طیبہ گل کا الزام کہ ان کے بچوں پر قاتلانہ حملہ کیا گیا

پولیس (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایس ایچ او ملک وارث نے کہا کہ پولیس اس واقعے کی مکمل چھان بین کے بعد اس کی رپورٹ متعقلہ حکام کو دے گی (فائل فوٹو)
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں پولیس نے طیبہ گل نامی خاتون کے بچوں پر فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

طیبہ گل نامی ان خاتون کا نام گذشتہ برس پاکستان کے میڈیا میں اس وقت سامنے آیا تھا جب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا تھا تاہم انھوں نے تمام الزامات مسترد کر دیے تھے اور اسے اپنے خلاف پراپیگنڈہ قرار دیا تھا۔

طیبہ گل نے الزام عائد کیا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ان کے بچوں پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔

جھنگ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون تھانے کے انچارج ملک وارث نے اس واقعے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کو پہلے یہ بتایا گیا کہ چنیوٹ موڑ پر ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے، تاہم اس کے کچھ دیر کے بعد ہی طیبہ گل کے شوہر فاروق نول نے الزام عائد کیا کہ ان کے بچوں پر قاتلانہ حملہ کرنے کی غرض سے ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اُنھوں نے بتایا کہ اس واقعے سے متعلق تھانے میں درخواست طیبہ گل کے بیٹے سہیل فاروق نے دی ہے۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کرلیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ علاقے میں موجود لوگوں سے اس واردات یا فائرنگ کی آواز کے بارے میں شہادتیں اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چیئرمین نیب جاوید اقبال

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطیبہ گل نامی ان خاتون کا نام گذشتہ برس پاکستان کے میڈیا میں اس وقت سامنے آیا تھا جب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

ایس ایچ او ملک وارث نے کہا کہ پولیس اس واقعے کی مکمل چھان بین کے بعد اس کی رپورٹ متعقلہ حکام کو دے گی۔

طیبہ گل اور ان کے شوہر کی طرف سے مقامی میڈیا پر بیان آیا ہے جس کے مطابق جس گاڑی پر فائرنگ کی گئی وہ ان کے زیر استعمال تھی لیکن وقوعہ کے روز اس گاڑی میں ان کے بچے سوار تھے۔ اس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان نے یہ سمجھ کر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی کہ اس گاڑی میں فاروق نول اور طیبہ گل سوار ہوں گی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا ابھی تک تھانے کے روزنامچے میں انداراج کیا گیا ہے تاہم شواہد اکٹھے کرنے کے بعد اسے ایف آئی آر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔