 میں آنے والے بڑے سیلاب میں اس درے سے 74 ہزار کیوسک پانی کا ریلا نکلا تھا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاہی تھی۔ ابھی چند روز قبل یہاں سے 40 ہزار کیوسک پانی کا ریلا نکلا۔ اس نے بھی کافی نقصان کیا۔
Pakistan Floods 4
کاہ سلطان سے چند کلومیٹر قبل قدرے دلدلی زمین میں ہماری گاڑی دھنس گئی جس کو نکالنے کے لیے تین سے چار افراد کو دھکا لگانا پڑا تھا۔ یہاں بارشیں نسبتاً زیادہ ہوئی تھیں اس لیے جگہ جگہ ایسی دلدلی زمین موجود تھی۔
درہ کاہ سلطان پر بارڈر ملٹری پولیس کی ایک چیک پوسٹ ہے جس کے دوسری طرف چند گز پر سڑک ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں سے آپ کو درہ تو نظر آتا ہے لیکن نیچے چلتے ہوئے پانی کا صرف شور سنائی دیتا ہے۔ ایک طرف پہاڑوں کا سلسلہ ہے اور کئی قدم چلنے کے بعد نیچے نالے کا پانی واضح ہوتا ہے۔
اس وقت پانی کی سطح بہت نیچے تھی۔ لیکن درہ بہت کشادہ تھا اور پہاڑی سلسلے میں سانپ کی طرح رینگتا پانی بلوچستان سے پنجاب کے ضلع راجن پور میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہاں سے ہزاروں نہیں ایک لاکھ سے کہیں زیادہ کیوسک پانی باآسانی گزر سکتا ہے۔
لیکن اتنا زیادہ پانی یہ نالہ لیتا کہاں سے ہے؟ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ بگٹی، کاہان اور کچی کلات وغیرہ میں جو بارشیں ہوتی تھیں ان کا تمام پانی اور کوہ سلیمان کے وسیع پہاڑی سلسلے پر ہونے والے بارشوں کا پانی کاہ سلطان میں شامل ہوتا ہے۔
راجن پور سیلابی پانی میں کیسے پھنستا ہے؟
کاہ سلطان اور کوہَ سلیمان سے نکلنے والا ایک اور نالہ چھاچھڑ زیادہ تر راجن پور کو متاثر کرتے ہیں۔ کلیم اللہ کاہ سلطان کے راستے ہی پر واقع لنڈی سیدان کی بستی کے باسی ہیں۔ سنہ 2013 سے پہلے پر مرتبہ سیلاب میں ان کی بستی ڈوب جایا کرتی تھی۔
'پھر ہمارے علاقے کے سردار نے ہمیں سیلاب بند بنوا کر دیا اس کے بعد سے اب تک ہماری بستی نہیں ڈوبتی چاہے جتنا بھی سیلاب آئے۔' کلیم اللہ گزشتہ کئی برس سے کاہ سلطان نالے میں پانی کی سطح کو ناپنے کا کام کرتے آ رہے ہیں یعنی گیج ریڈر ہیں۔
Pakistan flood 3
انھوں نے بتایا کہ جب بھی بلوچستان اور کوہِ سلیمان پر بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تو کاہ سلطان میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔ یہ پانی کافی رفتار سے آتا ہے۔ اس کے راستے میں کچھ بھی ٹھہر نہیں سکتا۔ کئی مقامات پر وہ اپنی حدود سے باہر نکل جاتا ہے۔
کلیم اللہ کے خیال میں اس کی وجہ وہ رکاوٹیں ہیں جو انسانوں نے خود نالے کے راستے میں کھڑی کر رکھی ہیں جیسے کے چھوٹے چھوٹے بند، فصلیں اور کئی جگہوں پر مکانات۔ 'جب یہ پانی باہر نکلا تو میلوں دور تک چلا گیا۔ اس کی زد میں گھر بھی آئے اور کھڑی فصلیں بھی۔ سب کچھ بہہ گیا۔'
کئی کلومیٹر پر تباہی کرتا ہوا کاہ سلطان دریائے سندھ میں جا کر گرا۔ دریا پہلے ہی بپھرا ہوا تھا۔ اسی طرح کے کئی نالوں کا پانی اس میں شامل ہو رہا تھا اور پھر دریائے کابل اور شمالی علاقوں سے آنے والا پانی بھی دریائے سندھ کی سطح کو بلند کر چکا تھا۔
جب دریائے سندھ اپنی حدود سے باہر نکلا تو اس نے راجن پور، تحصیل جام پور اور روجھان کے بڑے علاقے کو ڈبو دیا۔ موضع ہیرو، قادرہ کریک، بیٹ سونترہ، بستی لاشاری، کوٹ مٹھن، بمبکہ، روجھان، شاہوالی اور کئی دوسرے قصبے پانی کی زد میں آ گئے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
تونسہ میں سیلاب کا منظر
درہ کاہ سلطان ہی کی طرح کے کئی نالے کوہِ سلیمان سے نکل کر ضلع ڈیرہ غازی خان میں بھی داخل ہوتے ہیں۔ ان کی روانی اور تباہی کا انداز بھی کاہ سلطان سے ملتا جلتا ہے۔ اور یہ بھی دریائے سندھ میں جا گرتے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے موسٰی خیل سے پانی تونسہ میں داخل ہو کر تباہی مچاتا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں فاضلہ کچھ، بارتھی، بنگلون کچھ، سراٹی، چوئل، چتروٹہ اور مبارکی جیسی بستیاں اس مرتبہ ہونے والی بارشوں سے تباہ ہو چکی تھیں۔ نیچے میدانی علاقوں میں بھی سوکڑ، منگروٹھہ، ببی، جلو والی اور ناڑی سمیت کئی علاقے شامل ہیں۔
اور دریائے سندھ نے بھی ڈیرہ غازی خان کے کچے کے علاقے کی کئی بستیوں کو تباہ کر دیا تھا جہاں ہزاروں ایکڑ پر پھیلی کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہو چکی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

سیلاب کا دوسرا دور
ٹھیک اس وقت جب لوگ گرے ہوئے گھروں کی مرمت اور کچھ اپنے علاقوں میں واپس لوٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تو پاکستان کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔
ایک مقامی صحافی کے مطابق 'ڈیرہ غازی خان میں تونسہ اور راجن پور میں جام پور اور فاضل پور کے علاقے کے لوگوں نے اتنا پانی دیکھا جو شاید انھوں نے کبھی اس سے پہلے زندگی میں نہیں دیکھا ہو گا۔'
درہ کاہ سلطان میں ایک لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا ریلہ اگست کے وسط میں گزرا۔ اگلے چند دنوں میں مسلسل کئی روز تک 50 سے 70 ہزار کیوسک کے ریلے گزرتے رہے۔
کچھ ہی روز میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی مون سون کی بارشوں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ یوں دریائے سندھ اور پنجاب کے دوسرے دریاؤں میں بھی پانی کی سطح انتہائی بلند ہو گئی اور دریائے سندھ نے بھی ایک مرتبہ پھر راجن پور کو ڈبو دیا۔
ٹبی لونڈان، حاجی پور، جام پور اور فاضل پور کے وہ علاقے جن سے ہم محض چند روز قبل باآسانی گزر گئے تھے اب وہاں کئی کئی فٹ گہرا پانی کھڑا ہے۔

،تصویر کا ذریعہKhalifa Suleman Yar
دربار، محمد اختر اور کلیم اللہ کا کیا بنا؟
مقامی افراد نے بتایا کہ حاجی پور کے اس شہری علاقے کو چھوڑ کر جہاں دربار واقع تھا اور کچھ روز پہلے تک لوگ میلہ دیکھنے سائیکلوں، ریڑھیوں اور موٹر سائیکلوں پر آ رہے تھے باقی سب جگہ پانی تھا۔
فاضل پور شہر کا غربی حصہ مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا تھا۔ کلیم اللہ کی بستی لنڈی سیدان میں بھی سیلابی بند کو کئی مقامات پر شگاف ڈال کر پانی آبادی میں داخل ہوا تھا۔
ہم نے فاضل پور کے دیہات چک پکتیات میں محمد اختر کے خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہو پایا۔ اطلاعات کے مطابق دیہات کی زیادہ تر آبادی محفوظ مقامات کی طرف چلی گئی ہے۔ جہاں اختر کے گھر کا ملبہ پڑا تھا وہ جگہ بھی اب پانی میں ڈوب چکی ہے۔
Pakistan floods 2
ہمیں بتایا گیا کہ ہم دوبارہ اسی چھوٹی گاڑی میں اب فاضل پور میں وہاں تک بھی نہیں جا سکتے جہاں ریسکیو 1122 نے کیمپ لگا رکھا تھا۔ وہ سڑک بھی پانی کے نیچے تھی۔ ان دیہات اور متاثرین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا جو باقی علاقے سے کٹے ہوئے تھے۔
مقامی افراد کے مطابق ضلع راجن پور کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ زیرِ آپ آ چکا ہے۔ دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی اب تک کئی ایسے مقامات ہیں جہاں لوگوں نے دعوٰی کیا ہے کہ امداد بھی نہیں پہنچ رہی۔
ہمیں چند لوگوں نے ان علاقوں سے ویڈیو پیغامات بھجوائے ہیں جن میں ان کا کہنا ہے کہ وہ چاروں طرف پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کو باقی علاقوں سے ملانے والے راستے پانی کے نیچے جا چکے ہیں جن کو تاحال بحال نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق ان کے پاس خوراک اور ادویات نہیں ہیں۔
'نہیں معلوم کتنے لوگ مرے، جو زندہ ہیں کس حال میں ہیں'
دوسری طرف ڈیرہ غازی خان میں تونسہ کے علاقے میں حالات بظاہر زیادہ خراب ہیں۔ مقامی صحافیوں اور مقامی افراد کے مطابق کوہِ سلیمان پر واقع ایک بہت بڑی آبادی کے لوگ گزشتہ کئی روز سے اپنے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
تونسہ کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ 'یہاں مٹی کے پہاڑ ہیں جن پر پھسلن اور مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکیں اور راستے ختم ہو گئے ہیں اس لیے ریسکیو اور ریلیف پہنچانے والے افراد کے لیے بھی ان علاقوں میں رسائی مشکل اور انتہائی دشوار گزار ہے۔'
لوگوں تک امدادی سامان پہنچانے کا واحد ذریعہ ہیلی کاپٹر رہا ہے جس کی مدد سے حکومتی امدادی اداروں نے چند روز قبل وہاں کئی علاقوں میں امدادی سامان پھینکا ہے۔
تاہم مقامی افراد کے مطابق 'وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور وہ کس حال میں ہیں اس کا درست اندازہ اسی وقت ہو پائے گا جب ان علاقوں کے ساتھ زمینی رابطہ بحال ہو گا۔ ابھی یہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں معلوم کہ برساتی نالوں میں سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے ان علاقوں میں کتنی اموات ہوئی ہیں۔'
محض ایک روز قبل پہاڑوں میں واقع بارتھی کا رابطہ نیچے میدانی علاقوں کے ساتھ بحال کیا گیا ہے۔ بارتھی سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کا آبائی گاؤں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تونسہ کی ان پہاڑی بستیوں کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ ہے۔
سیلاب کے تیسرے دور کا خطرہ
پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے حکومتی ادارے پی ڈی ایم اے اور سیلاب کی وارننگ جاری کرنے والے حکومتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ میں اب بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مظفر گڑھ، لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بھکر اور میانوالی کے کئی علاقوں میں اب بھی سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہKhalifa Suleman Yar
ضلع راجن پور میں تحصیل جامپور، روجھان اور راجن پور کو محض چند روز میں تیسری مرتبہ سیلاب میں ڈوب جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں تونسہ کے کچے کے علاقے بھی مسلسل تیسری مرتبہ سیلاب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
تاہم پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق 'اگر مزید بارشیں نہیں ہوتیں تو زیادہ امکان ہے کہ یہ علاقے ایک مرتبہ پھر سیلاب کی زد میں آنے سے بچ جائیں گے۔'
پی ڈی ایم اے کے حکام پہلے ہی امداد کی اپیل کرتے ہوئے بتا چکے ہیں کہ جس پیمانے پر سیلابوں نے تباہی مچاہی ہے اس میں حکومت کے لیے تمام متاثرہ افراد تک امداد پہنچانا مشکل ہو رہا ہے۔
تاہم پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق انھوں نے تمام متاثرہ علاقوں میں ذمہ داران کو نقصانات اور متاثرہ افراد کا تخمینہ لگانے کا کام سونپ رکھا ہے اور 'ہر متاثرہ شخص تک امداد پہنچائی جا رہی ہے۔'














