سیلاب ڈائری: سندھ میں چاول کی تھیلی کے لیے دھکے کھاتے متاثرین اور سوات میں چھ چھ گھنٹے کا اعصاب شکن پیدل سفر

پاکستان میں غیرمعمولی طویل مون سون کے دوران شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس سیلاب سے سوا تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی اردو کے نمائندے ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ کر رہے ہیں جنھیں ایک ڈائری کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے کی دوسری قسط میں جانیے کہ ریاض سہیل نے سندھ میں شہداد پور اور عزیز اللہ خان نے سوات کی علاقے بحرین میں کیا دیکھا۔

ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شہداد کوٹ
گاجی بخش کھوسہ کو کوئی بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے جاتا تو کوئی دوسری جانب کونے میں لے جا کر کان میں سرگوشی کرتا لیکن گاجی خان انکار کر دیتا ہے۔ گاجی خان نے سیاہ رنگ کا ایک بکری کا بچہ گود میں اٹھا رکھا تھا جبکہ ایک سفید رنگ کا بکرا بھی اس کے پاس تھا۔

سندھ کے شہداد کوٹ کی مویشی منڈی میں موجود عمر رسیدہ گاجی بخش 20 کلومیٹر دور واقع امام بخش جمالی گوٹھ سے آئے تھے۔ ان کے گاؤں جانے والا راستہ سیلابی پانی کے بہاؤ کی وجہ سے کٹ گیا ہے۔
گاجی بخش نے مجھے بتایا کہ ان کو پانچ ہزار سے چھ ہزار روپے میں یہ دونوں جانور فروخت کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے حالانکہ ان کی قیمت 20 ہزار کے قریب ہے لیکن ’بیوپاری مجبوری کا فائدہ لینا چاہتے ہیں۔‘
میں نے اس بزرگ سے معلوم کیا کہ کیا مجبوری ہے جو وہ اپنے جانور فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ پانی میں گھرے ہیں۔ وہ ان جانوروں کو فروخت کرنے کے بعد مزدا یا ٹریکٹر کرائے پر حاصل کریں گے اور پھر اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کریں گے۔
لیکن ٹرانسپورٹ کا کرایہ 15 ہزار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ قیمت ان دو جانوروں کو بیچنے سے مل جائے گی۔ اب وہ پریشان ہیں۔ لیکن وہ اکیلے اس پریشانی میں مبتلا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کسانوں کے پاس زمین اور فصل کے بعد دوسرا اثاثہ مال مویشی ہی ہوتے ہیں جن کو کسی ہنگامی صورتحال میں فروخت کرکے رقم حاصل ہوتی ہے۔
سندھ میں حالیہ بارشوں کے دوران صوبائی ڈیزاسٹر مینجنمنٹ اتھارٹی کے مطابق 15 ہزار کے قریب مویشی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں مویشی متاثرین کے ساتھ ہی موجود ہیں۔
اکبر علی گڑھی خیرو سے بکرے فروخت کرنے آئے تھے۔ وہ 2010 کے سیلاب میں بھی متاثر ہوئے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے زیر آب گاؤں کا جیکب آباد سے زمینی راستہ کٹ چکا ہے جبکہ واحد راستہ شہداد کوٹ سے ہے جو کسی بھی وقت منقطع ہو سکتا ہے۔ ان کو بھی بیوپاری کم قیمت بتا رہے ہیں۔
شہداد کوٹ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تو پہلے ہی متاثرین موجود تھے۔ اب بائی پاس ہو، قمبر شہداد کوٹ روڈ ہو یا قمبر میرو خان روڈ، میلوں تک سڑکوں پر ہزاروں لوگ بیٹھے ہیں جن میں بلوچستان کے علاقوں جھل مگسی، صحبت پور، گنداخہ سے آنے والے بھی شامل ہیں اور خیموں کے منتظر ہیں۔
ہم نے یہاں صبح سے سورج غروب ہونے تک وقت گذارا۔ شام کو ہر عارضی کیمپ کے باہر چولہا جلا۔ ہر کسی نے اپنی حیثیت کے مطابق کھانا بنانا شروع کیا۔ حکومت کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا۔ حالانکہ وزیر اعلی سندھ کے مطابق متاثرین کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
انیتا کھوسو نے کچھ سوکھی لکڑیاں جمع کیں اور پتھروں سے بنے چولھے میں ڈالا۔ اس کے بعد پلاسٹک کی تھیلیاں ڈال کر ماچس سے ان کو جلایا اور روٹیاں بنانے لگیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی کھانا نہیں لاتا۔ انھوں نے اپنے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو دھوپ سے کیسے بچائیں۔ خیمے بھی نہیں، گاؤں سے کب پانی نکلے گا اور دربدری کی زندگی ختم ہو گی۔‘
دوپہر کو ہمارے سامنے ہی ایک چنگچی رکشہ میں ایک بوری میں بند آلو کے ساتھ بنے ہوئے چاول لائے گئے۔
ایک شخص نے مجھے چاول کی تھیلی دکھاتے ہوئے کہا کہ ’انصاف کریں، کیا ایک خاندان کے لیے یہ کافی ہے۔ اس کے لیے بھی لوگوں کو دھکا دینا پڑتا ہے، لڑنا پڑتا ہے، اس سے بہتر نہیں ہے کہ یہ دی ہی نہیں جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بحرین ، سوات

ہم کالام سے پیدل روانہ ہوئے تو بحرین تک سڑک تباہ حال تھی۔ کہیں پہاڑ پر چڑھنا پڑا تو کہیں رسیاں باندھ کر اترنا پڑا۔
حالیہ سیلاب نے سوات کے بالائی علاقے کالام اور اس کے قریبی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ کالام سے بحرین تک 36 کلومیٹر راستہ مختلف مقامات پر ایسے تباہ ہوا ہے کہ لوگ کالام سے بحرین تک پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں دو رشتہ دار عبد الہادی اور محمد علی بھی ہیں جو گزشتہ روز ہی کالام سے بحرین پہنچے تھے۔
دونوں صبح آٹھ بجے کالام سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ دوپہر دو بجے چھ گھنٹے کے پیدل اور اعصاب شکن سفر کے بعد بحرین پہنچے تھے۔

کندھوں پر بیگ ڈالے، ان کے چہروں پر خوف اور تھکن طاری تھا۔ عبد الہادی نے بتایا کہ ان کا پیدل سفر اتنا خطرناک تھا جیسے پل صراط سے گزر کر آ رہے ہوں۔
کالام کے رہائشی عبد الہادی کراچی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے کزن محمد علی اٹک میں رہتے ہیں۔ وہ کالام اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئے تھے کہ اتنے میں سیلاب نے تباہی برپا کر دی۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے کوشش کی کہ وہ ہیلی کاپٹر میں کالام سے سوات چلے جائیں لیکن حکام نے بتایا کہ کالام سے فی الحال صرف پھنسے ہوئے سیاحوں کو ترجیحی بنیادوں پر لے جایا جا رہا ہے۔

بحرین میں لوگ کالام سے آنے والوں سے ان کے علاقے کا حال پوچھتے ہیں۔ ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ اب تک راستہ بند ہے اور جب تک کالام کا راستہ نہیں کھلتا، یہاں بحالی کا کام شروع نہیں ہو سکتا۔
اس علاقے میں دکانیں بند ہیں اور تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔
کالام سے آنے والے افراد نے بتایا کہ سیلاب سے ہوٹلوں سمیت عمارتوں کی تباہی، جن میں ہوٹل نیو ہنی مون جس کی ویڈیو وائرل ہوئی بھی شامل ہے، اب خوراک کی قلت ہے، بجلی نہیں ہے، انٹرنیٹ بھی کام نہیں کر رہا۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے راشن لایا تو جا رہا ہے لیکن یہ ناکافی ہے۔












