آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی: خراب سڑکوں کے باعث شہریوں کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ کمر اور جوڑوں کے مسائل میں اضافہ
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ساجد اقبال کراچی سے تعلق رکھنے والے بائیکیا رائیڈر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ روڈ سے ہی کماتے ہیں لیکن حالیہ دنوں وہ جو کماتے ہیں وہ بائیک پر ہی لگ جاتا ہے، اب بیوی بچوں کو کیا کھلائیں۔ اس کی وجہ وہ سڑکوں کی تباہ حالی کو قرار دیتے ہیں۔
اپنی بائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ نئے ماڈل کی ہے لیکن اس کی حالت دیکھ لیں یہ ان گڑھوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ’ہم سات آٹھ گھنٹے میں جو 1500 سے 2000 روپے کماتے ہیں، ان سڑکوں کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ کام آدھا بھی نہیں ہو پا رہا۔ اس وقت میں نے ایک رائیڈ چھوڑ دی دوسری سے دو سو روپے ملے اس میں سے ایک سو روپے پنکچر میں چلے گئے اور باقی رقم کا نصف کمیشن میں گیا جیب میں سے پیٹرول کی پیسے ڈال کر الٹا کسٹمر کا سامان چھوڑ کر آیا ہوں۔‘
ٹوٹی سڑکیں اور حادثات
کراچی میں حالیہ بارشوں نے سڑکوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ صوبائی محکمہ آفات کی رپورٹ کے مطابق شہر میں 50 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس نے 97 سڑکوں کی نشاندہی کی ہے جو 145 مقامات سے ٹوٹی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے حادثات ہو رہے ہیں۔
رکشہ ڈرائیور ریاض حسین بتاتے ہیں کہ ’ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر اکثر گاڑیاں ٹکراتی ہیں اور حادثات ہوتے ہیں یعنی آپ نے گڑھے میں بریک لگائی اور پیچھے والے نے گاڑی مار دی، اس صورتحال میں کون کیا کر سکتا ہے۔‘
معین الدین مزدا ٹرک چلاتے ہیں۔ فور کے چورنگی پر ٹوٹی ہوئی سڑک دکھاتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں بڑے بڑے گڑھے ہیں جہاں پر گاڑی پھنس جاتی ہے، ’اس قدر بری حالت ہوتی ہے کہ ڈمپر پھنس جاتے ہیں، لوگ گر رہے ہوتے ہیں۔‘
آمدن کم، مینٹیننس اور وقت زیادہ
کراچی کی سڑکوں پر گاڑی کتنی بھی بڑی یا چھوٹی ہو اس کو ہچکولے کھاتے ہوئے گزرنا پڑتا ہے۔ قیوم آباد انٹر چینج ہو، کورنگی کاز وے ہو یا ناظم آباد ہو، ہر جگہ ان دنوں یہ مناظر عام ہیں۔
رکشہ ڈرائیور ریاض حسین کہتے کہ ’کتنے گڑھوں سے بچیں گے، ایک سے بچ جائیں گے تو دوسرے میں جا لگیں گے، مینٹیننس پر جیسے پہلے 500 روپے لگاتے تھے، اب 2000 لگاتے ہیں پھر بھی گاڑی سیٹنگ میں نہیں آتی۔ جو دو منٹ کی ڈرائیو ہے اس میں آدھا آدھا گھنٹہ بھی لگ جاتا ہے، گڑھوں کے باعث ٹریفک جام ہوتا ہے اب ایک گاڑی نکلے گی تو دوسری آگے بڑھے گی نا۔‘
اورنگزیب خان منی بس کے ڈرائیور ہیں وہ بتاتے ہیں پہلے وہ اورنگی سے کورنگی ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچتے تھے لیکن اب تین ساڑھے تین گھنٹے میں پہنچتے ہیں، اس کی وجہ یہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں ہیں، ظاہر ہے کہ اس سے تیل کا خرچہ دگنا ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزدا ڈرائیور معین الدین کہتے ہیں کہ فیول کے اخراجات میں 50 فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ جب گاڑیاں گڑھوں میں چلیں گی تو تیل کی کھپت زیادہ ہو گی۔
رکشہ ڈرائیور محمد عادل یوسف کے مطابق دو روز قبل اُنھوں نے گاڑی پر دو ہزار روپے لگائے تھے، آج پھر اگلے ٹائر کا بیرنگ ٹوٹا ہوا ہے، مگر مزدوری نہیں کریں گے تو اور کیا کریں۔
کمر و جوڑوں کا درد
کراچی میں موٹر سائیکل عام سواری ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کے وسائل پہلے ہی محدود ہیں جبکہ کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی۔ ایسے میں دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں ملازمت یا تعلیمی اداروں تک جانا ہو یا تفریح کے لیے باہر نکلنا ہو، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کا زیادہ تر انحصار موٹر سائیکل جیسی سواری پر ہی ہے۔
محمد رمضان ایک نجی کمپنی میں گارڈ ہیں وہ کہتے ہیں کہ 12 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں اور جب ان ٹوٹی ہوئی سڑکوں سے ہو کر گھر پہنچتے ہیں تو کمر اور جوڑ جوڑ درد کر رہا ہوتا ہے، بمشکل صبح اٹھتے ہیں اور دوبارہ یہ سفر کرتے ہیں۔
ٹوٹی ہوئی سڑکیں حادثات کے علاوہ جوڑوں کے درد کا بھی باعث بن رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موٹر سائیکل چلانے والے نوجوانوں کی اکثریت ریڑھ کے ہڈی کے درد اور مُہروں کے کھسکنے کی شکایات کے ساتھ ہسپتال آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
از سر نو تعمیر اور استرکاری
حکومت سندھ نے بارشوں کے بعد کراچی کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے فوری طور پر ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔
کراچی کے ایڈمنسٹریٹر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں جن سات روٹس پر پیپلز بس سروس چل رہی ہے، ان سڑکوں کی استرکاری کی جائے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ جو مرکزی سڑکیں ہیں ان کی از سر نو تعمیر کی جائے گی یعنی سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں جو سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ان کی استرکاری ہو گی۔ اس کے لیے حکومت سندھ نے تقریباً ڈھائی ارب روپے کی رقم مختص کر دی ہے جبکہ کے ایم سی 50 کروڑ روپے اپنی طرف سے لگائی گی، اس کے علاوہ جو ڈی ایم سیز ہیں وہ بھی اپنے اپنے علاقوں میں اس طرح کا کام کریں گے۔
سڑکوں کی تعمیر اور ناقص انجنئیرنگ
کراچی میں سڑکوں کی بدحالی کی وجہ حکام مسلسل کئی روز کی بارش اور پانی کھڑے ہونے کے علاوہ نکاسی کے راستے بند ہونے کو قرار دیتے ہیں لیکن ماہرین اس کی ایک بڑی وجہ ناقص انجینیئرنگ کو بھی سمجھتے ہیں۔
کراچی کی شہری منصوبہ بندی پر نظر رکھنے والے ادارے کراچی اربن لیب سے وابستہ محمد توحید کہتے ہیں کہ سڑکوں کے دونوں جانب درمیان سے نسبتاً اونچے سلوپ اگر بنائے جائیں تو پانی رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر چاہے کتنی ہی شدید بارشیں کیوں نہ ہوں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار نہیں ہوں گی۔
’بیس پچیس سال قبل جو سڑک بنائی جاتی تھی وہ طویل عرصے تک چلتی تھی کیونکہ اس پر پتھر ڈال کر اس پر دو تین تہیں لگائی جاتی تھی، اب وہ طریقہ کار نہیں رہا۔ تھرڈ پارٹی کانٹریکٹر کام کرتا ہے جس کی کوئی دلچپسی نہیں ہوتی، اس کو بس پیسے بنانے ہوتے ہیں، اور یہاں احتساب اور نگرانی کا بھی نظام نہیں کہ سڑک کی زندگی کتنی ہے اور جلد کیوں خراب ہوئی۔‘