پشاور پولیس کا تین بچیوں کو ریپ اور قتل کرنے والے ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

بچی، ریپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور پولیس نے ایک ماہ کے دوران تین بچیوں کو ریپ کے بعد قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے جمعرات کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم کا تعلق پشاور کے علاقے سفید ڈھیری سے ہے جس کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے ملنے والے نمونوں سے میچ کر گیا ہے جبکہ ملزم نے تینوں بچیوں کو ریپ کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران نو عمر بچیوں کو مبینہ طور پر ریپ کرنے کے تین واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں سے دو واقعات میں مبینہ ریپ کے بعد بچیوں کو قتل کر دیا گیا تھا جبکہ ایک کیس میں بچی زندہ حالت میں ملی تھی۔

یہ تینوں واقعات اتوار کے روز ہی پیش آتے تھے اور ان کے بعد شہر میں خوف و ہراس کی فضا تھی۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ’تین جولائی، 10 جولائی اور سترہ جولائی کو ہر واقعہ اتوار کے دن پیش آیا، یہ پولیس اور تمام شہریوں کے لیے ایک چیلنج تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر بہت دباؤ تھا کہ درندہ صفت ملزم کو ہر حال میں گرفتار کرنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملزم زری کا کام کرتا ہے اور پشاور میں ہی اس کی دکان بھی ہے۔ ’اس نے اس بابت بھی بتایا ہے کہ وہ واردات اتوار کے روز ہی کیوں کرتا تھا۔‘

آئی جی کے مطابق ’آخری واردات 17 جولائی کو ہوئی جہاں سے ہمیں کچھ لیڈز ملیں۔ پہلی وارداتوں میں لیڈز نہیں مل رہی تھیں۔ ان لیڈز پر ہم نے کام کرنا شروع کیا، ہزاروں گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ہزاروں نمبروں کی جیو فنسنگ اور سینکڑوں مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ ہوئی۔‘

یاد رہے کہ آخری واقعہ گذشتہ ہفتے پشاور کے علاقے کالا باڑی میں پیش آیا جبکہ اس سے پہلے ہونے والے دو واقعات ریلوے کالونی اور ایک گلبرگ میں بھی پیش آیا اور یہ تمام علاقے پانچ کلومیٹر کی حدود میں واقع ہیں۔

اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ یہ کسی ’سائکو پیتھ‘ کا کام ہو سکتا ہے۔

پولیس ذرائع نے رواں ہفتے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اب تک ان کو صرف ایک بچی کی میڈیکل رپورٹ موصول ہوئی ہے، جس میں ریپ ثابت بھی ہو گیا ہے جبکہ باقی دو واقعات کی میڈیکل رپورٹ ابھی تک نہیں آئی۔

‘یہاں کوئی پوچھنے نہیں آیا‘

17 جولائی کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں صدر کے پرہجوم علاقے کالا باڑی میں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد سات برس کی بچی حبہ کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش ایک مسجد کے پاس ملی تھی۔

پشاور کے 55 سالہ نسیم شاہ نے اپنی پوتی سے آخری ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ‘میں تو گھر جا رہا تھا۔ اس نے کہا بابا روٹی کھا کر جانا۔ میں نے اسے دس روپے اور ایک ٹافی دی تو وہ بہت خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف گئی۔ مجھے کیا معلوم تھا راستے میں کوئی بھیڑیا گھات لگا کر بیٹھا ہو گا۔‘

نسیم شاہ سے میری ملاقات اسی مسجد میں ہوئی تھی جس کے قریب سے ان کی پوتی کی لاش ملی۔ وہ ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھے تھے۔

کالا باڑی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نسیم شاہ نے بتایا تھا کہ وہ چراٹ سے پشاور منتقل ہوئے تھے اور 35 سال سے ایم سی ایس میں بطور چوکیدار کام کر رہے ہیں۔

اس دن کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘اتوار کا دن تھا۔ میں عام طور پر اتوار کو کام پر نہیں جاتا لیکن اس دن جانا پڑا تو جلدی واپسی کا ارادہ تھا۔`

‘جس جگہ ان کی ڈیوٹی تھی قریب ہی ان کے بیٹے کا گھر ہے۔ میری پوتی بھی میری ڈیوٹی کی جگہ پر آ گئی۔ مجھے کہنے لگی میں کھانا لاتی ہوں، جانا نہیں۔ اس نے دس روپے مانگے تو میں نے ساتھ ایک ٹافی بھی دی۔ وہ خوشی خوشی چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد پتا چلا وہ اپنے گھر نہیں پہنچی۔ مجھے کیا معلوم تھا کوئی بھیڑیا چھپا بیٹھا ہو گا۔ ہم اسے تلاش کرتے رہے پھر معلوم ہوا کہ اس کی لاش مسجد کے ساتھ کھلی جگہ پر پڑی تھی۔‘

‘اس ظالم نے گلا گھونٹ دیا، ایک معصوم بچی کو پھانسی دے دی۔ کیا گزری ہو گی میری بچی پر۔ سوچ کر ہی دل پریشان رہتا ہے۔‘

یہ بتاتے ہوئے نسیم شاہ کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ انھوں نے اپنا سر جھکایا اور چہرہ چادر میں چھا لیا۔ مجھے سسکیوں کی آواز سنائی دی۔

نسیم شاہ کو گلہ ہے کہ پنجاب میں قصور کے واقعے کی طرح کا عوامی ردعمل کیوں نہیں سامنے آ رہا۔

واضح رہے کہ قصور میں زینب نامی بچی کے اغوا اور ریپ کے بعد قتل کے واقعے کے خلاف سنہ 2018 میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔

‘یہاں تو کوئی پوچھنے بھی نہیں آتا۔ حکومت کا کچھ پتا نہیں۔ اتنا ظلم ہوا ہمارے ساتھ لیکن کوئی ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔`

نسیم شاہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے مشکل سے تدفین کے پیسے جمع کیے۔ ‘کچھ قرض لیا، سوئم پر خیرات کے پیسے نہیں تھے۔ دیگ والے سے منت کر کے قرض پر دیگ پکوائی۔ تنخواہ ملے گی تو اس کے پیسے ادا کر دوں گا۔ ہمارا قبرستان بھی یہاں سے دور ہے۔ جنازہ لے جانے والی گاڑی کا کرایہ بھی مجھ پر قرض ہے۔‘

’بچی کی نیم برہنہ لاش ملی جس کے سر پر زخم کے تازہ نشان تھے‘

ماہ نور کیس

ایسا پہلا کیس تین جولائی کو سامنے آیا تھا جب پشاور چھاؤنی میں واقع ریلوے کوارٹرز میں ایک 10 سالہ بچی ماہ نور کو نشانہ بنایا گیا۔

پولیس تھانہ شرقی (ایسٹ) میں درج ایف آئی آر کے مطابق ماہ نور کے والد نے بتایا کہ چھاؤنی کے ریلوے کوارٹرز میں انھوں نے اپنی 10 سالہ بیٹی کو دکان سے سودا لینے کے لیے بھیجا تھا۔

جب کافی دیر تک بچی واپس نہیں آئی تو اس کی تلاش شروع کی گئی جس کے دوران محلے کے ایک کونے سے بچی کی نیم برہنہ لاش ملی جس کے سر پر زخم کے تازہ نشان تھے۔

رپورٹ کے مطابق بچی کے گلے میں دوپٹہ موجود تھا جس سے بچی کا گلہ گھونٹا گیا تھا۔

’اہلیہ نے فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو بچی زمین پر گری نظر آئی‘

ابھی پولیس حکام ماہ نور کیس کی تفتیش میں مصروف تھے کہ ایک ہفتے بعد 10 جولائی کو گلبرگ کے علاقے میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔

پولیس تھانہ گلبرگ میں درج ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد نے بتایا کہ وہ اپنے فلیٹ میں موجود تھے جب اچانک ان کی اہلیہ نے فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو ان کو بچی زمین پر گری نظر آئی۔

رپورٹ کے مطابق جب بچی کے والد فوری طور نیچے پہنچے تو ان کی پانچ سالہ بیٹی نیم برہنہ حالت میں بے ہوش پڑی تھی۔

بچی کو ہسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے۔

بچی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک پسماندہ علاقے سے روزگار کے لیے پشاور آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایک بیٹا اور بیٹی اور بھی ہیں اور اب خوف کا یہ عالم ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی بچوں کو اپنے آپ سے دور نہیں دیکھ سکتے۔

’سائکو پیتھ اس طرح کی کارروائیاں کر سکتے ہیں‘

پشاور میں کالا باڑی میں جہاں نسیم شاہ کے بیٹے رہائش پذیر ہیں، وہ ایک چھوٹا علاقہ ہے جہاں چھوٹے چھوٹے سرکاری مکان ہیں۔

پولیس کی جانب سے وقوعہ کے روز کہا گیا تھا کہ پولیس ملزمان کو جلد گرفتار کر لے گی اور اعلیٰ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

اس بارے میں کیپٹل سٹی پولیس افسر اعجاز خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزمان کے بہت قریب پہنچ چکی ہے اور جب تک سب کچھ کنفرم نہیں ہو جاتا وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔

پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ ان واقعات میں ملوث ہونے کے شبہ میں کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ مجرم کی نشاندہی ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک متاثرہ بچی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور پولیس نے ان کی فوٹیج حاصل کی ہے۔ پولیس نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بہت جلد اصل ملزمان گرفتار ہوں گے اور ان کو سامنے لایا جائِے گا۔

‘اپنا گاؤں پشاور سے بہتر تھا‘

نسیم شاہ اب پشاور منتقل ہونے کے فیصلے پر بھی پچھتا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمارا گاؤں تو غریبوں کا گاؤں ہے۔ سوچا تھا یہاں پشاور شہر میں زندگی بہتر ہو گی لیکن معلوم نہیں تھا کہ اپنا گاؤں تو اس سے کہیں بہتر تھا۔‘

‘اگر اس طرح کے علاقے میں ایسا کام ہوتا ہے تو اس سے تو چراٹ کے پہاڑ اچھے تھے۔ وہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ یہاں تو کوئی حیا نہیں، کیسے ایک بچی کو مسل ڈالا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے فوجی افسران اور سیاسی رہنماؤں نے ان سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔