کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ جس میں ہلاک ہونے والوں کے اعضا 200 گز دور تک جا گرے

امریکی قونصل خانے پر حملے کے لیے وہی سفید سوزوکی کیری استعمال کی گئی اپریل 2002 کو شاہراہ فیصل پر فلک ناز آرکیڈ کے پاس کھڑی کر کے جنرل مشرف پر ناکام حملے کی کوشش کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی قونصل خانے پر حملے کے لیے وہی سفید سوزوکی کیری استعمال کی گئی جو اپریل 2002 کو شاہراہ فیصل پر فلک ناز آرکیڈ کے پاس کھڑی کر کے جنرل مشرف پر ناکام حملے کی کوشش کی گئی تھی
    • مصنف, جعفر رضوی
    • عہدہ, صحافی، لندن

دھماکہ ایسا تھا کہ چند لمحے تو کچھ اور سُنائی ہی نہ دیا۔ پیالی ہوا میں اُچھلی اور اس سے چائے پینے کی کوشش کرتی ندا سیڑھیوں سے گر کر نظروں سے اوجھل ہو گئیں، عاصمہ شیرازی کے مسکراتے چہرے پر حیرت اور پریشانی حاوی ہو گئی جبکہ برطانوی صحافی رچرڈ گوزلن کی شکل سے خوف ٹپکنے لگا۔

آج سے ٹھیک 20 برس پہلے یعنی 14 جون 2002 کو کراچی میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والا خودکُش حملہ مجھے ایسے ہی یاد ہے جیسے ایک ڈراؤنا خواب۔

اس حملے میں 11 پاکستانی ہلاک اور 45 زخمی ہوئے، بیس سے زیادہ گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ آس پاس کی عمارتوں اور ہوٹلوں کے لگ بھگ تمام بیرونی شیشے ٹوٹ گئے۔

یہ جمعے کا دن تھا۔ اُس روز ہم سب یعنی جیو نیوز کے ’بانی عملے‘ کے تمام ارکان، صحافی، کارکن اور انتظامی افسران کراچی کی زیب النِسا سٹریٹ پر واقع ہوٹل ’آواری ٹاورز‘ میں قائم جیو نیوز کی تربیت گاہ میں جمع تھے۔

چونکہ یہ پاکستان میں پرائیوٹ الیکٹرانک میڈیا کا ابتدائی دور تھا لہٰذا عملاً کوئی نہیں جانتا تھا کہ نجی لائیو نیوز چینل کی نشریات چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کیسے جاری رہتی ہے اور اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے جیو نیوز کی انتظامیہ نے تربیت کا اہتمام کیا اور ایسے امریکی و برطانوی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جو پہلے بی بی سی اور سی این این جیسے نشریاتی اداروں میں صحافتی خدمات انجام دے چکے تھے۔

اس حملے کی منصوبہ بندی کیسے اور کب ہوئی؟ حملہ آوروں میں کون کون شامل تھا اور ملزموں کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ یہ جاننے سے قبل اس وقت کے پاکستان کے سیاسی اور سکیورٹی حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ملک کے اندر اور باہر سیاسی، سکیورٹی ماحول

امریکی قونصل خانے، ڈینیئل پرل قتل اور دیگر حملوں میں ملوث ملزمان کی تصاویر جو امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے انتہائی مطلوب شخصیات کے عنوان سے شائع کیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی قونصل خانے، ڈینیئل پرل قتل اور دیگر حملوں میں ملوث ملزمان کی تصاویر جو پاکستان ایجنسیوں نے انتہائی مطلوب شخصیات کے عنوان سے شائع کیں

یہ وہ وقت تھا جب گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں (نائن الیون) کے بعد امریکہ نے شدّت پسند اُسامہ بن لادن اور اُن کی تنظیم ’القاعدہ‘ کے خلاف افغانستان میں فوج داخل کر رکھی تھی اور افغانستان میں درپیش اس صورتحال کا اثر پاکستان میں بھی محسوس کیا جا رہا تھا۔

مغربی سرحد پر جنگ زدہ افغانستان سے لاکھوں پناہ گزین نقلِ مکانی کر کے پاکستانی قبائلی علاقے (فاٹا) اور وہاں سے کراچی جیسے شہروں تک منتقل ہو رہے تھے اور خود پاکستان پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور مخدوش امن و امان کی وجہ سے دوہرے عذاب کا شکار تھا۔

12 اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قابض ہونے والی فوجی حکومت کو بھی فرقہ وارانہ تشدد کی ایسی شدید لہر کا سامنا تھا کہ آئے دن ڈاکٹرز، مذہبی و دینی، فرقہ وارانہ، سیاسی و مذہبی تنظیموں کے عہدیداران، اعلیٰ سماجی شخصیات اور دیگر اہم سماجی انتظامی و سیاسی مراتب پر فائز افراد کو فرقہ وارانہ قتل و غارت کے دوران ہدف بنا کر قتل کیا جا رہا تھا یا پھر فرقہ وارانہ تنظیموں کے مسلّح جتّھے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر منظم حملے کر رہے تھے۔

صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوجی حکومت نے اکتوبر سنہ 2002 میں تشدد میں ملوّث کئی تنظیموں پر پابندی عائد کر دی جو مذہبی سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید غم و غصّے کی وجہ بن چکی تھی۔

دوسری طرف مشرقی سرحد پر انڈیا کے ساتھ فوجی کشیدگی بھی عروج پر تھی کیونکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین افواج پر حملے معمول بن چکے تھے اور انڈیا ان حملوں کا الزام ’پاکستانی حمایت یافتہ شدّت پسندوں‘ پر عائد کر رہا تھا۔

ایسے ہی میں 13 دسمبر 2001 کو انڈین پارلیمان پر حملہ ہوا جس کا الزام بھی انڈیا کی جانب سے حافظ سعید کی لشکر طیبہ اور مولانا مسعود اظہر کی جیشِ محمد پر عائد کیا گیا۔ اس پر پاکستان اور انڈیا میں زبردست کشیدگی ہوئی اور بات سرحدوں پر فوجوں کی صف بندی تک جا پہنچی۔

اب ایک طرف افغانستان اور دوسری طرف انڈیا کی اس صورتحال سے پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر محاذ آرائی کا سامنا تھا جبکہ اسی دوران پاکستان اندرونی طور پر امن و امان کے بحران سے دوچار تھا۔

اُن حالات میں جیسے ہی امریکہ و عالمی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس جنگ کے خلاف پاکستان بھر میں زبردست ردعمل دیکھا گیا۔ دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے تحت ملک بھر میں امریکہ مخالف احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

امریکی قونصل خانے پر اس خودکُش حملے سے صرف پانچ ہفتے قبل یعنی 8 مئی سنہ 2002 کو بھی ہوٹل آواری ٹاورز سے ذرا ہی دور کلب روڈ پر واقع ہوٹل شیرٹن پر ایک بم حملے میں 11 فرانسیسی انجینیئر مارے جا چکے تھے۔

دس روز بعد 17 مئی 2002 کو اسلام آباد میں ایک چرچ پر حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تو امریکہ نے پاکستان میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کر دی۔ صرف ضروری عملہ ہی اسلام آباد کے سفارتخانے یا کراچی جیسے قونصل خانے پر تعینات تھا کہ 14 جون کو یہ خودکُش حملہ ہوا۔

ایک امریکی اہکار حملے کا نشانہ بننے والے قونصل خانے کے سامنے جائے وقوعہ کا دورہ کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک امریکی اہکار حملے کا نشانہ بننے والے قونصل خانے کے سامنے جائے وقوعہ کا دورہ کر رہا ہے

امریکی قونصل خانے پر حملہ کیسے ہوا؟

امریکی قونصل خانہ عبداللّہ ہارون روڈ پر واقع تھا۔ اس کی ایک جانب سٹیٹ گیسٹ ہاؤس اور دوسری جانب ہوٹل میریٹ جبکہ عین سامنے فریئر ہال اور سندھ کلب واقع تھے۔

عقب میں وزیر اعلیٰ سندھ کی سرکاری رہائش گاہ اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کا سرکاری مہمان خانہ ’قصرِ ناز‘ واقع تھے۔

عینی شاہدین (نے مجھے اُس وقت جو بتایا) اور بی بی سی کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق حملہ آور، جو ایک سفید سوزوکی ہائی روف گاڑی میں سوار تھا، نے 11 بجے کے لگ بھگ قونصل خانے کی دیوار کے عین سامنے قائم حفاظتی چوکی کے قریب پہنچتے ہی خود کو گاڑی سمیت دھماکے سے اُڑا دیا۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دو پولیس اہلکاروں اور دو سکیورٹی گارڈز سمیت کم از کم آٹھ افراد تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ 45 افراد شدید زخمی ہوئے۔

مرنے والوں کی لاشیں ٹکڑوں اور چیھتڑوں میں بٹ گئیں اور یہ انسانی اعضا سڑک کے دونوں جانب یہاں تک کے فریئر ہال کے سبزہ زار میں جا گرے۔ کچھ باقیات فٹ پاتھ اور سڑک پر بکھر گئیں۔ دھماکہ ہوتے ہی سڑک پر موجود بچ جانے والے افراد شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ افراتفری سے سڑک پر چلتی کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں اور اس سے بھی کئی افراد زخمی ہوئے۔

دھماکے سے سڑک پر قریباً 10 فُٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا اور دھماکے کی گونج میلوں دور تک سنی گئی۔

ایک گاڑی میں سوار ایک ڈرائیونگ سکول کی تین زیر تربیت طالبات اور اُن کی انسٹرکٹر سمیت جو لوگ بھی ہلاک ہوئے، یہ سب پاکستانی تھے۔

15 جون 2002 کی نیویارک ٹائمز کی اشاعت کے مطابق اسلام آباد کے امریکی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملے میں قونصل خانے کے بھی چھ ملازمین زخمی ہوئے جن میں سے صرف ایک امریکی شہری تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق (اس وقت کراچی پولیس کے سربراہ) ڈی آئی جی طارق جمیل نے بتایا کہ حملے میں جو دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے وہ قونصل خانے کی حفاظت پر تعینات تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور اعضا 200 گز دور تک جا گرے۔

حملے میں قریب کھڑی 20 سے زائد دیگر گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحملے میں قریب کھڑی 20 سے زائد دیگر گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں

فریئر ہال کے قریب تعینات ایک نجی سکیورٹی گارڈ شریف اجنبی نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی اینڈ پریس (اے پی) کو بتایا تھا کہ ’ایک زخمی شخص کا اُڑتا ہوا بدن ہوا میں دکھائی دیا پھر میرے بالکل قریب آ گرا مگر اس سے پہلے کہ ہم اُسے پانی یا طبی امداد دے سکتے، وہ دم توڑ گیا۔‘

عینی شاہدین نے اے پی کو یہ بھی بتایا کہ حملہ ہوتے ہی امریکی ’میرینز‘ نے قونصل خانے پر حفاظتی پوزیشنز سنبھال لیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان مارک وینٹ ورتھ کا کہنا تھا کہ دھماکہ قونصل خانے کی دیوار سے محض 50 فٹ کے فاصلے پر ہوا اور قونصل خانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکے سے آس پاس کیا سراسیمگی پھیلی یہ جاننے کے لیے آپ کو میرے ساتھ واپس قونصل خانے سے چند سو گز دور جیو نیوز کی تربیت گاہ تک چلنا پڑے گا۔

ہوٹل آواری ٹاورز میں کیا ہوا؟

اُس روز ہم پہلی بار ’کیمرہ‘ پڑھ رہے تھے اور تربیت گاہ کے مرکزی حال میں ٹرائی پوڈز پر درجنوں کیمرے ایک ساتھ کھلے ہوئے تھے کہ معمول کے مطابق گیارہ بجے چائے کا وقفہ ہوا تو مرکز کے مختلف گوشوں سے نکل کر قریباً سب ہی لوگ ہوٹل کے بیرونی حصّے پر آ کھڑے ہوئے۔

جیو نیوز ٹی وی پر عوام کے سامنے آنے والا سب سے ’پہلا چہرہ‘ ندا فاطمہ کا تھا جو اب ندا فاطمہ سمیر ہو چکی ہیں اور امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہو کر واشنگٹن میں مقیم ہیں۔

چائے کے اس وقفے میں ندا، ساتھی صحافی (اور اب معروف اینکر) عاصمہ شیرازی اور میں اپنے برطانوی (سکاٹش) تربیت کار رچرڈ گوزلن سے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک فضا ہولناک دھماکے سے لرز اٹھی۔

گونج ایسی تھی کہ چند لمحوں کے لیے تو کان سُننے کی صلاحیّت سے ہی محروم ہو گئے۔

دھماکہ ہوتے ہی میں نے ندا کے ہاتھ میں پکڑی چائے کی پیالی ہوا میں اچھلتے دیکھی اور وہ خود سیڑھیوں سے لڑھک کر نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔

اب عاصمہ شیرازی کے چہرے پر بھی حیرت، پریشانی اور صدمے کے ملے جُلے تاثرات تھے جبکہ رچرڈ کی شکل پر شدید خوف، تشویش اور گھبراہٹ عیاں تھی۔

چند ثانیوں تک تو ہم سب سکتے کی سی کیفیت میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہوا کیا ہے؟

حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی میت ہسپتال میں لائی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی میت ہسپتال میں لائی گئی

ندا فاطمہ آج بھی اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے لہجے میں دبے خوف کو چھپا نہیں سکتیں۔ ’ذہن ماؤف ہو گیا تھا۔ دھماکہ اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا۔ دھماکہ ہمارے قریب نہیں ہوا تھا لیکن اُس کی شدّت دل ہلا دینے کے لیے کافی تھی۔ مجھے لگا کہ کسی نے ہمارے کان پر ہی بم پھاڑ دیا۔‘

’میں بالکل سیڑھیوں کے آغاز پر کھڑی تھی۔ پہلے میرے ہاتھ سے چائے کا کپ ہوا میں اچھلا اور پھر میں خود سیڑھیوں پر لڑھکتی چلی گئی۔ گرنے سے چوٹ بھی لگی ہوگی مگر پہلا خیال یہی آیا تھا کہ یہ حملہ ہم پر ہی ہوا ہے کیونکہ ہمارے ساتھ امریکی و برطانوی صحافی کھڑے ہیں اور انھیں نشانہ بنانے کی کارروائی ہوئی ہے۔‘

’ہوش و حواس بحال ہوئے تو میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ پہلی نظر ایڈا ( ایک اور برطانوی تربیت کار) پر پڑی جو ہوٹل کی عمارت کی جانب بھاگتی نظر آئیں۔ میں سمجھی کہ وہ پناہ کی تلاش میں ہیں۔ کسی نے چیخ کر ایڈا کو ہوٹل کی عمارت میں داخل ہونے سے روکنا چاہا بھی مگر ایڈا کا بچہ اوپر ہوٹل میں تھا اور دھماکے کے بعد ممتا کے ہاتھوں مجبور ایڈا بچّے کی فکر میں حواس باختہ تھیں۔‘

عاصمہ شیرازی بھی اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’دھماکہ ہوتے ہی ندا گری تو میں دہل کر رہ گئی۔ بچ جانے پر بھی یقین ہی نہیں آیا کہ ہم بچ گئے۔ آپ تو کرائم رپورٹر تھے مگر ہم کو تو کوئی تجربہ تھا ہی نہیں۔ عمارت کا وہ فلور جہاں ہم تھے۔۔ کانپ سا گیا۔‘

ندا فاطمہ اور عاصمہ شیرازی کی طرح مجھے اور وہاں موجود تمام پاکستانی ساتھیوں کو بھی پہلا خیال یہی آیا تھا کہ یہ حملہ اُن غیر ملکی صحافیوں پر ہی کیا گیا ہے جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

اچانک مجھے یاد آیا کہ اوپر درجنوں کیمرے بالکل تیار ہیں، میں نے چیخ کر قریب کھڑے محبوب احمد کو آواز دی کہ ’کیمرہ۔۔۔ کیمرہ لے کر آئیں پلیز۔‘

محبوب احمد پہلے دن سے جیو نیوز کے چیف کیمرہ مین تھے۔ جیو نیوز سے وابستہ ہونے سے پہلے ہی وہ بھی میری طرح درجنوں دھماکے کور کر چکے تھے۔

اسی افراتفری میں بھی ہم دونوں نیچے اتر کر زیب النِسا سٹریٹ پر پہنچ گئے۔

محبوب احمد یاد کرتے ہیں کہ ’ہر طرف انسانی لاشیں اور کٹے پھٹے انسانی اعضا نظر آنے شروع ہوئے۔ کسی کا دھڑ پیڑ پر لٹکا تھا کسی کی لاش قونصل خانے کی عمارت کے سامنے پڑی تھی۔ کوئی لاش دھماکے کے اثر سے اُڑ کر سامنے فرئیر ہال کے سبزہ زار پر جا گری تھی۔ ہمارے علاوہ وہاں تب کوئی بھی تھا۔ خوف سے ٹریفک معطل ہو چکا تھا اور اگر کوئی پیدل راہگیر بچ بھی گیا تھا تو وہاں سے جا چکا تھا۔ پورے علاقے پر سنّاٹے کا راج تھا۔‘

ابھی میں اور محبوب اس حالت میں کیمرہ اور فریم درست کر کے جو کچھ نظر آیا اُسے ریکارڈ کر ہی رہے تھے کہ میں نے کراچی پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی کراچی طارق جمیل کی گاڑی آتے دیکھی۔

بطور کرائم رپورٹر اور پولیس افسر ہم دونوں کئی برس سے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے دوستانہ مراسم اور پیشہ وارانہ تعلقات رکھتے تھے۔ گاڑی سے اترتے ہی حیرت میں مبتلا طارق جمیل نے مجھے دیکھتے ہی پوچھا ’آپ مجھ سے پہلے یہاں کیسے پہنچے۔ کس نے اطلاع دی؟‘ میرے بتانے پر انھیں اندازہ ہوا کہ میں تو بہت ہی قریب تھا۔

حملے کے فوراً بعد کراچی پولیس کا سڑکوں پر ’پولیس مارچ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحملے کے فوراً بعد کراچی پولیس کا سڑکوں پر ’پولیس مارچ‘

’القانون‘ کا خط

حیرت انگیز طور پر خودکُش حملے کے فوراً بعد ایک غیر معروف گروہ ’القانون‘ نے میرے ہی اخبار ’دی نیوز‘ کو بھیجے گئے ہاتھ سے لکھے ایک نوٹ کے ذریعے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ ’امریکہ، اُس کے اتحادی اور اُن کے پاکستانی غلام مزید حملوں کے لیے تیار رہیں۔ یہ دھماکہ پاکستان میں القانون کی جہادی سرگرمیوں کا آغاز ہے۔‘

پاکستانی اور امریکی حُکّام نے اگرچہ اس ’خط‘ پر کافی سنجیدگی دکھائی مگر بعد میں حکام کی تفتیش سے پتا چلا کہ ’القانون‘ حکام کا گمراہ کرنے کی چال تھی۔ اصل حقائق اور ثابت شدہ تفصیلات وہ تھیں جو اس وقت آپ پڑھ رہے ہیں۔

حملہ آور کون تھے، منصوبہ کہاں بنا؟

پولیس ذرائع، ملزمان کو گرفتار اور اُن سے تفتیش کرنے والے افسران کی پس پردہ گفتگو اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کی تفتیش پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق کچھ ماہ قبل ہی ظہور میں آنے والی نئی شدت پسند تنظیم ’حرکت المجاہدین العالمی‘ سے تھا اور پانچ سرکردہ حملہ آوروں میں سے مرکزی منصوبہ ساز سمیت کم از کم تین ملزمان کے والد پاکستان کی فوج میں افسر تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک تفتیش کار نے مجھے بتایا کہ 'دو مرکزی حملہ آوروں کے والد نیوی میں افسر تھے اور تیسرے حملہ آور کے والد فوج میں افسر تھے۔‘

اس حملے کے اصل منصوبہ ساز کا نام سید سہیل اختر عرف مصطفیٰ تھا جو 6 اپریل 2004 میں گرفتار ہوا۔

قونصل خانے پر حملے کے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقونصل خانے پر حملے کے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے

سہیل 25 جولائی 1965 کو کراچی میں پیدا ہوا اور وہ دو بیٹوں کا باپ بھی تھا۔

جب سہیل نے کراچی کے ساحلی علاقے منوڑہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اُس وقت یہ گھرانہ نیوی افسران و اہلکاروں کی آبادی پی این ایس قاسم میں رہائش پذیر تھا اور والد کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) پر تعینات تھے۔

سہیل نے لیاری کے علاقے میں قائم کالج سے گریجویشن کی۔

سہیل کو گرفتار کرنے والے پولیس افسر فیاض خان کراچی پولیس میں ایس پی کے عہدے پر فائز رہے اور اس دوران سندھ پولیس کے شعبۂ انسداد دہشت گردی سے طویل عرصے تک منسلک رہنے کے بعد اب امریکہ میں مقیم ہیں۔

فیاض خان کے مطابق ’سہیل پہلے شدّت پسند گروہ ’الذوالفقار‘ کا رکن رہ چکا تھا۔‘

پاکستانی حکام ’الذوالفقار‘ کا تعلق میر مرتضیٰ بھٹّو اور پیپلز پارٹی سے جوڑتے رہے ہیں مگر پیپلز پارٹی اور میر مرتضیٰ بھٹّو دونوں ہی اُن الزامات کی ہمیشہ تردید کرتے رہے۔

ایس پی فیاض خان کے مطابق افغانستان میں امریکی جنگ کی بنا پر سہیل کے نظریات میں زبردست تبدیلی آئی اور وہ افغانستان میں پہلے سے موجود اپنے رابطوں کی مدد سے مذہبی انتہا پسند گروہوں سے جا ملا اور کئی تنظیموں اور گروہوں سے منسلک رہنے کے بعد کراچی واپس آیا تو دہشت گردی کا ماہر بن چکا تھا۔

’ہر قسم کے ہتھیاروں کے استعمال سے لے کر یوریا (یا کھاد سے) فرٹیلائزر بم بنانے کی مہارت رکھنے والے سہیل کو اُس کی انتہا پسند سوچ نے ہم خیال نوجوانوں کا گروہ تشکیل دینے میں مدد دی۔‘

سابق ایس پی فیاض خان کے مطابق گروہ میں شامل دوسرا ملزم نوید الحسن فوج کے ایک لیفٹینینٹ کرنل کا بیٹا تھا جو 15 نومبر 2004 کو گرفتار ہوا۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق 14 اپریل 1976 کو کوٹلی آزاد کشمیر میں آنکھ کھولنے والے نوید کے شناختی کاغذات میں لاہور کا عارضی پتہ بھی درج تھا۔

نوید الحسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننوید الحسن

تعلیم کے بعد سنہ 1999 میں وہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ایک کمپنی میں ٹرینی اکاؤنٹینٹ رہا اور سنہ 2002 میں سٹاک ایکسچینج میں بھی کام کرتا رہا۔

تفتیشی دستاویزات کے مطابق ابتدا میں وہ بھی پیپلز پارٹی کا حامی یا کارکن رہا۔ (مگر پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے کسی دعوے کی تصدیق ممکن نہیں)۔

شروع سے ہی مذہب سے گہری دلچپسی کی بنا پر نماز کی باقاعدہ ادائیگی کے لیے وہ محلّے کی مسجد میں آتا جاتا رہا جہاں اُس کی ملاقات شدّت پسند تنظیم ’حرکت الانصار‘ کے ایک کماندڑ سے ہوئی جنھوں نے اُسے جہاد کے موضوع پر انڈیا میں اسیر رہنے والے مولانا مسعود اظہر کے خطابات پر مبنی آڈیو کیسٹس دیں جن سے متاثر ہو کر نوید حرکت الانصار سے وابستہ ہو گیا۔

فروری سنہ 1994 میں وہ قبائلی علاقے میران شاہ اور پھر وہاں سے خوست (افغانستان) جا پہنچا جہاں ناظم آباد کراچی کے رہائشی ’استاد حنیف‘ (عرف ایّوب) نے انھیں دہشتگردی کی تربیت کے دوران ہر قسم کے ہتھیار راکٹ اور اینٹی ٹینک مائنز وغیرہ کا استعمال بھی سکھایا لیکن تربیت مکمل کر کے نوید کچھ ہی ماہ بعد کراچی واپس آ گیا اور جہاد کے متعلق بیانات سننے کے لیے مستقلاً شیر شاہ کے علاقے میں واقع ایک مسجد آتا جاتا رہا۔

سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس دوران نوید نے سنہ 1996 میں پاکستان کی فوج میں شمولیت کے لیے پی ایم اے لانگ کورس میں داخلے کی بھی کوشش کی۔ وہ کراچی میں انٹرویو اور تحریری امتحان میں تو کامیاب ہو گیا لیکن کوہاٹ میں فوج میں شمولیت کے امتحان ISSB) ) میں کامیاب نہ ہو سکا۔

سنہ 1997 میں اُس نے پاکستان کی بحری فوج (نیوی) میں شمولیت کے لیے بھی کوشش کی مگر یہاں بھی ناکام رہا۔

’جہادِ کشمیر‘ اور ’شہادت‘ کے شوق میں نوید سنہ 1997 میں 15000 روپے چندہ لے کر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم شدّت پسند تنظیم ’حرکت المجاہدین‘ کے اس کیمپ جا پہنچا جو (اُس وقت) صوبۂ سرحد کے علاقے مانسہرہ میں قائم تھا مگر اُسے کشمیر نہیں بھیجا گیا۔

سنہ 2001 میں نوید ( ملازمت سے کمائے ہوئے) 30,000 روپے لے کر پھر افغانستان پہنچا اور یہ رقم اپنے ساتھیوں (استاد حنیف عرف ایّوب) کو دی اور کچھ دن بگرام کے ’محاذ‘ پر رہنے کے بعد وہ پھر واپس کراچی آ گیا۔

استاد حنیف المعروف ایوب (دائیں)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناستاد حنیف المعروف ایوب (دائیں) کو دوسرے ملزم کے ہمراہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے لایا جا رہا ہے

دستاویزات کے مطابق تیسرے ملزم شیخ محمد کامران عرف عاطف کا تعلق بھی کراچی سے تھا۔ 26 مئی 2004 کو گرفتار ہونے والا کامران نارتھ کراچی کا مکین تھا۔ کامران نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ 17 اپریل 1975 کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پیدا ہوا اور چار بھائیوں اور پانچ بہنوں کا بھائی ہے۔

انھوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ نسیم حجازی کے ’تاریخی‘ ناول اور اسلامی تاریخ کے بارے میں دیگر قصّے کہانیوں کی کتابوں نے اُسے ’جہاد‘ پر مائل کیا اور ’ہم خیال‘ لوگوں سے قریب ہوتے ہوتے وہ حرکت المجاہدین میں شامل ہو گیا۔ تنظیم کی وساطت سے سنہ 1993 میں وہ ’جہاد‘ کی 40 روزہ تربیت کے لیے افغانستان چلا گیا۔

تربیت مکمل کر کے وہ کشمیر جانے کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے والد کوٹلی جا پہنچے اور اُسے زبردستی وہاں سے اپنے گھر کراچی واپس لے آئے۔

حُکّام اور دستاویزات کے مطابق چوتھا ملزم آصف ظہیر تھا جسے 28 اکتوبر سنہ 2014 کو گرفتار کیا گیا۔ آصف راولپنڈی میں پیدا ہوا اور نویں جماعت تک تعلیم حاصل کر کے وہ حرکت الانصار سے منسلک ہوا اور اسی برس ’جہاد‘ کے لیے افغانستان چلا گیا جہاں اُس نے راکٹ اور دستی سمیت کئی ہتھیار و گولہ بارود کے استعمال کی تربیت حاصل کی۔

تین چار ماہ بعد وہ پاکستان واپس آیا مگر سنہ 1996 میں ’جہاد‘ کے شوق میں کشمیر جا پہنچا۔

ڈیڑھ برس تک کشمیر میں مسلّح کارروائیوں میں شرکت کے بعد سنہ 1997 میں پھر افغانستان پہنچا اور وہاں سنہ 1999 تک ’جہاد‘ کی کارروائیوں میں شریک رہا جہاں ایک راکٹ حملے کے دوران اُس کی ٹانگ زخمی ہوئی۔

سنہ 1999 میں اُس کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا مگر وہ اپنی کارروائیوں کی وجہ سے گھر کم ہی آیا کرتا تھا۔ دوران تفتیش اس نے بتایا کہ سنہ 1999 میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہ موٹر سائیکل چلا کر ایک گراؤنڈ میں پہنچا جہاں اُس کے ساتھ آنے والے ساتھیوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر پروڈیوسر عون محمد رضوی کو (شیعہ ہونے کی وجہ سے فرقہ وارانہ ٹارگٹ شوٹنگ میں) گولی مار قتل کر دیا۔

واردات کے بعد وہ پھر افغانستان چلا گیا اور اس بار وہاں بم بنانے کی مہارت حاصل کی۔

دستاویزات اور تفتیش کے مطابق پانچواں ملزم ظفر اقبال یکم جون سنہ 1972 کو منوڑہ کراچی میں پاکستان نیوی کے ایک افسر کے گھر میں پیدا ہوا۔ سنہ 1991 میں یہ خاندان نیول کالونی منتقل ہوا جہاں ایک مقامی مسجد میں درس ہوا کرتا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب انڈیا میں بابری مسجد ڈھائی گئی۔ درس کے دوران اس کی ملاقات سرگرم شدّت پسند سے ہوئی اور بالآخر وہ بھی جہادی گروہ میں شامل ہو کر پہلے بنوں پھر قبائلی علاقے میران شاہ اور آخر کار خوست افغانستان جا پہنچا جہاں اُسے 40 روز تک مختلف ہتھیار چلانا سکھائے گئے۔

تجزیہ کاروں کی پسِ پردہ گفتگو اور اُس وقت کے ذرائع ابلاغ کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے ماحول میں جب سنہ 1996 میں افغانستان میں طالبان کو عروج حاصل ہو رہا تھا تو پاکستان میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر گلی محلّے کی مساجد میں ’جہاد‘ کے بارے میں شدّت پسند رہنما کھلے عام درس دے کر نوجوانوں کو لبھا رہے تھے۔

اس کیس کی تفیش کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے والے سابق ایس پی فیاض خان کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہFayyaz Khan

،تصویر کا کیپشناس کیس کی تفیش کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے والے سابق ایس پی فیاض خان کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا تھا

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’جب جنرل مشرف نے افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی حامی بھری تو خود پاکستانی افواج میں ایسے عناصر اُن کے خلاف ہو گئے تھے جو برسوں تک افغانستان اور کشمیر میں جہادی حلقوں کی ’آبیاری‘ کرتے رہے تھے۔‘

ایسے میں پنجاب اور کراچی میں الگ الگ شدّت پسند گروہوں سے تعلق اور انتہا پسند سوچ رکھنے یا عسکریت پسندوں کی حمایت پر آمادہ ہو جانے والے یہ مختلف گروہ اور ان کے اراکین ایک دوسرے کے ساتھ ’نظریاتی اتحاد‘ میں جڑتے چلے گئے۔

ایس پی فیاض خان کا کہنا ہے کہ مختلف اوقات میں کراچی کے مختلف علاقوں شدّت پسند تنظیموں کے اجلاس باقاعدگی سے بڑے منظم انداز میں منعقد ہوتے جہاں یہ سب ایک دوسرے سے رابطے میں آ جانے کے ساتھ ساتھ مختلف ’عسکریت پسند گروہوں‘ کا حصّہ بنتے چلے گئے۔

’پھر الگ الگ کشمیر اور افغانستان میں سرگرم رہنے والے یہ ملزمان بھی مقامی طور پر مساجد، ’جہادی درس‘ اور نظریاتی ہم آہنگی کی بنا پر ’کراس پلیٹ فارم‘ (یعنی تنظیمی سطح سے بالاتر ہو کر) حکمت عملی اپناتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ اگرچہ اُن گروہوں میں چندے اور طریقۂ کار کے معاملات پر بالائی سطح پر تو اختلافات رہے تھے مگر پورے ماحول کے اثرات کی وجہ سے ’مقصد‘ آگے آ گیا اور تنظیمی وابستگی پیچھے رہ گئی۔

اُن سب نے اپنے اپنے طور پر چھوٹے مگر زیادہ فعال اور خطرناک گروہ تشکیل دیے۔

’جس گروہ نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا اُن میں کچھ اور ملزمان مثلاً شارب ارسلان فاروقی اور محمد جمیل عثمان جیسے لوگ بھی شامل ہوتے گئے اور انھیں جوڑنے کا زیادہ تر کام کیا سہیل نے جو ان سب سے زیادہ 'تجربہ کار، اور زیرک تھا۔‘

ملزم کامران نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس گروہ میں عمران کو امیر اور استاد حنیف عرف ایوب کو کمانڈر مقرر کیا گیا جبکہ شارب ارسلان فاروقی، زبیر، جمیل میمن اور دیگر بھی شامل ہوئے۔

مگر اس گروہ نے صرف امریکی قونصل خانے پر ہی حملہ نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے کراچی کے ہوائی اڈے پر کھڑے امریکی طیاروں کو راکٹ سے اُڑانے، پھر فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم سے اُڑانے کی ناکام کوششیں بھی کیں۔

ان میں سے کچھ افراد 8 مئی سنہ 2002 کو ہوٹل شیرٹن پر اُس حملے میں بھی ملوث رہے جس میں 11 فرانسیسی انجینیئرز مارے گئے۔

امریکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

منصوبہ کیسے بنا؟

دستاویزات کے مطابق قونصل خانے پر حملے کی منصوبہ بندی کراچی کے علاقے ناظم آباد میں انکوائری آفس کے قریب واقع ایک ملزم محمد خضر جمال کے فلیٹ پر ہوئی۔

خضر جمال نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے الیکڑیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور دھماکوں میں استعمال ہونے والے ڈیٹونیٹرز اور دیگر برقی آلات کا ماہر تھا۔

اجلاس میں طے ہوا کہ قونصل خانے پر حملے کے لیے وہی سفید سوزوکی کیری استعمال کی جائے گی جو 22 (یا 23) اپریل 2002 کو شاہراہ فیصل پر فلک ناز آرکیڈ کے پاس کھڑی کر کے جنرل مشرف پر ناکام حملے کی کوشش کی گئی تھی۔ وہ حملہ ریموٹ کے کام نہ کر پانے کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا۔

ہدایات کے مطابق نوید نے شاہراہ فیصل سے گاڑی واپس لاکر گلشن اقبال میں عاطف کے حوالے کی۔ سہیل نے حملے کے لیے کھاد سے بنا فرٹیلائزر بم بنانے کے لیے آصف ظہیر کی مدد لی جس نے 250 بوری یوسف کی مدد سے حاصل کی۔

طے ہوا کہ یہ گاڑی پہلے شارب ارسلان فاروقی کے حوالے کی جائے گی جو ریڈی میڈ وائرنگ کے ذریعے بلاسٹ (دھماکہ) کرنے کا سرکٹ مکمل کر کے گاڑی کامران کے حوالے کرے گا اور کامران سرکٹ گاڑی میں نصب کرے گا۔

تقریباً 800 کلوگرام وزنی فرٹیلائزر کو کئی ڈیٹونیٹرز کے ذریعے دھماکہ خیز مواد میں بدل دیا گیا۔ لیکن یہ سرکٹ ایسا تھا کہ کوئی خودکُش بمبار ہی استعمال کر سکتا تھا۔

چونکہ کوئی خودکُش بمبار ’دستیاب‘ نہیں تھا لہٰذا اس مقصد کے لیے سہیل نے آصف ظہیر سے خودکُش بمبار بن جانے کو کہا۔ آصف کے انکار پر سہیل نے ظفر سے رابطہ کیا۔ ظفر کا ایک دوست ناصر بلوچ اس گروہ کو ’خودکُش بمبار دلوانے‘ پر آمادہ ہوا اور ظفر کو ’ایک پٹھان لڑکے‘ عبدالحمید سے ملوایا۔

ظفر نے سہیل کو عبدالحمید کے بارے میں بتایا تو سہیل نے کہا کہ پہلے چیک کر لو کہ عبدالحمید گاڑی چلانا بھی جانتا ہے یا نہیں۔

جس پر ظفر عبدالحمید کو لے کر لی مارکیٹ کلری گراؤنڈ کے سامنے سیما ویو کے پاس پہنچا اور عبدالحمید سے 15-20 منٹ گاڑی چلوا کر دیکھی۔

تین دن بعد سہیل نے ظفر کو فلیٹ پر بلوایا اور موٹر سائیکل پر بٹھا کر امریکی قونصل خانہ دکھایا اور بتایا کہ یہ عمارت ہے جسے اُڑانا ہے۔

ظفر نے ناصر بلوچ کو جاکر ٹارگٹ (قونصل خانے) کے بارے میں بتایا کہ وہ عبدالحمید کو سمجھا دے۔

یہ بھی پڑھیے

حملہ کیسے ہوا؟

پولیس رپورٹ کے مطابق تیسرے دن (13 جون 2002) کی شام کو سہیل نے گاڑی (سوزوکی کیری) کی چابی ظفر کو دی اور کہا کہ جاؤ لڑکے (خودکُش بمبار) کو تیار کرو۔

’سہیل نے ظفر کو ہدایت کی کہ چابی ناصر کو دے دینا اور اُسے صبح سوک سینٹر گلشن اقبال سے نیشنل سٹیڈیم کی جانب جانے والے راستے پر بلواؤ اور کہنا کہ سروس روڈ پر رُک جائے۔ وہیں (حملے میں استعمال ہونے ہونے والی) گاڑی بھی آ جائے گی۔ ناصر سے کہنا کہ اس چابی سے وہ گاڑی سٹارٹ کر لے اور بیٹری کے ٹرمینل سے سرخ تار کو سرخ اور سیاہ تار کو سیاہ تار سے جوڑ دے۔ پھر سیدھے ہاتھ پر لگا نیلا سوئچ آن کر لے اور جب ٹارگٹ پر پہنچ جائے تو الٹے ہاتھ والا سوئچ آن کرنا ہوگا تاکہ دھماکہ ہو جائے۔‘

ظفر نے یہ سب کچھ ناصر کو سمجھا دیا۔ ادھر کامران نے گاڑی ’تیار‘ کر کے گلشن اقبال سوک سینٹر کے پاس سہیل اور شارب کے حوالے کی۔

ملزم شارب کی گرفتاری میں مدد دینے پر 15 لاکھ کا انعام رکھا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملزم شارب کی گرفتاری میں مدد دینے پر 15 لاکھ کا انعام رکھا گیا تھا

دوسری جانب ظفر اقبال عبدالحمید کو موٹر سائیکل پر لے کر سوک سینٹر پہنچا۔

یہ سب کلفٹن میں تین تلوار کے قریب جاکر رُکے تو ناصر نے گاڑی سائیڈ پر روک لی۔ ظفر نے خودکُش بمبار عبدالحمید کو ناصر کے پاس بھیجا جس نے دھماکہ کرنے کا طریقہ عبدالحمید کو سمجھایا۔

عبدالحمید گاڑی لے کر قونصل خانے کی جانب چل پڑا اور ظفر ناصر کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا۔ تین تلوار سے ہوٹل میریاٹ کی جانب جانے والا پُل اتر کر ظفر اور ناصر اپنی موٹر سائیکل کو بائیں ہاتھ والی ’ہوشنگ روڈ‘ پر موڑ کر دوسری جانب سے کلفٹن فلائی اوور پر چڑھ گئے اور عبدالحمید سیدھا قونصل خانے پہنچا۔

جب ظفر اور ناصر آدھا فلائی اوور طے کر چکے تو پریشان ہوئے کہ ابھی تک دھماکہ کیوں نہیں ہوا ’کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گیا۔‘

ابھی یہ خیال آیا ہی تھا کہ عبدالحمید نے عین قونصل خانے کے سامنے پہنچ کر دھماکہ کر کے اپنی اور گیارہ پاکستانیوں کی جان لے لی۔

ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ ’اس ایک ہی واردات سے گلی محلے کے انتہا پسندوں نے جنوبی ایشیا سے شمالی امریکہ تک خوف پھیلا دیا۔‘

امریکی خبر رساں ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق دھماکے کے بعد (اس وقت کے) امریکی صدر بش کا فوری ردّعمل آیا اور انھوں نے حملے کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو ’ریڈیکل کلرز‘ قرار دیا۔

صدر بش نے کہا کہ ’امریکہ خودکُش حملوں سے خوفزدہ نہیں ہو گا۔ یہ لوگ، اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ایسے حملوں سے امریکہ کو خوفزدہ کر دیں گے تو وہ امریکہ کو جانتے ہی نہیں۔‘

قونصل خانے پر حملے کے قریباً تین گھنٹے بعد سی این این کی ویب سائٹ پر بتایا گیا کہ دھماکے سے صرف ایک روز قبل امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں تھے جو جنگ کے دہانے پر آ جانے والے ممالک یعنی پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحدوں پر فوجی کشیدگی کم کرانے کی کوشش میں پاکستان پہنچے تھے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پولیس حُکّام کا کہنا تھا کہ ’ایک ہفتے سے یہ خفیہ اطلاعات تو مل رہی تھیں کہ کوئی خودکُش حملہ ہو سکتا ہے مگر یہ کب اور کہاں ہو گا اس کا علم نہیں ہو سکا تھا۔‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق انڈیا کے (اُس وقت کے) وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کراچی میں دہشتگردی کی ایک اور کارروائی پر صدمہ و دکھ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان اری فلیشر کا کہنا تھا کہ کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس حملے کے پیچھے ’القاعدہ‘ کا ہاتھ ہے۔

ملزمان کیسے گرفتار ہوئے؟

دارالحکومت میں تعینات رہنے والے پاکستان کی فوج کے ایک سابق مگر بہت اعلیٰ سطحی افسر کے مطابق مشرف دور میں جب پاکستان خود دہشتگردی کا شکار بنا تو ’ریورس پالیسی‘ یعنی ’کلائمب ڈاؤن‘ ڈیزائن کی گئی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کراچی میں پوسٹ رہنے والے سندھ رینجرز کے ایک سابق افسر نے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد ’شدّت پسند حلقوں کے خلاف کریک ڈاؤن‘ شروع ہوا۔

سابق ایس پی فیاض خان کا کہنا ہے قونصل خانے پر حملے کے زیادہ تر ملزمان کو انھوں نے اپنی ٹیم یا دیگر حُکّام کی مدد سے گرفتار کیا۔

’شروع میں تو پولیس اس کام کے لیے تیار تھی نہ ہی صلاحیت رکھتی تھی۔ پھر ہم نے سیلف لرننگ سے سیکھا۔ ہم (پولیس اور دیگر اداروں) نے بھی وہی کراس پلیٹ فارم حکمت عملی اپنائی جو دہشتگرد استعمال کر رہے تھے۔ وہ بھی تو ایک تنظیم سے بمبار دوسری سے بم بنانے والا تیسری سے گاڑی میں فٹ کرنے والا لیتے تھے۔ کبھی لشکر جھنگوی جیسی فرقہ وارانہ تنظیمیں جہادی حلقوں کی مدد کرتیں تو کبھی القاعدہ اور طالبان اُن کو تعاون فراہم کرتے تھے۔‘

’پولیس نے بھی تمام اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ مدد و تعاون کا راستہ اپنایا۔ نوید کو گرفتار کرنے کے لیے میں خود اپنی ٹیم لے کر لاہور پہنچا۔ وہاں پنجاب پولیس کے سی آئی ڈی ڈیپارٹمنٹ میں ایک افسر میرے دوست تھے۔ اُن کی مدد سے نوید کو گرفتار کیا جو واہگہ بارڈر کے قریب اپنے بہنوئی کے ساتھ کپڑے کا ’کاروبار‘ کرنے لگا تھا۔‘

فیاض خان نے بتایا کہ ’کارروائی اتنی اچانک تھی کہ وہ مزاحمت کر ہی نہیں سکا۔ جتنی جلد ممکن ہوسکا ہم نے اُسے کراچی منتقل کر دیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’جب لیاری کے ایک پرانے مخبر سے مجھے ظفر اقبال کی کہیں موجودگی کی اطلاع ملی تو سب سے پہلے اُسے گرفتار کیا۔ سہیل کا پتہ ملا تو اُسے ٹریپ کر کے کراچی میں ایک مسجد پر بلوایا۔ آس پاس بڑی تعداد میں زبردست نفری لگائی۔ اُسے اندازہ نہیں تھا۔ تو اُس نے مزاحمت کرنا چاہی مگر ہم بہت زیادہ لوگ بھیس بدل کر وہیں تھے۔ جلد ہی قابو کر لیا۔ ورنہ اُس کے پاس اُس وقت بھی دستی بم تھا۔ کچھ بھی کر سکتا تھا۔‘

’دہشتگردوں کے ساتھ سلیپنگ سپورٹ بھی بہت تھی۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ ہر پیشے اور ہر شعبے میں اُن کے لوگ تھے۔ انجینیئرز، ڈاکٹرز تک۔ مثلاً ڈاکٹر ارشد وحید یا ڈاکٹر اکمل وحید دو بھائی تھے جو صدر مشرف پر حملے جیسی کارروائیوں میں ملوث رہے بلکہ خود رینجرز کا ایک حاضر سروس انسپکٹر بھی پکڑا گیا تھا اُسی دور میں جہادیوں کے مدد کے الزام میں۔‘

’یہ سب شدّت پسند گروہ بین الاقوامی رابطے رکھتے تھے۔ دوسرے ممالک سے مددگار آتے تھے۔ بہت خطرناک کھیل تھا پورے خطّے میں۔‘

’حالت یہ تھی کہ جب گرفتاری کے بعد سہیل سے تفتیش کے دوران پوچھا کہ امریکی قونصل خانے پر دہشتگردی سے تم کو کیا ملا ؟ مارے تو سب پاکستانی گئے۔ امریکہ کو تم نے کیا نقصان پہنچایا؟ تو اُس نے جواب دیا کہ جو پاکستانی اس حملے میں ہلاک ہوئے وہ سب ’شہید‘ ہیں اور جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔ تصوّر کیجیے، ذہنی حالت اور بھٹکی ہوئی سوچ کا۔‘

بی بی سی کی 18 نومبر 2004 کی انگریزی اشاعت کے مطابق نوید کی گرفتاری سے قبل عدالتوں سے دو ملزمان کو موت اور دو کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی تھی اور ایک ملزم کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔

لیکن فیاض خان کہتے ہیں کہ ’کسی سزا پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ماتحت (یا انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں سزا سنا بھی دیں تو بھی ہائیکورٹ اور اعلیٰ عدالتوں سے ملزمان کا عدم ثبوت یا کمزور استغاثہ کی بنیاد پر ضمانت مل جاتی ہے۔‘