آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ میں بالاچ بلوچ اور بچے کی لاش جسے ’پی ڈی ایم اے کی ناکامی‘ کے بعد رضاکاروں نے نکالا
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’میرے بھائی نے ایک زندگی کو بچانے کی کوشش کے دوران اپنی جان قربان کر کے قربانی کی ایک نئی داستان رقم کی۔‘
یہ کہنا تھا بلوچستان کے ضلع خاران سے تعلق رکھنے والے صغیر احمد نوشیروانی کا، جن کے چھوٹے بھائی بالاچ بلوچ دارالحکومت کوئٹہ میں کنویں میں گرنے والے ایک بچے کی جان بچانے کی کوشش کے دوران زندگی کی بازی ہار گئے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صغیر احمد نے کہا کہ ’میرے بھائی نے ایک انسان کی جان بچانے کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر کوششں نہیں کی گئی۔‘
'یہ بات باعث حیرت ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور آکسیجن ماسک اور دیگر جدید حفاظتی اشیا کے استعمال کے باوجود دونوں کو زندہ نکالنا تو دور کی بات، ان کی لاشوں تک کو نہ نکال سکے۔ لیکن ضلع مستونگ کے رضاکاروں نے کسی حفاظتی انتظام کے بغیر دونوں کی لاشوں کو نکال لیا۔‘
صغیر احمد کا کہنا تھا کہ اگر ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے فوری طور پر ریسکیو کے لیے مؤثر کوششیں کی جاتیں تو شاید ان کے بھائی سمیت دونوں افراد بچ جاتے۔
تاہم بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی تھی تاہم ریسکیو کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔
جبکہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے غفلت اور کوتاہی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’پی ڈی ایم اے کی ٹیم نے دونوں کو زندہ یا مردہ حالت میں نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔‘
’بالاچ کے سوا کسی نے بچے کو نکالنے کی ہمت نہیں کی‘
صغیر احمد نے بتایا کہ کنویں میں گرنے والے بچے کی شناخت غلام محمد کے نام سے ہوئی جن کی عمر 10سے 12سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ بچے کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا جو اپنے خاندان کو معاشی طور پر سپورٹ کرنے کے لیے مختلف علاقوں سے کچرا چن کر فروخت کرتا تھا۔
’بچہ 18 اگست کو کاغذ اور پلاسٹک کی اشیا چننے کے دوران صبح ساڑھے 11 بجے کے لگ بھگ سریاب کے علاقے چکی شاہوانی میں پھنسل کر کنویں میں گر گیا تھا۔‘
یہ کوئی عام کنواں نہیں ہے بلکہ پرانے زمانے میں زیرِ زمین آبپاشی کے نظام کا ایک کنواں ہے جسے مقامی زبانوں میں کاریز کہا جاتا ہے۔
زمانہ قدیم میں آبپاشی کے لیے کاریز استعمال کیے جاتے تھے۔ ان میں ایک اونچے مقام سے کئی میل دور تک پانی کو زیر زمین سرنگ کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 60 کی دہائی تک بڑی تعداد میں کاریزیں تھیں۔
کاریز کی صفائی کو یقینی بنانے اور دیگر مقاصد کے لیے درجنوں کنویں بھی کھودے جاتے تھے جن کی گہرائی بہت زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے کے باعث کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں کاریز طویل عرصے سے خشک ہو چکے ہیں لیکن سریاب اور بعض دیگر علاقوں میں ان کے کنویں اب بھی موجود ہیں جن سے لوگوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔
دونوں لاشوں کو نکالنے والے رضاکار جلیل احمد نے بتایا کہ بچہ کاریز کے جس کنویں میں گرا تھا اس کی گہرائی 40 فٹ کے لگ بھگ تھی۔
صغیر احمد کے مطابق جس علاقے میں بچہ کنویں میں گرا وہاں سے بالاچ کی آمد و رفت کم ہوتی تھی لیکن وہ واقعے کے روز اپنے ایک دوست عطااللہ گرگناڑی سے ملنے کے لیے اس طرف گئے اور بچے کے گرنے کی اطلاع پر وہ بھی کنویں پر پہنچے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنویں کے گرد لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی لیکن بالاچ ان میں واحد شخص تھے جنھوں نے ہمت کی اور بچے کی جان بچانے کے لیے رسی لے کر کنویں میں اتر گئے۔ ’بالاچ کے سوا کسی نے بچے کو نکالنے کی ہمت نہیں کی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ کنویں میں کیچڑ اور کچرے کے باوجود بالاچ کو بچے کو تلاش کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی لیکن وہ دونوں کنویں سے نہیں نکل سکے۔
بالاچ بچے کو لے کر کنویں سے باہر نکلنے میں کامیاب کیوں نہ ہوسکے؟
صغیر احمد کا کہنا تھا کہ وہاں پر موجود لوگوں نے بتایا کہ ’بالاچ کی کوشش تھی کہ بچے کو جلد سے جلد ہسپتال پہنچایا جائے لیکن شاید انھوں نے جو حکمت عملی اختیار کی وہ کارگر ثابت نہیں ہوئی جس کی وجہ سے دونوں کنویں کے درمیان تک پہنچنے کے بعد واپس گر گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ چونکہ بالاچ کا اپنا وزن بھی زیادہ تھا اور بچے کو اُٹھانے سے وزن میں مزید اضافہ ہوا جس کے باعث جب وہ کنویں کے درمیان تک پہنچے تو جس رسی کے سہارے اوپر آ رہے تھے وہ ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں دونوں نیچے گر گئے۔‘
’اگر پہلے بچے کو اوپر بھجوایا جاتا تو شاید رسی نہ ٹوٹتی اور وہ دونوں نکل سکتے تھے۔‘
صغیر احمد کے مطابق دونوں کے ڈوب جانے کے بعد ان کو نکالنے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی جس کے باعث ان کو زندہ نہیں نکالا جاسکا۔
تاخیر اور موثر کوشش نہ کرنے کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟
صغیر احمد کا کہنا تھا کہ بالاچ اندازاً بچے کے ہمراہ دن کے 12 بجے کے قریب کنویں میں گر گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک اور شخص انھیں نکالنے کے لیے کنویں میں اترا لیکن نیچے کیچڑ اور گیسز کی وجہ سے وہ واپس نکل گیا۔ ’بالاچ کے دوست نے مجھے پونے ایک بجے فون کیا اور صورتحال کے بارے میں بتایا تو میں بھی وہاں فوراً پہنچ گیا۔‘
’پی ڈی ایم اے کے افسروں کو فون کیا لیکن ان کی ٹیم کافی تاخیر سے پہنچی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’میں نے وہاں پہنچتے ہی اپنی مدد آپ کے تحت ایک کرین منگوائی تاکہ ہم ان کو جلد نکالنے کی کوشش کریں لیکن وہاں پر موجود انتظامیہ کے لوگوں نے پی ڈی ایم اے کی ٹیم کے آنے تک نہ خود کوئی کوشش کی اور نہ انھیں اندر جانے کی اجازت دی۔‘
'جب پی ڈی ایم اے کی ٹیم آئی تو ان کے غوطہ خور محکمہ مائنز کی جانب سے کنویں سے گیسز کی اخراج کے لیے اقدام کے بعد کنویں کے اندر گئے اور تین مرتبہ کوشش کے بعد انھوں نے اندھیرا ہونے کا بہانہ بنا کر کوششیں ترک کی۔‘
’معلوم نہیں پی ڈی ایم اے کے ریسکیور ورکرز میں مہارت کی کمی تھی یا وہ خوف کی وجہ سے سرنگ کے اندر نہیں گئے جس کی وجہ سے انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انھیں کچھ نہیں ملا۔‘
تاہم موقع پر موجود پی ڈی ایم اے کی ریسکیو ٹیم کے انچارج اکرم بگٹی نے بی بی سی کو بتایا ان کے غوطہ خوروں نے کنویں کے اندر مشکلات کے باوجود ان کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش لیکن چونکہ وہ کنویں کے تلے پر نہیں تھے اس لیے وہ وہاں انھیں نہیں ملے۔
’چونکہ ان کے پاس گیس کے سلنڈر تھے اس لیے وہ ان کے ساتھ سرنگ کے اندر نہیں جا سکتے تھے۔ اس لیے ہم نے اگلے روز تک اپنی کارروائی مؤخر کی تاکہ سرنگ میں داخل ہونے کے لیے ایک اور راستہ بنا سکیں۔‘
صغیر احمد کا کہنا تھا کہ رات کو دس بجے کے بعد پی ڈی ایم اے اور انتظامیہ کے لوگوں کی موجودگی میں مستونگ سے کنویں سے لوگوں کو نکالنے میں مہارت رکھنے والے رضاکار بھی پہنچے تھے۔
’وہاں انتظامیہ کے جو لوگ موجود تھے انھوں نے رضاکاروں کو بھی اندر نہیں جانے دیا جس کے نتیجے میں دونوں کی لاشوں کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ تاخیر ہوئی۔‘
’تاخیر کے باوجود لوگ پُرامید رہے‘
صغیر احمد نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کی ٹیم رات کو 11 بجے کے لگ بھگ یہ کہہ کر چلی گئی کہ وہ کل صبح آ جائیں گے لیکن ’ہم لاشوں کے نکلنے تک امید نہیں ہارے اور دل کو تسلی دیتے رہے کہ شاید وہ زندہ ہوں۔‘
’وہاں لگے مجمعے میں ایک شخص میرے پاس آیا اور بتایا کہ ان کا ایک رشتہ دار انھی کاریزوں میں سے ایک میں گرا تھا جب انھیں دوسرے روز نکالا گیا تو وہ زندہ تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس شخص کے علاوہ بعض دوسرے لوگ بھی یہ بتاتے رہے کہ ان کی بکریاں بھی ان میں گرتی رہی ہیں جن کو کئی گھنٹے بعد زندہ نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتے ہیں کہ ’دل میں موجود امید اور وہاں لوگوں کی تسلیوں کے باعث ہم پی ڈی ایم اے کی ٹیم اور انتظامیہ کے لوگوں کی طرح وہاں سے نہیں گئے بلکہ رضاکاروں سے درخواست کی اب وہ اپنی کوشش کریں۔‘
جو رضاکار کوئٹہ کے باہر سے لاشوں کو نکالنے کے لیے آئے تھے ان میں جلیل احمد اور امیر حمزہ شامل تھے۔
ان کا تعلق کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے ہے۔ وہ اس سے قبل مستونگ اور نواحی علاقوں سے لوگوں کو کنوﺅں سے نکالتے رہے ہیں۔
ان میں سے ایک امیر حمزہ نے بتایا کہ ’میرا فیصلہ تھا کہ ہم دونوں بیک وقت کنویں کے اندر جاکر تلاش شروع کریں گے لیکن جلیل احمد نے مجھے منع کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اکیلے جاکر کوشش کریں گے اور اگر کوئی مشکل صورتحال پیدا ہوئی تو پھر وہ آجائیں۔‘
صغیر احمد کا کہنا تھا کہ جلیل احمد کے پاس ’نہ کوئی آکسیجن سلنڈر تھا اور نہ ہی کوئی ماسک۔۔۔ وہ ایک سرچ لائٹ اور ایک وائرلیس سیٹ کے ساتھ کرین کے ذریعے کنویں میں داخل ہوئے اور ایک گھنٹے سے کم وقت میں دونوں کی لاشوں کو نکال کر باہر بھیجوا دیا۔‘
جلیل احمد نے بتایا کہ 25 منٹ کی کوشش کے بعد وہ کاریز کی سرنگ کے اندر جلیل احمد کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے اور ایک گھنٹے سے کم وقت کے دوران ان سے چند فٹ کے فاصلے پر بچے کی لاش کو ڈھونڈ کر باہر بھیجوا دیا۔
صغیر احمد نے بعض سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’جب پی ڈی ایم اے کی ٹیم نے 18 اگست کو کام کو اگلے روز تک ملتوی کیا تو یہ کہا گیا کہ کوشش کے باوجود دونوں وہاں نہیں ملے۔ لیکن وہ رضاکاروں کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں پھر کیسے مل گئے۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دونوں رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انھیں دو، دو لاکھ روپے انعام دینے کے علاوہ ان کو پی ڈی ایم اے میں نوکری دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
مشیرِ داخلہ میر ضیا اللہ نے وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق دو روز قبل پی ڈی ایم اے میں ان کی تقرری کے آرڈرز بھی ان کے حوالے کیے ہیں۔
’میں بالکل خوفزدہ نہیں ہوا‘
جلیل احمد نے بتایا کہ اس کاریز کے اندر کیچڑ، کچرا اور پانی بہت زیادہ گدلا ہونے کی وجہ سے صورتحال باقی کنوﺅں کے مقابلے میں کچھ مشکل تھی اور شاید کچرے کی وجہ سے گیسز کے بھی اثرات تھے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے سامنے دو انسانوں کی جان بچانے کا مشن تھا اس لیے وہ خوفزدہ نہیں ہوئے۔ بلکہ جب کنویں کے تلے پر دونوں نہیں ملے تو پھر وہ کاریز کے سرنگ میں داخل ہوئے اور ان کو وہاں لاش کرنا شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں کی لاشیں سرنگ کے اندر کنویں کے تلے سے اندازاً چالیس فٹ نیچے تھیں۔ ’میں اس بات پر حیران تھا کہ وہ تلے سے سرنگ تک تیس چالیس فٹ آگے کیسے گئے۔ شاید گرنے کے بعد نکلنے کی کوشش میں سرنگ کے اندر پہنچے یا اس کی کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔‘
اندازاً جب رات کو ساڑھے 12 بجے بالاچ کو نکالا گیا تو بچے کا انتظار کیے بغیر ان کو فوری طور پر سول ہسپتال پہنچایا گیا۔ صغیر احمد کے مطابق ’ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ بالاچ کی موت لاش نکالنے سے چھ گھنٹے پہلے ہوئی ہے۔‘
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
مشیر برائے داخلہ نے کہا ہے کہ ریسکیو کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ ’پہلے مائنز ڈپارٹمنٹ کے لوگ جاتے ہیں اور وہ کنویں کے اندر گیسز کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ جب اجازت دیتے ہیں تو پھر ریسکیو والے داخل ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گیسز کی وجہ سے ٹیم کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ ادھر پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’پی ڈی ایم اے بلوچستان بالاچ بلوچ کی انتھک محنت اور انسانی جذبے کی قدر کرتی ہے مگر افسوس کہ کچھ عناصر کی جانب سے مختلف فورمز سمیت سوشل میڈیا پر محکمہ پی ڈی ایم اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے کی ٹیم اس آپریشن میں بھی عام عوام کے ساتھ مسلسل 12 گھنٹے سے کام کر رہی تھی اور کامیابی کے قریب تھی لیکن علاقے کے لوگوں نے مستونگ سے دو رضاکار لائے اور کہا کہ ان کو جانے دیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ پی ڈی ایم اے نے وہ تمام آلات جن میں کیمرہ، فون، ٹی وی، ہیوی مشینری وغیرہ شامل تھیں فراہم کیں اور اس طرح وہ تمام لوگ جو کافی دیر سے وہاں موجود اور کام کر رہے تھے ان کی جدوجہد سے دونوں افراد کو وہاں سے نکالا گیا۔
اس واقعے میں اپنی جان کی قربانی دینے والے 31 سالہ بالاچ بلوچ کا تعلق خاران سے تھا لیکن وہ اس وقت اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ کوئٹہ میں رہائش پذیر تھے۔ وہ بےروزگار تھے مگر سول انجینیئرنگ میں ڈپلوما ہولڈر تھے اور بی اے بھی کر رکھا تھا۔
صغیر احمد نے بتایا کہ ’پبلک سروس کمیشن میں بی اینڈ آر کی جو آسامیاں آئی تھیں انھوں نے ان کے لیے درخواست دی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’بالاچ ہمارے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ وہ ایک انسان دوست اور ملنسار تھے۔ وہ ہمسایوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔‘