انڈیا کی حمیدہ بانو پاکستان کیسے پہنچیں اور ادھر 20 سال کیسے گزرے

    • مصنف, شمائلہ جعفری اور امریتا دروے
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، اسلام آباد اور ممبئی

20 سال قبل انڈیا سے لاپتہ ہونے والی ایک خاتون سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو کے باعث پاکستان سے مل گئی ہیں۔

حمیدہ بانو نے سنہ 2002 میں اس وقت انڈیا چھوڑ دیا تھا جب ایک نوکری دلانے والے ایجنٹ نے انھیں یقین دلایا کہ انھیں دبئی میں باورچی کی نوکری مل جائے گی۔

حمیدہ بانو کا کہنا ہے کہ انھیں نوکری دلانے کے نام پر دھوکہ دیا گیا اور انھیں پاکستان پہنچا دیا گیا۔

ممبئی میں رہنے والے حمیدہ بانو کے اہل خانہ نے بی بی سی کی مراٹھی سروس کو بتایا کہ وہ گذشتہ 20 سالوں سے حمیدہ بانو کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بالآخر ایک انڈین اور ایک پاکستانی شہری کی مدد سے ان کا پتا لگایا جا سکا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی اور انڈین شہریوں کو سرحد عبور کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

حمیدہ بانو بھی پیسے کی کمی اور مقامی معلومات کی کمی کا شکار تھیں۔

لیکن حمیدہ بانو نے اتنے برسوں بعد بھی اپنے بچوں سے ملنے کی امید نہیں چھوڑی۔

حمیدہ بانو جب سوشل میڈیا پر پہنچیں

رواں سال جولائی میں ان کی امید اس وقت بندھنے لگی جب پاکستان میں سماجی کارکن ولی اللہ معروف نے حمیدہ بانو کا انٹرویو لیا اور اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔

ممبئی میں مقیم ایک انڈین صحافی خلفان شیخ نے اس ویڈیو اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کیا تاکہ وہ بانو کے اہل خانہ تک پہنچ سکے اور وہ واقعی پہنچ کر رہا۔

ان دونوں افراد نے حمیدہ بانو اور ان کی بیٹی یاسمین شیخ کے درمیان ویڈیو کال کے ذریعے بات چیت کروائی۔

اس جذباتی ویڈیو کال میں یاسمین شیخ یہ کہتی نظر آ رہی ہیں: ’کیسی ہیں؟ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟ آپ اتنے سال کہاں تھیں؟‘

اس پر حمیدہ بانو کہتی ہیں: ’یہ مجھ سے مت پوچھو کہ میں کہاں ہوں اور میں نے یہ سب کیسے برداشت کیا؟ مجھے آپ سب کی بہت یاد آئی۔ میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں رہ رہی تھی، میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

پاکستان میں 20 سال کیسے گزارے

معروف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حمیدہ بانو نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔

وہ دوحہ، قطر، دبئی اور سعودی عرب میں شیف کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔

حمیدہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2002 میں انھوں نے دبئی میں نوکری حاصل کرنے کے لیے ایک ریکروٹمنٹ ایجنٹ سے رابطہ کیا۔

اس خاتون نے حمیدہ سے 20 ہزار روپے ایڈوانس مانگے۔

بانو اپنے انٹرویو میں کہتی ہیں کہ دبئی لانے کے بجائے انھیں پاکستان کے شہر حیدرآباد لایا گیا جہاں انھیں تین ماہ تک قید رکھا گیا۔

اس کے بعد اگلے چند سالوں میں حمیدہ نے کراچی میں رہنے والے ایک شخص سے شادی کر لی۔ پھر اس شخص کی موت کووڈ 19 کی وبا کے دوران ہو گئی۔

اس وقت حمیدہ بانو پاکستان میں اپنے سوتیلے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یاسمین کا کہنا ہے کہ پہلے بیرون ملک ملازمت کے دوران ان کی والدہ باقاعدگی سے فون کرتی تھیں۔ لیکن 2002 میں انڈیا چھوڑنے کے بعد کئی ماہ تک فون نہیں کیا۔

یاسمین کا کہنا ہے کہ جب انھوں ایجنٹ سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ ہماری والدہ ٹھیک ہیں اور ہم سے بات نہیں کرنا چاہتیں۔ ہم اس ایجنٹ سے بار بار رابطہ کرتے رہے اور پھر یہ ہوا کہ ایجنٹ اچانک غائب ہو گئی۔

حمیدہ بانو کی تلاش

ولی اللہ معروف پاکستان کے شہر کراچی کی ایک مقامی مسجد کے امام ہیں۔

معروف بتاتے ہیں کہ ان کی اس خاتون (حمیدہ بانو) سے تقریباً 15 سال پہلے ملاقات ہوئی ہو گی جب انھوں نے معروف کے علاقے میں دکان کھولی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’میں انھیں بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں۔ وہ ہمیشہ پریشان نظر آتی تھیں۔‘

معروف گذشتہ کئی سالوں سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی مدد سے بنگلہ دیش سے پاکستان سمگل ہونے والی خواتین کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ ملواتے رہے ہیں۔

اپنے دوسرے شوہر کی موت کے بعد حمیدہ اپنی ساس سے کہتی رہیں کہ وہ معروف کو ان کی مدد کے لیے راضی کریں۔

معروف کا کہنا ہے کہ وہ ان کی کہانی سن کر جذباتی ہو گئے لیکن دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے ہچکچا رہے تھے۔

معروف کہتے ہیں: ’میرے دوستوں نے مجھے انڈیا سے دور رہنے کو کہا، مجھے کہا گیا کہ اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن مجھے ان کی حالت دیکھ کر اتنا برا لگا کہ میں خود کو روک نہیں سکا۔‘

معروف نے بتایا کہ وہ اپنی کوششوں کے لیے کسی قسم کی مالی مدد نہیں لیتے۔ اس انٹرویو میں حمیدہ بانو نے اپنا ممبئی کا پتہ اور بچوں کے نام بتائے تھے۔

انڈین صحافی خلفان شیخ نے ویڈیو شیئر کی تو یاسمین کے بیٹے نے دیکھ لیا۔ یاسمین کے 18 سالہ بیٹے نے اپنی نانی کو کبھی نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ ان کے انڈیا چھوڑنے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ لیکن یاسمین نے فوراً اپنی ماں کو پہچان لیا۔

معروف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ حمیدہ بانو باضابطہ درخواست کریں تاکہ انھیں انڈیا لے جایا جا سکے۔

لیکن معروف کو نہیں معلوم کہ اس سب میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن اب حمیدہ بانو اپنے بچوں سے ملنے کے انتظار میں دن گزار رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے بچوں کو دوبارہ دیکھنے کی امید تقریباً چھوڑ دی تھی۔ یاسمین کہتی ہیں کہ سرحد پار بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم نے 20 سال تک ان کا انتظار کیا۔ میں اب بہت خوش ہوں۔ جب سے میں نے وہ ویڈیو دیکھی ہے تب سے میرے چہرے سے مسکراہٹ نہیں ہٹتی۔ یہ ایک عجیب احساس ہے۔‘