خیبر کی تحصیل باڑہ میں چین کی مدد سے پچاس سکولوں کی تعمیر کے منصوبے پر کام بند

،تصویر کا ذریعہISLAM GUL
- مصنف, اسلام گل آفریدی
- عہدہ, صحافی
احسان اللہ نے ابتدائی پڑھائی بغیر چھت کے کھلے میدان کے سکول میں شروع کی جبکہ بعد میں محکمہ تعلیم کے طرف سے سکول کو خیمے مہیا کیے گئے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے سابقہ قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں شدید سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے اُن کے ہائی سکول میں ایک امدادی ادارے کی مالی مدد سے فائبر شیڈ سے عارضی چھ کمرے بنائے گئے۔
لیکن مارچ 2021 میں تین دن مسلسل تیز ہواؤں کی وجہ سے چار کمرے مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ باقی ایک کو جزوی نقصان پہنچا۔
انھیں نویں اور دسویں جماعتیں قریب ہی جانوروں کے لیے بنائے گئے ایک ہسپتال میں حاصل کرنا پڑیں جبکہ عمارت نہ ہونے کی وجہ سے امتحان کے لیے آٹھ کلومیٹر دور دوسرے سکول جانا پڑا۔ ان کے سکول کی عمارت کا تعمیراتی کام کئی مہینوں سے بند ہے۔
ادھر خواص خان آفریدی گورنمنٹ پرائمری سکول شلوبر نمبر ایک نوگزی بابا میں ہیڈماسٹر ہیں۔ اُن کے ساتھ چار سو سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں تاہم عمارت نہ ہونے کی وجہ سے تین بوسیدہ خیموں میں ہی بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ صبح نو بجے سے دو بجے تک واش روم، پینے کے پانی اور بجلی کے بغیر بچوں کا خیموں یا کھلے آسمان تلے بیٹھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ بچے شدید گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے ہیں جن کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے ایک اُستاد ضرور اُن کے ساتھ جاتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اس علاقے میں ایک بھی مناسب سرکاری سکول نہیں۔ ستمبر 2009 میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے خلاف تحصیل باڑہ میں فوجی آپریشن (خیبر ون) کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

،تصویر کا ذریعہISLAM GUL
پچاس سکولوں کی تعمیر نو کا منصوبہ تاخیر کا شکار
آپریشن کے خاتمے کے بعد 2015 میں دیگر اداروں کے ساتھ محکمہ تعلیم نے ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے تعاون سے سروے کا آعاز کیا جس میں معلوم ہوا کہ علاقے میں کل 158 سکولوں کو بارودی مواد سے نقصان پہنچایا گیا جن میں 63 کو جزوی نقصان جبکہ 95 سکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزید چھ سکول اُن علاقوں میں تھے جہاں پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سروے ٹیم کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ البتہ مختلف ذرائع سے تصدیق ہوئی کہ وہ بھی مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔
ضلع خیبر کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر شاہد علی آفریدی نے بتایا کہ اب تک جزوی نقصان شدہ تمام تعلیمی اداروں کو ضلعی تعلیمی فنڈ سے بحال کیا گیا ہے تاہم مکمل طور پر تباہ سکولوں میں ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہبیلی ٹیشن یونٹ (آر آر یو) نے بتیس، امداردی اداروں کی مالی معاونت سے سولہ جبکہ تین سکولوں کو سالانہ ترقیاتی فنڈ سے تعمیر کیا گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان نو اگست 2018 کو معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 68 سکولوں کی تعمیر نو کے لیے مالی معاونت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم اب تک ان سکولوں کی تعمیر مکمل نہ ہوسکی۔
خیبر کنسٹرکٹر ایسی ایشن کے سابق صدر حاجی بادشاہ خان آفریدی کے پاس چینی فنڈ سے تعمیر ہونے والے چار سکولوں کا ٹھیکہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ 2018 میں پچاس سکولوں کی تعمیر کا ٹینڈر ہوا اور جون 2019 میں کام کا اجازت نامہ موصول ہوا۔ ’لیکن فنڈ کی عدم دستیابی کی بنا پر محکمے کے طرف سے کہا گیا کہ فی الحال کام شروع نہ کیا جائے۔‘
اُن کے بقول ڈیڑھ سال بعد خیبرپختونخوا حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ جب تک چینی فنڈ منتقل ہوتا ہے، تو اُس وقت تک صوبائی فنڈ سے کام چلایا جائے گا۔ ’فروری 2020 میں تعمیراتی کام شروع ہوا لیکن منصوبے میں تعمیراتی مواد کے ریٹ 2012 کے لگائے گئے تھے جس میں ٹھیکیدار کو پہلے سے کافی نقصان کا اندیشہ تھا لیکن فنڈ کی شدید کمی اور مانیٹرنگ کے بہانے کام میں تاخیر کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے آگست 2021 کے دوران مجبوراً تمام سکولوں پر تعمیراتی کام بند کرنا پڑا۔‘

،تصویر کا ذریعہISLAM GUL
اُنھوں نے کہا کہ فروری 2022 تک کام کی مدت مقرر کی گئی لیکن تمام ٹھیکیداروں نے سی اینڈ ڈبلیو کو تحریری طور بتایا ہے کہ تعمیراتی مواد کے 2021-22 شیڈول ریٹ کے ساتھ دوبارہ ٹینڈر لگایا جائے جبکہ پہلے کے بقایا جات اور سکیورٹی رقم بھی واپس کی جائے۔
اطلاعات کے مطابق پچاس سکولوں میں سے تین پر فنڈز کی عدم دستیابی اور دو سکولوں کے زمینی ملکیت پر تنازع کی وجہ سے کام شروع ہی نہ ہوسکا ہے۔
سیاسی و سماجی کارکن زاہد اللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دہشتگردی کی لہر سے پہلے علاقے میں شرح خواندگی کافی زیادہ تھی لیکن بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے تباہ ہونے سے علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں کافی متاثر ہوئی ہیں۔‘
سکولوں کی عدم تعمیر کے حوالے سے وزیر خزانہ اور وزیر تعلیم کے ساتھ بار بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم اُن کے طرف سے کوئی جواب موصل نہ ہوسکا۔
19 اپریل 2021 کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان اور چینی سفیر نے باڑہ میں چین کی مالی معاونت سے تعمیر ہونے والے پچاس سکولوں کے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔
’فروری 2022 میں کام مکمل ہونا تھا‘
صوبائی وزرات خزانہ کے ایک اعلی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ باڑہ میں پچاس سکولوں کی تعمیر کے لیے دو ارب 33کروڑ روپے تخمینہ لگایا گیا تھا جس میں پاکستان کے پانچ جبکہ چینی حکومت کے 95 فیصد شیئرز مقرر کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہISLAM GUL
اُن کے بقول چین کی طرف سے فنڈز کی منتقلی میں تاخیر کی بنا پر صوبائی حکومت نے 21 کروڑ روپے ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹ کو ادا کر دیے جبکہ سکولوں پر 15 فیصد تعمیراتی کام مکمل کیا گیا جن میں نو فیصد کام کی رقم کی ادائیگی ہوچکی ہے۔
ان کے مطابق باقی چھ فیصد یعنی دو کروڑ 39 لاکھ روپے کی ادائیگی جلد کر دی جائے گی۔ اُنھوں نے بتایا کہ چین کی امدادی رقم کی پہلی قسط 12 کروڑ 30 لاکھ روپے پاکستان منتقل کر دیے گئے ہیں لیکن چند مسائل کی بنا پر باقی ادائیگی جلد ممکن نہیں۔
سی اینڈ ڈبلیو کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متعلقہ ٹھیکیداروں نے تعمیراتی مواد کے 2012 کے ریٹ میں مزید کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور تحریری طور پر اپنا موقف جمع کرا چکے ہیں جبکہ بقایاجات اور سکیورٹی مد میں بقایاجات کے ادائیگی کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس حوالے سے ادارے کے اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاہدے کے تحت فروری 2022 میں کام مکمل کرنا تھا لیکن فنڈز کی بروقت فراہمی میں تاخیر کی بنا پر صرف پندرہ فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مسائل کی بنا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا لیکن از سر نو بجٹ ترتیب دینے کے لیے صوبائی حکومت کو مرسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔
اُن کے بقول چین کی مدد سے تعمیر ہونے والے منصوبوں میں ریٹ بڑھنا ممکن نہیں تاہم صوبائی حکومت کو مالی معاونت فراہم کے لیے تجویز بھیجی گئی ہے تاکہ جلد از جلد تعمیراتی منصوبے پر کام مکمل ہوسکے۔ ’ٹھیکیداروں کے سکیورٹی کے پیسے روکے گئے تاہم اوپن مارکیٹ میں مٹیریل ریٹ بڑھنے کے مطالبے کو حکام نے جائز اور قانونی قرار دیا۔‘
علاقے سے ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈسٹرک ڈوپلیمنٹ کونسل (ڈیڈک) کے چیئرمین شفیق آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلسل کوششوں کے بعد اب چین سے فنڈ آنا شروع ہو گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر چین سے ملنے والی مدد تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو کام کو جاری رکھنے کے لیے حکومت دوسرے منصوبوں سے فنڈ مہیا کرے گی اور جیسے ہی امداد کی رقم وصول ہوتی ہے تو واپس حکومتی منصوبے کو فنڈ منتقل کر دیا جائے جہاں سے لیا گیا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ فنڈ کا مسئلہ حل کر دیا گیا ہے لیکن ٹھیکیداروں نے دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے تعمیراتی مواد کے 2021-22 شیڈول ریٹ کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا حق ہے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ ’متعلقہ ادارے اور ٹھیکیداروں کے درمیان مسئلہ حل کر کے منصوبے پر جلد تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہوسکے۔‘

،تصویر کا ذریعہISLAM GUL
چین مالی معاونت سے ضلع خیبر میں کتنے سکول تعمیر کرنا چاہتا تھا؟
شاہد علی خان کا کہنا ہے کہ مسمار سکولوں میں بچے خمیوں یا کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ کئی سال گزر جانے کی وجہ سے خیمے بوسیدہ ہوچکے ہیں اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے سے سو بڑے خیمے دینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن تاحال اُس میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔
محکمہ تعلیم کے اعداد شمار کے مطابق علاقے میں مزید دس سے پندرہ سکول ایسے ہیں جو کہ دہشت گردی کے لہر میں تباہ ہو چکے ہیں لیکن تاحال اُن کی تعمیر کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کرائی گئی۔
سال 2016 کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں دہشتگردی سے تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کے لیے بات چیت شروع ہوئی تھی۔
ان کے مطابق 68 سکولوں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا لیکن بروقت معاہدہ طے نہ ہونے اور تعمیراتی مواد کے ریٹ میں اضافے کی وجہ سے تعداد 58 جبکہ اس میں مزید کمی کر کے اگست 2016 میں 50 سکولوں کی تعمیر کے لیے معاہدہ ہوگیا۔
محکمہ تعلیم خیبر کے مطابق تباہ شدہ پچاس سکولوں میں لڑکیوں کے چوبیس سکول شامل ہیں۔
جبکہ لڑکے اور لڑکیوں کے چار پرائمری، لڑکیوں کے دو مڈل اور لڑکوں کے چار مڈل، لڑکیوں کا ایک ہائی سکول اور لڑکوں کے چھ ہائی سکول اور لڑکیوں کا ایک ہائر سکینڈری سکول شامل ہے۔
ادارے کے مطابق ان سکولوں میں تین ہزار 900 بچیوں سمیت کل گیارہ ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔













