احسن اقبال کا کم ’چائے‘ پینے کا مشورہ اور سوشل میڈیا صارفین کا ردِعمل: ’آپ کو مہنگائی کرنی ہے کریں، عوام کو مشورے نہ دیں‘

@faizanlakhani

،تصویر کا ذریعہ@faizanlakhani

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’چائے کی ایک ایک پیالی، دو دو پیالیاں کم کر دیں کیونکہ جو چائے ہم درآمد کرتے ہیں، وہ اُدھار لے کر درآمد کرتے ہیں۔‘

پاکستان کے معاشی حالات کے باعث قوم سے کم مقدار میں چائے پینے کی یہ اپیل ملک کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے والے ملک یعنی پاکستان کے لوگوں اور پڑوسی ملک سے آنے والے ’حملہ آوروں کی تواضح‘ بھی چائے کی پیالی سے کرنے والی پاکستانی قوم کو شاید احسن اقبال کا چائے کم کرنے کا مشورہ کچھ پسند نہیں آیا۔

بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ ’وفاقی بجٹ میں دفاع کے لیے 1523 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز اور ججز کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد غریب عوام سے ان کی واحد ’لگژری‘ یعنی چائے بھی چھوڑنے کا کہنا کیا کچھ تضاد نہیں؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

رخسانہ سلیم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے عوام کو کم چائے پینے کا مشورہ دینا عوام کی تکلیفوں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے آپ کو مہنگائی کرنی ہے کریں، مگر عوام کو ایسے مشورے نہ دیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’غریب لوگ صبح کا ناشتہ انڈے کے ساتھ نہیں کرتے بیچارے اسی چائے میں پراٹھا یا روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں، آپ ان سے یہ واحد لگژری بھی چھیننا چاہتے ہیں؟‘

وجیہ حلال پوچھتی ہیں ’مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ چار بھائی ایک روٹی مل کر کھاؤ، احسن اقبال کہتے ہیں کہ دو کپ چائے پینا چھوڑ دو، لیکن یہ جو 200 لوگوں کا ٹولہ حج پر جا رہا ہے اور بیرونی دورے پر جو عیاشیاں چل رہی ہیں اس کو کب کم کیا جائے گا؟ کیا عوام سے ہی روٹی چائے کم کر کے معیشیت ٹھیک کی جائے گی؟‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کے ذاتی سٹاف اور وزارت کے 200 افراد کے فری حج پر جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزارت سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔ جس کے بعد مفتی عبدالشکور کا کہنا تھا کہ 200 افراد پر مشتمل سیزنل سٹاف یا ویلفیئر عملہ وزارت مذہبی امور اور حاجی کیمپوں کے سرکاری ملازمین ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی میرا رشتہ دار، ذاتی ملازم، باورچی یا نجی گارڈ نہیں ہے۔

@rukhsanaalam

،تصویر کا ذریعہ@rukhsanaalam

زہرہ لیاقت نے لکھا ’دن میں چائے کم پینے کا کہنے پر احسن اقبال نے تاحیات دشمنی مول لے لی ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھر کھا کر گزارا کر لیں گے مگر چائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا !!

سوشل میڈیا پر کئی صارفین اس بیان کا موازنہ عمران خان کے بھینسیں بیچنے اور مرغیاں پالنے کی تجویز جیسے اقدامات کے ساتھ کرتے نظر آتے ہیں۔

واجد علی چھٹہ نے لکھا ’یہ عمران خان کے بھینسیں بیچنے کا ٹھٹھہ اڑاتے تھے، کٹوں اور مرغیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ آج خود لوگوں کی چائے بند کرانے پر پہنچ گئے ہیں۔‘

یاد رہے سنہ 2018 میں حکومت میں آنے کے بعد عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں موجود گاڑیوں، بھینسوں اور ہیلی کاپٹروں کو نیلام کیا جائے گا۔ ان بیانات پر حکومت پر نہ صرف تنقید ہوئی بلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا گیا اور ان بیانات کو کفایت شعاری کی مد سے فائدہ مند سے زیادہ نقصان دہ گردانا گیا، کیونکہ حکومت نے اس کام کے لیے اخباروں میں اشتہارات بھی دیے تھے مگر اس میں انھیں اتنی کامیابی نہیں ملی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

کچھ صارفین اسے مزاحیہ انداز میں بھی لے رہے ہیں۔ اور احسن اقبال کو شعر و شاعری سے جواب دے رہے ہیں

ایک صارف نے ٹویٹ کیا:

دودھ، پانی، پتی ہے، کوئی اسلحہ تو نہیں۔۔۔۔دو کپ چائے پی لی، اب ایک اور پی لوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ملک نے لکھا:

’نام لیتے ہو چائے کا بدتمیز

تم اسے اشرف المشروبات کیوں نہیں کہتے۔۔۔

دوسری جانب کچھ افراد اسے صحت کے حوالے سے ایک بہتر مشورہ قرار دے رہے ہیں۔

صحافی ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ’احسن اقبال کا چائے کم پینے کا مشورہ بالکل درست ہے۔ زیادہ چینی اور چائے نقصان دہ ہے۔ زر مبادلہ بھی ضائع ہوتا ہے۔ کسی رائے کو محض اس لئے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ رائے دینے والا آپ کو پسند نہیں۔

پاکستان کتنی چائے درآمد کرتا ہے؟

چائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سب بحث سے قطع نظر احسن اقبال کی اس اپیل کے پیچھے وجہ جاننا ضروری ہے۔

دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں اور ان کے محرکات پر نظر رکھنے والے ’دی آبزرویٹری آف اکنامک کمپلیکسٹی (او ای سی)‘ اور ڈیجیٹل معیشت، صنعتی شعبوں، کنزیومر مارکیٹس، رائے عامہ، میڈیا اور میکرو اکنامک ٹرینڈر پر ڈیٹا فراہم کرنے والی ویب سائٹ سٹیٹسٹا اور اور ای سی کے مطابق سنہ 2020 میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان نے سب سے زیادہ چائے درآمد کی۔

او ای سی کے مطابق سنہ 2020 میں پاکستان نے 646 ملین ڈالر کی چائے درآمد کی اور دنیا میں چائے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بن گیا۔ اسی سال چائے پاکستان میں 13ویں سب سے زیادہ درآمد کی جانے والی مصنوعات تھی۔ پاکستان نے بنیادی طور پر کینیا سے 495 ملین ڈالر، ویتنام سے 68.3 ملین ڈالر، روانڈا سے 28.1 ملین ڈالر، یوگنڈا سے 14.6 ملین ڈالر اور چین سے 9.78 ملین ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے۔

رواں برس مارچ میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ جولائی تا فروری (2021-22) کے دوران چائے کی درآمدات 423.466 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ گذشتہ برس جولائی تا فروری (2020-21) کے دوران 379.314 ملین ڈالر کی چائے درآمد کی گئی تھی۔

سری لنکا میں چائے کے باغات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسری لنکا میں چائے کے باغات

یعنی مقدار کے حساب سے اس عرصے میں چائے کی درآمدات میں 3.62 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد گذشتہ سال کے 171,469 میٹرک ٹن سے بڑھ کر رواں مالی سال کے دوران 177,671 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔

فروری 2022 کے مہینے میں چائے کی درآمدات میں گذشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 59.56 فیصد اضافہ ہوا۔ فروری 2022 کے دوران چائے کی درآمدات 68.886 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ فروری 2021 میں 43.172 ملین ڈالر کی چائے درآمد کی گئی تھی۔

یعنی جنوری 2022 میں 53.975 ملین ڈالر کی درآمدات کے مقابلے فروری 2022 میں چائے کی درآمدات میں 27.63 فیصد اضافہ ہوا۔

یاد رہے گذشتہ مہینے وفاقی حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی جن میں چائے شامل نہیں تھی کیونکہ یہ ضروری اشیا کی فہرست میں شامل ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان چائے کی درآمد پر خاصی رقم خرچ کرتا ہے اور مگر بقول شاعر:

مانا کہ تم بہت حسین ہو مگر

محبت ہمیں پھر بھی چائے سے ہے۔۔۔

اور ہم تو بس اتنا کہیں گے: احسن اقبال صاحب غریب کو جینے دیں اور چائے پینے دیں!