طیبہ گل کیس: عدالت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو نیب حکام کے خلاف کارروائی سے روک دیا

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو طیبہ گل کیس میں نیب افسران کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ طیبہ گل کی طرف سے ہراسانی کی شکایت کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انھیں پیشی کا نوٹس دیا ہے، جسے ختم کیا جائے۔
بدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’پی اے سی کی کارروائی پر سٹے آرڈر نہیں دے رہے، آپ وارنٹس وغیرہ جاری کر دیتے ہیں، صرف ایسے اقدامات سے روک رہے ہیں۔‘
پی اے سی کی کارروائی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے: نیب

،تصویر کا ذریعہNAB
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو کہا تھا کہ وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائر اختیار سے متعلق دلائل دیں۔
اس موقع پر نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے عدالت کے روبرو دلائل دیے کہ پارلیمان کی کارروائی کو کب اور کیسے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمان کو مکمل طور پر استثنیٰ حاصل نہیں ہے، اب پارلیمانی استثنیٰ کی حد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے، یہاں معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی بے ضابطگی کا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی پارلیمان کے اندر ہی آتی ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ استثنیٰ صرف پارلیمان کی کارروائی کو حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’آپ یہ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمان کی صرف پروسیجرل کارروائی کو استثنیٰ ہے؟‘ ایڈیشل پراسیکوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ’جی بالکل یہی لب لباب ہے۔‘
دوران سماعت ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کی جانب سے نیشنل اسمبلی رولز کی کاپی عدالت کے سامنے پیش کی گئی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں اگر لا اینڈ جسٹس کی سٹینڈنگ کمیٹی ہے تو اس کا کام فقط قوانین کو ہی دیکھنا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جو معاملہ زیر التوا ہے وہ کیا ہے؟
عدالت کے اس سوال کے جواب میں جہانزیب بھر وانہ نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں طیبہ گل کے سابق چیئرمین نیب، ڈی جی نیب لاہور اور دیگر حکام کے خلاف (جنسی ہراسانی کی) شکایت کیں۔
ان کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ڈائریکشن بہت اہم ہے۔ کمیٹی نے سابق چیئرمین نیب کو بلایا تھا جبکہ لاہور کی عدالت میں طیبہ گل کی درخواست زیر التوا ہے، یوں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
عدالت نے ڈی جی نیب لاہور کی درخواست پر سیکریٹری قومی اسمبلی اور سیکریٹری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے اختیار کیے گئے موقف کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائی کو استثنیٰ حاصل ہے۔
عدالت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے استفسار کیا کہ فنڈز کے علاوہ کسی اور معاملے پر کمیٹی کو طلبی کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے جب ہم چیئرمین سینیٹ کو نوٹس دے سکتے ہیں تو پھر چیئرمین پی اے سی کو کیوں نوٹس نہیں دے سکتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’چیئرمین سینیٹ خود میرے سامنے درخواست دائر کر چکے، کیس لڑ چکے ہیں۔‘
طیبہ گل کیس کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ پی اے سی نے طیبہ گل نامی خاتون کی شکایت پر نیب کے سابق چیئرمین اور دیگر اعلیٰ حکام کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر جواب دینے کا نوٹس دے رکھا ہے اور بصورت دیگر کمیٹی نے پولیس کو انھیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا کہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’پی اے سی کی کارروائی پر سٹے آرڈر نہیں دے رہے، آپ وارنٹس وغیرہ جاری کر دیتے ہیں، ایسے اقدامات سے روک رہے ہیں۔‘
طیبہ گل کا نام سنہ 2019 میں پاکستان کے میڈیا پر اس وقت سامنے آیا تھا جب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا تھا تاہم انھوں نے تمام الزامات مسترد کر دیے تھے اور اسے اپنے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ قرار دیا تھا۔
نیب افسر کی طرف سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 24 جون 2022 کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ انھوں نے استدعا کی کہ عدالت سات جولائی 2022 کے منٹس آف میٹنگ کی کارروائی کو کالعدم قرار دے اور عدالت اپنے آئینی دائرہ اختیار کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کسی بھی کارروائی سے روک دے۔
بُدھ کو طیبہ گل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں اور انھوں نے سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو بھی کی۔ طیبہ گل نے بھی اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دے رکھی ہے۔
عدالت نے طیبہ گل کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثرہ فریق ہیں، آپ کیوں پارٹی بننا چاہتے ہیں؟ کسی اور کیس میں پارٹی بننے کا قانون کیا ہے؟ آپ پی اے سی کے سامنے شکایت کنندہ ہیں تو یہاں پارٹی کیسے بن سکتی ہیں؟
عدالت نے طیبہ گل کے کیس میں فریق بننے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے طیبہ گل کے وکیل کو آئندہ سماعت پر فریق بننے کی درخواست پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔










