آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد کی امام بارگاہوں میں مجالس کو محفوظ بنانے والی خواتین سکاؤٹس
’29 نومبر 2017 کو جب میرے والد نے امام بارگاہ سے صرف ایک قدم ہی باہر نکالا تو ان پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ ایک بیٹی کے لیے یہ خبر سننا بہت مشکل تھا۔‘
’میں اسی امام بارگاہ میں ڈیوٹی دیتی ہوں جہاں میرے والد کی شہادت ہوئی تاکہ آئندہ کسی اور کی ماں، بہن یا باپ کو نشانہ نہ بنایا جا سکے۔۔۔ میں یہی چاہتی ہوں کہ کوئی اور بیٹی اپنے والد کے جانے کا دُکھ برداشت نہ کرے۔‘
فضا زینب نقوی ایک طالبہ ہیں جو آج اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ کی اسی امام بارگاہ ’باب العلم‘ میں قریب پانچ گھنٹوں تک محرم الحرام کے دوران سکاؤٹ کی ڈیوٹی دے رہی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم میں باپ بیٹی والا کوئی تصور تھا ہی نہیں۔ ہم تو آپس میں دوست تھے۔ چار بیٹوں کے بعد میرے بابا نے میری پیدائش کے لیے منت مانگی تھی۔ میری پیدائش پر انھوں نے سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ نے مجھے اس نعمت سے نوازا ہے۔‘
اُس دن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’میرے لیے خود کو سنبھالنا، گھر میں ماں اور چھوٹے بھائی کو سنبھالنا ناممکن تھا۔۔۔ زندگی میں ایک باپ کی کمی محسوس ہوتی ہے مگر ہمیں فخر ہے کہ وہ شہید ہو کر بھی زندہ ہیں۔‘
فضا زینب کہتی ہیں کہ جب وہ اس امام بارگاہ میں ڈیوٹی دے رہی ہوتی ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے والد یہیں کھڑے انھیں دیکھ رہے ہیں، مجھے ابھی آ کر کہیں گے شاباش فضا تم بہت اچھا کام کر رہی ہو۔
فضا بتاتی ہیں کہ ان کے والد انھیں کبھی ہیلز پہننے نہیں دیتے تھے۔ ’وہ کہتے تھے میری ایک ہی بیٹی ہے، ہیلز پہن کر اس کے پاؤں ٹوٹ سکتے ہیں۔‘
’میری خواہش تھی کہ میں کبھی ہیلز پہنوں۔ میری ضد پر ایک بار سالگرہ کے موقع پر انھوں نے مجھے ہیلز تحفے میں دیں۔ میں جب بھی یہ جوتے پہنتی تو گِر جاتی کیونکہ مجھے ان میں چلنا نہیں آتا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آج بھی کوئی ہیلز پہنتی ہوں تو اپنے بابا کو بہت یاد کرتی ہوں اور انھیں دل ہی دل میں کہتی ہوں کہ مجھے ان میں چلنا نہیں آتا، آپ مجھے سکھائیں ان میں چلنا۔۔۔‘
خواتین سکاؤٹس کا رجحان کم مگر ’اس کام میں اطمینان کا احساس‘
گل زہرہ رضوی نے اپنے دوستوں کے ساتھ سنہ 2014 میں امامیہ ڈیزارسٹر سیل (آئی ڈی سی) کی بنیاد رکھی جس کی ایک پہچان غیر مسلح سکیورٹی اینڈ سکاؤٹنگ سروسز فراہم کرنا ہے۔
ان کے 600 سے زیادہ رجسٹرڈ مرد و خواتین سکاؤٹس نہ صرف محرم اور ربِيع الاوّل کے مہینوں میں جلوسوں پر ڈیوٹی دیتے ہیں بلکہ دسمبر میں مسیحی برادری کے لیے گرجا گھروں میں بھی سکیورٹی کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
گل زیرہ کا کہنا ہے کہ ’مجالس میں آدھی تعداد مردوں کی تو آدھی خواتین کی ہوتی ہے مگر جب بات خواتین کی سکیورٹی کی آتی ہے تو کچھ سماجی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے خواتین سکاؤٹس کا رجحان کم ہی نظر آتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کے ادارے میں نوجوان لڑکیاں اس کام کو لے کر بہت زیادہ جذبہ رکھتی ہیں۔
’ہم سکاؤٹس کو یہ نہیں کہتے کہ آپ ڈیوٹی کریں اور ہم گھر جا کر آرام کریں گے۔ جہاں جہاں سکاؤٹس ہوتے ہیں وہاں وہاں ہم ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس کام کے ساتھ ایک اطمینان کا احساس جڑا ہے کہ ’ہم معاشرے کی بہتری کے لیے کوئی کام کر رہے ہیں۔ سکیورٹی فراہم کرنے کا احساس بھی بہت اچھا ہے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ان کی سکاؤٹ فضا کو والد کی موت سے صدمے سے نکلنے میں کچھ وقت ضرور لگا مگر آج وہ بہادری سے اسی امام بارگاہ میں ڈیوٹی دے رہی ہیں جو قابل تعریف ہے۔
’سب کو یہی بتاتی ہوں کہ اس کی تنخواہ صرف آخرت میں ملے گی‘
اسلام آباد کی معصومہ بتول کا کہنا ہے کہ ’کسی جلوس میں خواتین کو آپ سکیورٹی کے کام پر کم ہی دیکھتے ہیں اور اکثر مرد ہی اس شعبے میں آتے ہیں لیکن اب ہمیں صف اول میں خواتین اور شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی کا موقع ملا ہے۔‘
وہ امریکہ میں قائم ایک کمپنی میں بطور کسٹمر سپورٹ افسر کام کرتی ہیں مگر اپنے ’دلی سکون‘ اور ’عزاداروں کی خدمت‘ کے لیے وہ گذشتہ سات برس سے آئی ڈی سی کے ساتھ بطور سکاؤٹ کام کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’ہم لوگ جلوس میں سکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔ لوگوں کی چیکنگ کرتے ہیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرواتے ہیں۔ ہم اکثر نیاز کی تقسیم میں بھی مدد کرتے ہیں۔‘
مگر ان کی سب سے اہم ڈیوڈی جلوس کے روز ہوتی ہے جب ’سکیورٹی سے لے کر انتظامات تک ہم سب کچھ کنٹرول کرتے ہیں۔‘
معصومہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اس ذمہ داری میں کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں اور اس نے انھیں ’لیڈرشپ سکلز‘ کے علاوہ یہ بھی سکھایا ہے کہ ’لوگوں سے کیسے بات کرنی ہے۔‘
انھیں آج بھی یاد ہے کہ انھوں نے ’ایسے ہی سکاؤٹ بننے کے لیے اپنا نام لکھوایا۔ سوچا چلو دیکھتے ہیں۔ سب کو یونیفارم میں دیکھ کر یہ دلچسپ کام لگا مگر اسے دراصل ہمیں آزاد ہونے کا موقع ملا۔‘
وہ پہلے صرف اپنے والدین اور بڑوں کے ساتھ کسی جلوس میں شرکت کیا کرتی تھیں اور انھوں نے کبھی اکیلے جانے کا سوچا بھی نہیں تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ’جب سکاؤٹنگ کا کام شروع ہوا تو خود بخود اپنے اندر اعتماد پیدا ہوا کہ لوگ ہماری سنتے ہیں۔ لوگوں کو ہماری ضرورت ہے،اور یہ ہماری ذمہ داری بھی بن گئی۔‘
انھیں نے سب سے زیادہ پسند بھی یہی بات ہے کہ سکاؤٹنگ کے اس کام نے انھیں ایک طرح سے آزاد کر دیا ہے۔
’ہمیں اس کے کوئی پیسے نہیں ملتے۔ ہم خود ہی رضاکارانہ طور پر لوگوں کی خدمت کے جذبے سے آتے ہیں۔‘
’لوگ اکثر پوچھتے ہیں اس کام کی کتنی تنخواہ ملتی ہے۔ سب کو یہی جواب دیتی ہوں کہ اس کی تنخواہ صرف آخرت میں ملے گی۔ اس کام سے جو دلی سکون ملتا ہے وہ تنخواہ سے کہیں اوپر ہے۔‘
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ ’میری چیکنگ کیوں کی جا رہی ہے؟‘
مگر ایسا نہیں کہ اس کام میں کوئی چیلنجز نہیں۔ معصومہ کے مطابق سکیورٹی کے کام پر چاہے کوئی مرد ہو یا خاتون کچھ مسائل درپیش ہوتے ہیں۔‘
ان کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے۔ ’لوگ ہمیں پولیس والے سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں کیوں چیک کر رہے ہیں۔ لوگ چیکنگ کے دوران اچھا محسوس نہیں کرتے اور اکثر کہتے ہیں کہ ’ہم نے کون سا بیگ میں کوئی چیز چھپائی ہوئی ہے جو آپ ہماری چیکنگ کر رہے ہیں۔‘ یہ دیکھنا پڑتا ہے کسی کو ہماری کوئی بات بُری نہ لگ جائے۔‘
’مگر میرے لیے یہ بڑی بات ہے کہ ہم عزاداری میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ میرے لیے اعزاز ہے کہ میں عزاداروں کی خدمت کرتی ہوں اور ان کے تحفظ کے لیے یہاں کھڑے ہوتی ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ جب ’خواتین ہمیں مردوں کے ساتھ کھڑا دیکھتی ہیں تو وہ بااختیار محسوس کرتی ہیں۔ ان کی چیک پوسٹ عموماً چار دیواری میں بنائی جاتی ہے تاکہ خواتین کے حجاب کا خیال رکھا جائے۔‘
’ہمیں چیکنگ کے لیے بھی الگ ٹریننگ دی جاتی ہے جس میں بیگ سے لے کر فُل باڈی سرچ کی جاتی ہے۔ خواتین کی زیادہ حساس چیکنگ اسی لیے ہوتی ہے کیونکہ اس طرح کے حادثوں میں بچوں اور خواتین کو آگے کر دیا جاتا ہے۔‘
آئی ڈی سی چلانے والی گل زہرہ بتاتی ہیں کہ لوگوں کی جانب سے اکثر ایسے سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ ’یہ خواتین سکاؤٹس جلوس کی رہنمائی کیوں کر رہی ہیں؟‘
گل زہرہ کہتی ہیں کہ ’نوجوانوں کی انرجی کے لیے اگر کوئی پلیٹ فارم نہیں ملے گا تو یہ ضائع ہوگی یا منفی سوچ میں استعمال ہوجائے گی۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے نوجوانوں کو سکھایا کہ معاشرے کی خدمت کیسے کرنی ہے۔‘