پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی خواتین سیاح اپنا سفر کیسے محفوظ بنا سکتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
'پاکستان ہو یا کوئی بھی ملک، آپ یہ مان لیں کہ یہ دنیا 'فیمیل فرینڈلی' نہیں ہے'،
یہ کہتے ہوئے رابعہ مقبول کے لہجے میں بہت سی خواتین سیاحوں کے لیے تشویش تھی اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ٹریول گرلز کے نام سے ایک گروپ کا آغاز کیا تاکہ خواتین خود کو دوران سفر محفوظ رکھ سکیں۔
حالیہ کچھ دنوں میں پاکستان میں سیاحت سے جڑی خبریں گردش میں رہیں، مگر بدقسمتی سے یہ کوئی اچھی خبریں نہیں تھیں۔
پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ باجوڑ میں ایک جرگے نے خواتین کی سیاحت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ابھی اسی ہر بحث جاری تھی کہ ایک جرمن نژاد امریکی سیاح کے مبینہ ریپ کی خبر سامنے آ گئی۔
اب سوشل میڈیا پر جہاں اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں خواتین سیاحوں کو مشورے بھی دیے جا رہے ہیں کہ وہ کیا 'ریڈ فلیگز' جو نظر آتے ہی انہیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
’ان کے ساتھ سفر جن پر اتنا اعتماد ہو جتنا والدین پر ہے‘
ہم نے اسی بارے میں بات کرنے کے لیے ٹریول گرلز نامی گروپ کی منتظم رابعہ مقبول اور ون ففٹی ایٹ ٹریولز نامی ایجنسی کے منتظم بلاول عبداللہ سے بات کی مگر اس سے پہلے گذشتہ دو سال میں دو بار پاکستان آنے والے ایک امریکی سیاح سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ پاکستان آتے وقت وہ کن باتوں پر غور کر رہی تھیں۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا کہ وہ 2021 اور 2022 میں پاکستان سیاحت کی غرض سے آچکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ’'میرا سب سے بڑا مسئلہ مقامی زبان اور ثقافت سے ناواقفیت تھی۔ ایسی صورت میں کہیں بھی سفر کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ چیزیں جو میرے ملک میں ایک عام سی بات ہیں، پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ مجھے زبان اور کلچر کا علم نہیں، یا یہ نہیں پتا کہ یہاں کے لوگوں کے لیے ایک عورت میں کیا موزوں اور کیا قابل قبول ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ ایک غیر ملکی ہونے کی حیثیت سے یہ میرے لیے مزید اہم تھا کہ میں ایسے گروپ یا ایجنسی کے ساتھ سفر کروں جن پر مجھے مکمل اعتماد ہو، اتنا اعتماد جتنا میں اپنے والدین پر کرتی ہوں۔
وہ کہتی ہیں کہ پاکستان آنے سے پہلے وہ ایک ایسا گروپ ڈھونڈ رہی تھیں جس میں اگر تمام نہیں تو کم ازکم زیادہ تر ممبرز خواتین ہی ہوں۔
ان کے مطابق ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں ایک ایسے ٹریولنگ گروپ کی سروسز ملیں جنہیں چلانے والی بھی خواتین ہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں 'میں نے اس گروپ کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر اچھی طرح ریسرچ کی، لوگوں کے ریویوز دیکھے جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور قابل اعتماد سیاحوں کی جانب سے تھے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس گروپ کے ساتھ سفر پلان کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔‘
’چونکہ اس گروپ کی منتظمیں بھی خواتین ہیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گروپ میں ایک دوسرے کی عزت و احترام کا ایک خاص کلچر موجود تھا۔ دوسرا یہ کہ خواتین ہونے کی وجہ سے انھیں ہماری ضروریات کا پتا ہوتا ہے کہ ہمیں کیا چاہیے، حتی کہ بظاہر ایک چھوٹی چیز نظر آنے والا معاملہ جیسا کہ طویل سفر کے دوران ٹوائلٹ جانا ہے یا خواتین کے لیے سینٹری پیڈز کا انتظام۔‘
خاتون سیاح اپنا سفر کیسے محفوظ بنا سکتی ہیں
خواتین ٹریول گائیڈز یا گروپ منتظم ہونے کا فائدہ تو ہے، مگر کسی بھی دوسرے ملک، شہر جانے اور ٹریول ایجنسی، گروپ یا گائیڈ کے ساتھ سفر پلان کرنے سے پہلے کئی ایسی تجاویز ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس بارے میں رابعہ مقبول نے کچھ ٹپس دیں کہ کیسے ایک خاتون سیاح، چاہے وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی، اپنا سفر محفوظ بنا سکتی ہیں۔
رابعہ اور بلاول دونوں ہی سب سے اہم مشورہ یہ دیتے ہیں کہ کسی بھی سیاحتی مقام پر جانے سے پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کریں: 'آپ کی فیملی کو پتا ہو کہ آپ کہاں جا رہی ہیں، کس ہوٹل میں ٹھہر رہی ہیں، ان کے فون نمبرز کیا ہیں، آپ نے کن علاقوں اور کن مقامات پر جانا ہے۔'
’سب سے اہم یہ ہے کہ آپ نے رہنا کہاں ہے، کس ہوٹل کی بکنگ کرانی ہے۔ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ کوئی ہوٹل مشکوک ہے تو پھر وہاں نہ جائیں۔ یا آپ کو کوئی کم پیسوں کی پیشکش کر رہا ہے تو ایسی آفر قبول نہ کریں ورنہ یہ کسی بڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔‘
رابعہ کہتی ہیں کہ رہائش کے لیے ایسا ہوٹل منتخب کریں جو کسی نے تجویز کیا ہو ’اور کوشش کریں کہ گھروں میں نہ رہیں کیونکہ وہ قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ خاص طور پر مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر رک جائیں، کمرہ کرائے پر لیں تو ایسا کبھی نہ کریں۔ رجسٹرڈ اور مصروف علاقے میں موجود ہوٹلز کی ایک شہرت ہوتی ہے اور وہ عام طور پر اس معاملے پر محتاط بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ بیرون ملک جا رہی ہیں اور یہ سوچتی ہیں کہ وہاں آپ کا کوئی دوست ہے جن کے ساتھ آپ رہ سکتی ہیں تو آپ خود کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔‘
دوسرا اہم نکتہ ٹرانسپورٹیشن ہے، ہمیشہ قابل اعتماد لوگوں یا کمپنیوں کے ساتھ ٹرانسپورٹیشن کا انتظام کرناچاہیے اور کوشش کریں کہ یہ بھی ریفرنس کے ذریعے ہو کہ کسی نے آپ کو تجویز کیا ہے۔ اور اگر آپ لوکل گاڑیوں پر جا سکتی ہیں تو وہ بھی ایک اکیلی سیاح کے لیے اچھا آپشن ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ کا گائیڈ کون ہے؟
رابعہ کے مطابق یہ تسلی کرنا ضروری ہے کہ جس ٹریول ایجنسی کے ساتھ آپ سفر کر رہے ہیں کیا وہ رجسٹرڈ ہیں اور ان کے پاس لائیسنس موجود ہے۔ آپ کسی ایسی ایجنسی کا انتخاب کریں جن کے ساتھ آپ کے دوست احباب نے سفر کیا ہو۔
'یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کا گائیڈ کون ہے۔ کیا ان کے پاس گائیڈ لائیسنس موجود ہے؟ کیا وہ ایک جانی پہچانی اور اچھی شہرت رکھنے والی شخصیت ہیں؟ کیا ان کی اپنی ٹور کمپنی ہے یا وہ کسی ٹور کمپنی کے ساتھ ہے۔ ضروری ہے کہ کسی ٹور گائیڈ یا کمپنی کی سروسز لینے سے پہلے دو چار لوگوں سے پوچھ لیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں کون ہیں'۔
رابعہ بتاتی ہیں کہ ضروری نہیں کہ آپ کو اکیلے جانے میں ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑے، ایسا گروپ میں شامل خواتین کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
’اگر آپ گروپ کا بھی حصہ ہوں تب بھی اکثر گائیڈز کے ہاتھوں خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بعض اوقات ٹور آپریٹرز بھی سوچتے ہیں کہ چلیں یہ لڑکی تو اکیلی ہے تو کیوں نہ ان سے دوستی کی کوشش کی جائے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ایک بار ایک گروپ کا گائیڈ نشے کا عادی نکلا، اسی طرح ہم ایک بار کمراٹ گئے اور وہ ایک مشہور گائیڈ تھا مگر جب ہم اس کے پاس پہنچے تو ہمیں وہ کچھ ٹھیک نہیں لگا۔ اس لیے ہم گائیڈ کے معاملے پر خاص محتاط ہوتے ہیں۔ آپ کو اگر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بندہ کچھ زیادہ ہی اچھا بننے کی کوشش کر رہا ہے، اور ہمیں پروفیشنلی ڈیل نہیں کر رہا تو بہتر ہے کہ اس کے ساتھ نہ جائیں۔ اب زیادہ تر سیاحوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی خاتون گائیڈ ہوں تو وہ زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گروپس کے ساتھ سفر میں احتیاط
آج کل یہ ٹرینڈ عام ہے کہ سیاح سوشل میڈیا پر موجود مختلف سیاحتی گروپس کا حصہ بنتے ہیں اور اندرون ملک حتی کہ بیرون ملک بھی سیاحتی دوروں پر جاتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سفر کے اخراجات کم ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ کے ہمراہ اپنے ہی ملک کے شہری ہوتے ہیں جبکہ رہائش اور سفر کی دیگر تفصیلات کا مکمل انتظام بھی گروپ منتظمین کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ مگر ایسے کسی بھی گروپ کا حصہ بننے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اس سے متعلق تصدیق کر لیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور ماضی میں ان کے ساتھ سیاحوں کا تجربہ کیسا رہا ہے؟
رابعہ مقبول کے مطابق سوشل میڈیا پر ریویوز پڑھنا ضروری ہے۔
ان کے بقول 'پہلی بات کہ فیس بک پر ریویو کا آپشن آن ہو۔ اکثر لوگ اس کو بند کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کچھ چھپانا چاہتے ہیں۔ فیس بک پر ٹریول گروپس ہیں، آپ وہاں جائیں اور سوال پوچھیں کہ فلاں گروپ کیسا ہے۔ انہی گروپس میں لوگوں نے ریویوز بھی دیے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ریسرچ کے بعد ریویز نہیں ملتے تو بہتر ہے کہ ایسی کمپنی کے ساتھ نہ جائیں۔ لوگوں سے پوچھیں کہ ان کا تجربہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ کیسا رہا۔ یہ یاد رکھیں کہ پیسوں سے زیادہ اہم آپ کا تحفظ ہے۔‘
ٹریولز نامی ایجنسی کے منتظم بلاول عبداللہ کے مطابق سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر 'لوگ اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں، جن سے اس گروپ سے متعلق معلومات مل سکتی ہیں۔ لیکن ہر صورت میں یہ ضروری ہے کہ آپ کی ریسرچ میں اس علاقےکا کلچر شامل ہو، جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق خواتین ہوں یا مرد، انہیں بعض معاملات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔'
مگر ان تمام باتوں کے باوجود ہم سے بات کرنے والی امریکی سیاح، اور گروپ منتظمین رابعہ مقبول اور بلاول عبداللہ ایک ہی مشورہ دیتے ہیں:
’کوشش کریں کہ اکیلے سفر نہ ہی کریں۔ دو تین لڑکیوں کا گروپ بنائیں اور پھر سفر کریں۔ ہمارے ماحول میں اکیلے سفر کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘











