بنی گالہ کا پہرا: ’یہ عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکتے، اگر کریں گے تو پورے پاکستان میں جنگ شروع ہو جائے گی‘

بنی گالہ، پی ٹی آئی
    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

'آپ دونوں نے کانفیڈینس کے ساتھ بولنا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔' یہ اور ایسے بہت سے جملے میرے قریب کھڑی ایک خاتون اپنے بچوں کو سمجھا رہی تھیں۔ پھر انھوں نے ان دو کم عمر بچوں کو مقامی ٹی وی رپورٹر کے پاس بھیجا جو مختلف لوگوں کے انٹرویوز لے رہے تھے۔

'کانفیڈنس کے ساتھ بولنا ہے'، یہ آخری جملہ سنتے ہوئے وہ دونوں بچے میرے قریب سے گزرے۔ یہ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کے مناظر تھے۔

عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کل رات سے ہی پی ٹی آئی کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ کارکنان اس وقت یہاں پہنچے جب انھیں عمران خان کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کا علم ہوا۔ لیکن صبح تک یہ تعداد خاصی کم ہو چکی تھی۔

گیارہ بجے جب ہم وہاں پہنچے تو درجن بھر خواتین عمران خان کے گھر کی طرف جاتی سڑک پر موجود تھیں، جبکہ مرد کارکنان کی تعداد ان کی نسبت زیادہ تھی۔ یہاں ایک بیریئر کو خواتین اور مردوں کے درمیان باڑ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا جبکہ بعض مرد کارکن اس ڈیوٹی پر تعینات تھے کہ وہ خواتین کے سیکشن میں مردوں کو نہیں جانیں دیں گے۔

بنی گالہ کی اس سڑک پر ٹریفک جام تھا اور گاڑیوں کو طویل انتظار کے بعد آگے بڑھنے کا موقع ملتا۔ یہاں سب سے زیادہ پریشانی ان افراد کو ہو رہی تھی جو یہ سڑک اپنی گھر پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

طویل قطار سے آگے بڑھے تو میں نے کئی صحافیوں اور وہاں موجود کارکنان سے پوچھا کہ کیا مزید لوگ کسی اور مقام پر موجود ہیں۔ لیکن مجھے بتایا گیا کہ فی الحال اتنے ہی لوگ ہیں 'اور جو رات کو یہاں پہنچے تھے وہ صبح تک تھک کر واپس چلے گئے اور آج دن میں دوبارہ آئیں گے۔'

یہ کارکنان بار بار نعرے لگاتے اور عمران خان کی حمایت کا اعلان کرتے۔ اس دوران بعض اوقات پی ٹی آئی کے کوئی رہنما بھی یہاں سے گزرتے تو نعرے بازی میں شدت آ جاتی تھی۔

بنی گالہ، پی ٹی آئی

اسد عمر یہاں پہنچے تو بیریئر سے پہلے ہی اپنی گاڑی سے اتر کر پیدل آگے بڑھے۔ ان کے ساتھ کارکنوں کی بھی بڑی تعداد تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ معاملہ عدالت میں لے گئے ہیں اور عمران خان گرفتار نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں عدالت سے ریلیف ملنے کا مکمل یقین ہے۔

دوسری جانب یہاں خاص طور پر خیبر پختنوخوا سے زیادہ کارکنان پہنچے تھے۔ چارسدہ کے حمزہ خان نے بی بی سی سے بات کی اور بتایا کہ انھیں کل رات 12 بجے کے بعد لیڈرشپ کا پیغام ملا کہ عمران خان کی گرفتاری روکنے کے لیے اسلام پہنچنا ہے۔ 'بس یہ پیغام ملتے ہی میں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور آج صبح سویرے اسلام آباد کے لیے نکل پڑا۔ ہمارے اور بھی ساتھی ہیں جو آج پہنچیں گے۔'

پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر سے سخت نالاں دکھائی دیے۔ یہاں موجود حافظ آباد سے آئی ایک خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'عمران خان پر الزامات لگائے گئے ہیں اور اگر یہی کرائیٹیریا ہے تو پھر ایک طویل لسٹ ملے گی جس میں خود مسلم لیگ ن کے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ الزام ہے اور غلط ہے، عمران خان ہمارے دلوں کی آواز ہیں۔'

اسی موقع پر عمران خان کی سکیورٹی کے لیے تعینات پولیس اہلکار یہاں پہنچے تاہم بیریئر کے پاس کھڑے ہجوم نے شدید نعرے بازی شروع کر دی اور پولیس اہلکاروں کو اندر نہیں جانے دیا۔ ان میں سے ایک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'عمران خان کے چیف سیکیورٹی افسر ہیں اور یہ لوگ اندر نہیں جانے دے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہم عمران خان کی حفاظت کے لیے یہاں تعینات ہیں مگر یہ راستہ روک رہے ہیں۔'

اسی احتجاج میں شامل ایک اور خاتون نے بی بی سی سے بات کی اور کہا کہ 'یہ عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکتے، اگر کریں گے تو پورے پاکستان میں ایک جنگ شروع ہو جائے گی جیسے انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہے، ایسے ہی ہو گا۔ یہ ہمارے لیے انڈیا ہے۔' عمران خان کے گھر کے باہر موجود لوگوں میں غصہ تو تھا ہی مگر اس کے ساتھ انھیں یہ واضح نہیں تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ 'عمران خان جو بھی اعلان کریں گے، ہم وہی کریں گے۔'

بنی گالہ، سکیورٹی

سوات سے آئے ایک پی ٹی آئی کارکن نے کہا کہ وہ عمران خان کی حفاظت کے لیے یہاں آئے ہیں اور اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک صورتحال واضح نہیں ہو جاتی۔

تاہم عمران خان کی راہداری ضمانت کی خبر آنے کے بعد یہاں لوگ پرسکون ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے کہ ان کے لیڈر کی ضمانت ہو گئی۔

بنی گالہ کے باہر گاڑیوں کا رش اب مزید بڑھ گیا تھا کیونکہ اب پارٹی ممبران بھی یہاں پہنچنے لگے تھے۔ یہاں موبائل نیٹ ورکس کام نہیں کر رہے تھے جبکہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی ایک بڑی تعداد تعینات تھی۔ آج دن کے اوقات میں، یا کم از کم جتنی دیر ہم وہاں رہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد یہاں احتجاج کے لیے آئے کارکنوں کی نسبت کافی زیادہ تھی۔