پیٹرول کی قیمت میں اضافہ: سندھ اور خیبر پختونخوا میں وزرا اور افسران کے پیٹرول الاؤنس میں کمی

بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی کے افسران کو دیے جانے والے پیٹرول الاؤنس میں چالیس فیصد کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی صوبائی وزرا اور مشیران کا پیٹرول الاؤنس چالیس فیصد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم کے ایم سی کی سروسز وہیکل کے پیٹرول میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ جمعرات کو پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے بعد جمعے کو پاکستان میں سوشل میڈیا پر سرکاری افسران اور سیاستدانوں کو حاصل مراعات میں کمی کے مطالبے کیے جا رہے ہیں اور ’مفت‘ پیٹرول کے حوالے سے ایک ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام مہنگائی کی شرح اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے، پوری قوم کو کفایت شعاری کو فروغ دینا ہوگا۔‘

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بھی کہا کہ پیٹرول مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ خزانے پر مزید نھیں پڑنا چاہیے اور خزانے پر بوجھ کا مقصد عوام پر بوجھ ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے اپنے سمیت تمام وزراء اور سندھ حکومت کے افسران کا پیٹرول 40 فیصد کم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 40 فیصد پیٹرول کوٹا کی کمی سے خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا بلکہ کچھ کم ہوگا۔

دوسری طرف وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی عوامی مفاد میں سرکاری اداروں میں پٹرولیم مصنوعات کے اخراجات پر 35 فیصد کٹ لگا دیا۔

جمعے کو وزیرِ اعلیٰ کے سیکریٹیریٹ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کٹوتی فوری طور پر لاگو ہو گی۔

صوبائی حکومت کا بیان

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کو اس قابل بنائے گا کہ وہ تیل کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے اقتصادی دباؤ کو برداشت کر سکے۔

پاکستان میں تیل کی مصنوعات کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں پر اس وقت ملک میں سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ عوام کے لیے ریلیف کا کوئی جلد از جلد حل نکالا جائے۔ کہنے کو تو موجودہ حکومت بھی یہی کہہ رہی ہے لیکن حقیقت میں ہو اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ اسی لیے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے اور ہر کوئی یہی کہہ رہا ہے کہ سب سے پہلے حکومت کے موجودہ اور ریٹائرڈ افسران کو ملنے والی اس طرح کی مراعات کو ختم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیئے

صحافی اور جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے اپنی ایک ٹویٹ شیئر کی جس میں انھوں نے لکھا کہ ’سندھ اور کے پی کے کی حکومتوں کے بعد وفاقی حکومت نے بھی کابینہ کے اراکین کے پیٹرول کی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ پتہ نہیں پنجاب حکومت کیوں ابھی تک سوئی ہوئی ہے۔ کفایت شعاری کے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کو ٹیگ کر کے مزید لکھا کہ یہ اقدامات تیزی سے اٹھانے چاہیئں۔ ’آہستہ فیصلے کرنے کا آپشن نہیں ہے‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق وزیر چوہدری فواد حسین نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’حکومت کے وزراء، جج صاحبان، اعلیٰ فوجی اور سول افسران قوم سے یکجہتی دکھائیں اور اپنے پیٹرول الاؤنسز معطل کر دیں۔ جب تک قیمتیں واپس نہیں آتیں اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگ عوام کی تکلیف میں حصہ دار بنیں، علامتی طور پر عوام کے ساتھ نظر تو آئیں، آپ کے دورے ہی ختم نہیں ہو رہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک صارف کامران حیات نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں پاکستانی ہونے کے ناطے مطالبہ کرتا ہوں تمام ایم این اے اور ایم پی اے کا مفت پیٹرول بند کیا جائے اور ان سے تمام مراعات واپس لی جائیں۔‘

اگرچہ یہ پیٹرول کے سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا لیکن پاکستان میں جرمنی کے سفیر برن ہارڈ شلیک ہیک کے ٹویٹ کو بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے تناظر ہی میں لیا گیا۔

جرمن سفیر نے ٹویٹ کیا کہ وہ چند دن بعد ریٹائر ہونے والے ہیں اور پاکستان میں اپنی روزمرہ سائیکلنگ اور اس دوران بہت سے مقامی لوگوں سے اپنی ملاقاتیں وہ یاد رکھیں گے۔ جرمن سفیر نے یہ بھی لکھا کہ سائیکلنگ کے یقینی طور پر بہت سے فوائد ہیں اور امید کرتا ہوں ایک دن یہ پاکستان میں بھی اتنی ہی مقبول ہوگی جتنی یہ جرمنی میں ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

ایک صارف عمر فاروق نے جرمن سفیر کے ٹویٹ کے نیچے کمنٹس میں طنزاً لکھا کہ ’بالکل، پیٹرول کے ریٹس دیکھتے ہوئے یقینی طور پہ کہا جا سکتا ہے کہ جلد ہی پاکستان سائیکل کے استعمال میں جرمنی کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔‘

لیکن بہت سے صارفین نے اتنی کمر توڑ مہنگائی میں بھی اپنی حس مزاح نہیں متاثر ہونے دی۔ ایک صارف ایمن صدیقی نے اپنا غصہ مزاح کی صورت میں نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد میں نے پتھر بن جانا ہے۔ ٹھوکریں کھا کھا کر دفتر پہنچ ہی جاؤں گی۔‘

ماہو بلی نامی صارف نے لکھا کہ ’اوئے پیٹرول، میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

آئی این سید کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک صارف نے اپنے ٹویٹ میں ایک بہت ہی سادہ حل پیش کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’اگر پیٹرول مہنگا کرنا اتنا ضروری ہے تو پھر بوجھ عوام پر ہی کیوں ڈالا جائے۔ وزیر، مشیر، سیاستدان، جنرل، کرنل، جج، آفیسرز کے بھی فری پیٹرول اور پروٹوکولز پر پابندی لگائی جائے صرف ایک مہینہ، اور ملکی خزانہ بھر جائے گا۔ عوام کیوں پستی رہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

سینیئر سول سرونٹ نامی ٹوئٹر ہیبنڈل سے ایک صارف نے ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے اقوام متحدہ کے ادارے UNDP کی ایک ریسرچ رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق ’پاکستان میں اشرافیہ کو 2600 ارب کی سالانہ سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس سبسڈی کو ختم کیا جانا چاہیے۔ عوام تو 70 سال سے قربانیاں دے رہے ہیں۔‘

دوسری طرف کئی صارف تحریکِ انصاف کے سابق رہنما فیصل ووڈا کا وہ بیان بھی ٹویٹ کر رہے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ قوم 200 روپے فی لیٹر بھی پیٹرول برداشت کر لے گی۔