آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمرہ ادائیگی: محرم کی شرط ختم ہونے کے باوجود خواتین کو ویزے کیوں نہیں دیے جا رہے؟
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
سعودی عرب نے بیرونِ ملک سے آنے والی خواتین کو محرم کے بغیر عمرے کے سفر پر آنے کی اجازت دے دی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 45 برس سے کم عمر کی کوئی بھی خاتون محرم کے بغیر عمرے کی غرض سے سعودی عرب نہیں جا سکتی تھی اور محرم کے بغیر آنے والی 45 برس سے بڑی عمر کی خواتین کو بھی گروپ کی صورت میں آنے کی پابندی تھی۔ اور اگر مرد حضرات کی بات کی جائے 40 برس کے کم عمر کے مرد اکیلے عمرے کی ادائیگی کے لیے نہیں جا سکتے تھے تاہم مردوں کے بطور محرم سعودی عرب آنے پر عمر کی پابندی نہیں تھی۔
سعودی سفارت خانے کے قونصلیٹ سیکشن کے سربراہ سلطان نائف الداوش کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں عمرے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
- 40 سال کے مردوں کے لیے خاندان کے ہمراہ عمرے کے لیے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت ختم کر دی گئی ہے اور اب وہ اکیلے بھی آ سکتے ہیں۔
- 45 برس سے کم عمر خواتین کے لیے اکیلے نہ آنے یا (45 برس سے بڑی عمر ہونے کی صورت میں) گروپ کی صورت میں آنے کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے اور وہ اب محرم کے بغیر عمرے کے لیے آ سکتی ہیں۔
بی بی سی نے اس حوالے سے سعودی عرب جانے کے لیے مدد فراہم کرنے والے چند عمرہ ایجنٹس سے بات کی۔ جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ نیا حکمنامہ جاری ہوا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان میں ویزا ویریفکیشن سینٹر ’اعتماد‘ موجود ہے۔
یہاں صبح سویرے ہی لوگوں کی بڑی تعداد لائنوں میں لگی دکھائی دیتی ہے جو اپنی اپنی دستاویزات لیے وہاں آتے ہیں۔ یہ عمرے کے ویزے، ورک ویزے اور فیملی ویزے کے لیے اس سینٹر پر آتے ہیں۔
چند خواتین سے بھی ملنے کا موقع ملا لیکن وہاں کوئی ایسی خاتون دکھائی نہیں دیں جو عمرے کے ویزے کے لیے محرم کے بغیر جانے کے لیے آئی ہوں۔ تاہم اپنا ویزے کی تجدید کروانے کے لیے آئی خاتون مسز کنول نے مجھے بتایا کہ اب سعودی عرب میں خواتین کے لیے حجاب اور سفر کی پابندی میں بہت نرمی ہو چکی ہے۔ ’پہلے پہل بہت سی جگہوں پر داخلہ ممنوع تھا اور محرم کے بنا ہم سفر یا عمرہ نہیں کرتے تھے تاہم اب کوئی مشکل نہیں۔‘
یہاں انفارمیشن سینٹر میں موجود عملے کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی ہمیں کوئی باقاعدہ احکامات موصول نہیں ہوئے اور ہم 45 برس سے بڑی عمر کی خواتین کو ہی محرم کے بغیر ویزا دے رہے ہیں۔ ’سُنا تو ہم نے ہے، کچھ روز سے یہ خبر چل رہی ہے لیکن ہمیں ابھی ایسے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹریول ایجنٹ عشرت عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خبر مارچ کے وسط میں آئی تھی اور اس سے پہلے بھی سعودی سفارتخانے کی جانب سے ایسی ای میل/ نوٹس آ چکے ہیں لیکن عملی طور پر ابھی کچھ شروع نہیں ہوا۔
وہ بتاتے ہیں کہ مارچ کے وسط میں بھی ایسا ہی ایک نوٹس جاری ہوا تھا لیکن 48 گھنٹوں کے اندر ہی اسے واپس لے لیا گیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دو روز قبل ہی میں نے اپنے ایک مرد کلائنٹ جن کی عمر 29 برس تھی کا سعودی عرب میں عمرے کے لیے ویزا لگانے کے لیے کہا، تاہم انھیں ویزا جاری ہی نہیں کیا گیا۔ اور ان کے ساٹھ ہزار روپے ویزا فیس بھی ضائع ہو گئی۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ میرے چند ساتھی ایجنٹس نے بتایا ہے کہ 45 برس سے کم عمر کی جن خواتین کو ویزا جاری کیا گیا انھیں بھی ائیر پورٹ پر بورڈنگ کی اجازت نہیں ملی اور کہا گیا کہ آپ کے ساتھ آپ کا محرم نہیں ہے۔
اعتماد کے دفتر میں موجود اہلکار نے کہا کہ بہت سے احکامات آتے ہیں لیکن ہر حکم پر لازمی نہیں کہ عمل بھی ہو۔
عمرہ ایجنٹس کہتے ہیں کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ خواتین ویزا تو اپنے شوہر کے ہمراہ لگواتی ہیں پھر عمرے کے لیے الگ چلی جاتی ہیں جبکہ کچھ ایسے ایجنٹس بھی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اس حکمنامے سے پہلے بھی ہم کم عمر خواتین کو گروپ کے ساتھ جس میں کوئی ایک مرد بطور محرم سربراہ بن جاتا تھا کو بھجواتے رہے ہیں۔
اسلام آباد کی رہائشی دعا گذشتہ برس ایک گروپ کے ہمراہ عمرے کے لیے گئی تھیں۔ اس خبر پر انھوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایسا ممکن ہو جائے تو ہم خواتین کے لیے بہت آسانی ہو جائے گی کیونکہ ہر عورت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اپنے گھر میں بچوں یا بزرگوں کو چھوڑ کر شوہر کے ہمراہ عمرے یا حج پر جا سکے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ میں دو بار عمرے کے لیے سعودی عرب جا چکی ہوں اور میرا خیال نہیں کہ اگر آپ گھر سے باہر نکلتی ہیں اور سفر کرتی ہیں تو عمرے کے سفر یا مکہ اور مدینہ میں آپ کو کوئی مشکل پیش آئے گی۔
میمونہ مرتضی ملک پاکستان کی معروف مذہبی سکالر ہیں جو ایک طویل عرصے سے سعودی عرب میں ہی مقیم ہیں اور عورتوں کے گروپس کو حج و عمرے کی تیاری میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
میمونہ کہتی ہیں کہ ’محرم کی شرط سعودی عرب میں گذشتہ برس ہی ختم ہو گئی تھی اور میں نے اپنے شوہر کے بغیر حج ادا کیا تھا۔ مدینہ سے عمرہ کرنے کے لیے میں بارہا اپنی دوستوں کے ہمراہ مکہ گئی اور کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہم اپنی بس میں کسی ایک خاتون کے محرم کو ہمراہ رکھتے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’گزرے برسوں میں ہمیں کبھی عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی قسم کی چیکنگ نہیں کی اور نہ روکا تاہم ہم نے دیکھا کہ اس پابندی سے پہلے سعودی خواتین محرم کے بنا عمرہ و حج نہیں کرتی تھیں تاہم اب سفری پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے خواتین پر سفری پابندیاں مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی بنیاد پر لگائی گئی تھیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب وہاں خواتین سے بہت سی پابندیاں ہٹائی گئیں تو یہ پابندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔‘